دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabi ki Infiradi koshish | صحابی کی انفرادی کوشش

book_icon
صحابی کی انفرادی کوشش

جائے کہ یہ خود بخود دور ہو جائیں ۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا اُسَید بن حُضَیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب حضرت سَیِّدُنا اَسْعَد بِن زُرَارَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِن عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے غصے سے بھرے لہجے میں یہ فرمایا کہ ”تم دونوں یہاں کس لئے آئے ہو ؟ تمہیں ہمارے کمزوروں کو ورغلانے اور اپنے دین سے بہکانے کی اجازت کس نے دی ؟ اگر جان پیاری ہے تو اسی وقت یہاں سے چلے جاؤ ۔ “ تو اس وقت وہ اسلام کی حقانیت سے واقف نہ تھے ۔ پھر جب حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِن عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے میٹھے میٹھے لہجے میں انہیں حقیقت سے آگاہ کیا تو وہ مسلمان ہو گئے ۔

اعلی حضرت کی غیر مسلم پر اِنفرادی کوشش :

مولانا سید ایوب علی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ قبلِ ظہر حضرت استاذالعلما مولانا مولوی حکیم نعیم الدین مرادآبادی و حضرت مولانا مولوی رحم الٰہی (مدرس مدرسہ منظر الاسلام بریلی) رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھے کہ ایک آریہ (یعنی ہندو) آیا اور کہنے لگا : میرے چند سوالات ہیں ، اگر ان کے جوابات دے دئیے گئے تو میں اور میرے بیوی بچے سب مسلمان ہوجائیں گے ۔ چونکہ اذان ہو چکی تھی، نہ معلوم اس کے جوابات میں کتنا وقت صرف ہو گا ؟ یہ سوچ کر اعلیٰ حضرت قُدِّسَ  سِرُّہنے فرمایا : ہماری نماز کاوقت ہے ، ٹھہر جاؤ ، اس کے بعد جوسوال کروگے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  جواب دیا جائے گا ۔ وہ کہنے لگا : ایک سوال تویہی ہے کہ آپ کے یہاں عبادت کے پانچ وقت کیوں مقرر ہیں ؟ پرمیشر کی عبادت جتنی بھی کی جائے اچھا ہے ۔ مولانا نعیم الدین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : یہ اعتراض تو خود تمہارے اوپر بھی واردہوتاہے ۔ مولانا رحم الٰہی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : میرے پاس (تمہارے مذہب کی کتاب) ستیارتھ پرکاش مکان پر موجود ہے ، ابھی منگوا کر دکھا سکتا ہوں ۔

الغرض طے پایا کہ جب تک کتاب آئے ، نماز پڑھ لی جائے ، وہ آریہ اتنی دیر پھاٹک پر بیٹھا رہا ۔ نماز کے بعد اس نے مندرجہ ذیل سوالات پیش کئے :

٭…  قرآن تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوا ؟ ایک دم کیوں نہ آیا جبکہ وہ خدا کا کلام ہے ، خدا تو قادر تھا کہ ایک ساتھ اتار دیتا ۔

٭…  آپ کے نبی کو معراج کی رات خدا نے بلایا تو پھر انہیں دنیا میں واپس کیوں کیا ؟ وہ تواسے محبوب تھے ؟

٭…  عبادت پانچ وقت کے متعلق ستیارتھ پرکاش کی عبارت دیکھنا مشروط ہوئی ۔

مذکورہ بالا سوالات سن کر اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے فرمایا : میں تمہارے سوالوں کے جواب ابھی دیتا ہوں ، مگر تم نے جو وعدہ کیا ہے اس پر قائم رہو ۔ اس نے کہا : ہاں ! میں پھر کہتا ہوں کہ اگر میرے سوالات کے جوابات آپ نے معقول دے دئیے تو میں مسلمان ہو جاؤں گا اوربیوی بچوں کو بھی لا کر مسلمان کرا دوں گا ۔ جب خوب قول وقرار اورپختہ وعدہ کرا لیا توآپ نے فرمایا : پہلے سوال کا تو جواب یہ ہے کہ جو شے عین ضرورت کے وقت دستیاب ہوتی ہے ، اسکی وقعت دل میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو بتدریج (یعنی درجہ بدرجہ) نازل فرمایا ۔

پھر فرمایا : انسان بچہ کی صورت میں آتا ہے ، پھر جوان ہوتا ہے ، پھر بوڑھا، اللہ تعالیٰ تو قادر تھا بوڑھا ہی کیوں نہ پیدا فرمایا ؟

پھر فرمایا : انسان کھیتی کرتاہے ، پہلے پودا نکلتا ہے ، پھر کچھ عرصہ بعد اس میں بالی آتی ہے ، اس کے بعد دانہ برآمد ہوتا ہے ، وہ تو قادر تھا کہ ایک دم غلہ کیوں نہ پیدا فرمایا ۔

اس کے بعد ستیارتھ پرکاش آ گئی جس میں حسبِ ذیل عبارتیں موجود تھیں :

٭…  باب تیسرا (تعلیم) پندرہواں ہیڈنگ : ”اگنی ہوتر (یعنی پوجا) صبح شام دوہی وقت کرے ۔ “

٭…  باب چوتھا (خانہ داری) ۶۳ہیڈنگ : سندھیا (ہندوؤں کی صبح وشام کی عبادت) دوہی وقت کرنا چاہئے ۔

ان عبارات کوسن کر اس آریہ کے لئے قائل ہونے کے سوا چارہ ہی کیا تھا ؟ لہٰذا! اعتراف کرتے ہوئے معراج شریف والے سوال کا جواب چاہا ۔ اس کی نسبت اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے ارشاد فرمایا : اسے یوں سمجھو کہ ایک بادشاہ اپنی مملکت کے انتظام کے لئے ایک نائب مقرر کرتا ہے ، وہ صوبہ دار یانائب بادشاہ کے حسبِ منشا خدمات انجام دیتا ہے ، بادشاہ اس کی کارگزاریوں سے خوش ہو کر اپنے پاس بلاتا ہے اور انعام وخلعتِ فاخرہ عطا فرماتا ہے نہ یہ کہ اسے بلا کر معطل کر دیتا ہے اور اپنے پاس روک لیتا ہے ۔

یہ سن کر اس نے کہا کہ آپ نے میری پوری تشفی فرما دی اور میری سمجھ میں خوب آ گیا، میں ابھی جا کر بیوی اوربچوں کو لاتا ہوں اورخود مسلمان ہوتا ہوں ، ان کو بھی مسلمان کراتاہوں ۔ [1]

سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے کیسے پیارے انداز میں مخاطب کی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق اس کے اسلام کے متعلق شکوک و شبہات دور فرمائے کہ وہ اپنے بیوی بچوں سمیت مسلمان ہو گیا ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفرت ہو ۔ اور اے کاش! اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے صدقے ایسی گفتگو کا سلیقہ ہم سب کو بھی عطا ہو ۔

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (2) نیکی کی دَعْوَت کیسی ہے ؟

معاملہ فہمی کے حصول کے لیے دوسری اہم اور بنیادی شے یہ ہے کہ مبلغین اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کی پیش کردہ نیکی کی دعوت کیسی ہے ؟ لہٰذا انہیں چاہیے کہ اس سلسلے میں اسلام



[1]    حیات اعلیٰ حضرت، حصہ اوّل، ص۲۸۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن