30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک مرتبہ میں نے سونے کی انگوٹھی اور چھلے پہنے ہوئے تھے ، حسب ِدَستور جب ہاتھ دُھلوانے لگے تو فرمایا : ’’شہزادہ حضور! یہ انگوٹھی اور چھَلّے مجھے دے دیجئے !‘‘
میں نے اُتار کر دے دئیے اور بمبئی چلا گیا ۔ بمبئی سے مارہرہ شریف واپس آیا تو میری لڑکی فاطمہ نے کہا : ’’ابا حضور! بریلی شریف کے مولانا صاحب (یعنی اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ) کے یہاں سے پارسل آیا تھا، جس میں چھلے انگوٹھی اور ایک خط تھا جس میں یہ لکھا تھا : ’’شہزادی صاحبہ یہ دونوں طلائی اشیا آپ کی ہیں (کیونکہ مَردوں کو ان کا پہننا جائز نہیں ) ۔ ‘‘ [1]
مخاطب کی ذہنی صلاحیت کا خیال رکھنا :
مبلغین پر نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے مخاطب کی ذہنی صلاحیتوں کو مد نظر رکھنا بھی بہت ضروری ہے ، جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا اُسَید بن حُضَیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ بڑے عقلمند تھے لہٰذا جب حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے یہ فرمایا کہ ”میرے پاس بیٹھ کر میری بات سن لیجئے ! اگر سمجھ میں آجائے تو اسے مان لیجئے گا اور اگر پسند نہ آئے تو ہم آپ کو مجبور نہیں کریں گے بلکہ چلے جائیں گے ۔ “ تو انہوں نے سوچا اگر اس طرح معاملہ حل ہو سکتا ہے تو زیادہ بہتر ہے ، پس کلامِ الٰہی کے میٹھے میٹھے بول سنتے ہی سرِ تسلیم خم کر دیا ۔ جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : میری بیوی کے شکم سے ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو کالا ہے اور میرا ہم شکل نہیں ، اس لئے میرا خیال ہے کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے ۔ اعرابی کی یہ بات سن کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے دریافت فرمایا : هَلْ لَكَ مِنْ اِبِل ؟ کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں ؟ بولا : جی ہاں ! میرے پاس بہت زیادہ اونٹ ہیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا : فَمَا اَلْوَانُهَا ؟ ان کے رنگ کیسے ہیں ؟ بولا : ان کے رنگ سرخ ہیں ۔ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مزید پوچھا : کیا ان میں کچھ خاکی رنگ کے بھی ہیں ؟ عرض کی : جی ہاں ! کچھ اونٹ خاکی رنگ کے بھی ہیں ۔ دریافت فرمایا : فَاَ نّٰى اَتَاهَا ؟ وہ کہاں سے آئے یعنی سرخ اونٹوں کی نسل میں خاکی رنگ کے اونٹ کیسے اور کہاں سے پیدا ہو گئے ؟ عرض کی : یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے سرخ رنگ کے اونٹوں کے باپ داداؤں میں کوئی خاکی رنگ کا اونٹ رہا ہوگا ۔ اس کی رگ نے اس کو اپنے رنگ میں کھینچ لیا ہوگا ۔ اس لئے سرخ اونٹوں کا بچہ خاکی رنگ کا ہو گیا ۔ یہ سن کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اسی طرح ممکن ہے تمہارے باپ داداؤں میں بھی کوئی کالے رنگ کا ہوا ہو اور اس کی رگ نے تمہارے بچے کو کھینچ کر اپنے رنگ کا بنالیا ہو اور یہ بچہ اس کا ہم شکل ہو گیا ۔ [2]
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عمل سے بھی معلوم ہوا کہ گفتگو مخاطب کی ذِہنی صلاحیتوں کے مطابق ہو تو اثر رکھتی ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو بھی یہی درس دیا کرتے تھے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ اُمِرْنَا اَنْ نُّكَلِّمَ النَّاسَ عَلٰى قَدْرِ عُقُوْلِهِمْ یعنی ہمیں لوگوں کی عقلوں کے مطابق بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ [3]
مخاطب کی ذہنی صلاحیت کے مطابق اعلیٰ حضرت کی انفرادی کوشش :
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن نَماز کے بعد دہلی (ھند) کی ایک مسجدمیں مشغولِ وظیفہ تھے ۔ ایک صاحب آئے اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے قریب ہی نماز پڑھنے لگے ۔ جب تک قیام میں رہے مسجد کی دیوار کو دیکھتے رہے ، رُکوع میں بھی سر اُوپر اٹھاکر سامنے دیوار ہی کی طرف نظر رکھی ۔ جب وہ نماز سے فارِغ ہوئے تواس وقت تک اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت بھی اپنا وظیفہ مکمل کر چکے تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں اپنے پاس بلاکر شرعی مسئلہ سمجھایا کہ نماز میں کس کس حالت میں کہاں کہاں نگاہ ہونی چاہیے ۔ پھر فرمایا : بحالتِ رُکوع نگاہ پاؤں پر ہونی چاہیے ۔ یہ سنتے ہی وہ صاحب قابوسے باہر ہوگئے اورکہنے لگے : واہ صاحب! بڑے مولانا بنتے ہو، نماز میں قبلہ کی طرف منہ ہونا ضروری ہے اور تم میرا منہ قبلہ سے پھیرناچاہتے ہو! یہ سن کراعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے ان کی سمجھ کے مطابق کلام کرتے ہوئے فرمایا : پھر تو سجدے میں بھی پیشانی کے بجائے ٹھوڑی زمین پر لگائيے ! یہ حکمت بھراجملہ سن کر وہ بالکل خاموش ہوگئے اوران کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ قبلہ رُو ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اوّل تا آخر قبلہ کی طرف منہ کرکے دیوار کو دیکھا جائے ، بلکہ صحیح مسئلہ وہی ہے جو اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے بیان فرمایا ۔ [4]
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اعلیٰ حضرت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفرت ہو ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے مشہور مَقُولے کَلِّمُوا النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ عُقُوْلِھِمْ یعنی لوگوں سے ان کی عقلو ں کے مطابق کلام کرو ۔ پر عمل کرتے ہوئے جب ایک عام شخص سے اس کی عَقْل کے مطابق کلام کیا تو آپ کی زبان سے نکلے ہوئے حکمت بھرے ایک جملے نے بَرسَهَابرَس سے نماز میں غَلَطی کر نے والے کی لمحہ بھر میں اِصلاح فرما دی ۔ چنانچہ ”اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش“ کرنے والے مُبَلِّغِین کو چاہیے کہ اس مَدَنی پھول کو اپنے دل کے مَدَنی گلدستے میں سجا کر اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں ، ہفتہ وار اِجتماعات وغیرہ میں شرکت کروانے کے لئے اِنفرادی کوشش کریں ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کامیابی ان کے قدم چُومے گی ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مبلغین پر لازم ہے کہ اگر مخاطب کے ذہن میں کچھ شکوک و شبہات ہوں یا کوئی غلط فہمی ہو تو پہلے اس کی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق دلائل سے انہیں دور کیا جائے یا اندازِ گفتگو ایسا اختیا ر کیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع