دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabi ki Infiradi koshish | صحابی کی انفرادی کوشش

book_icon
صحابی کی انفرادی کوشش

کے بیانات و مدنی مذاکروں کو سننا بے حد مفید ہے ۔

معاملہ فہمی کے حصول کی صورتیں :

معاملہ فہمی سے مراد چونکہ یہ جاننا ہے کہ کس سے کیسی اور کیا بات کرنی ہے ؟ لہٰذا مبلغین پر لازم ہے کہ نیکی کی دعوت میں معاملہ فہمی کے ان دو بنیادی عناصر کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں :

(1) … مخاطب کون ہے ؟

(2) … نیکی کی دعوت کیسی ہے ؟ یعنی نیکی کی دعوت پیش کرنے سے پہلے خوب غور کر لیں کہ جن الفاظ سے نیکی کی دعوت پیش کر رہے ہیں وہ کیسے ہیں ۔

ان دو عناصر کی بنا پر مبلغین کو معاملہ فہمی کے حصول کے لیے جن باتوں پر عمل کرنا چاہئے آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں :

(1) … مُخَاطَب کون ہے ؟

مراد یہ ہے کہ آپ جس کو نیکی کی دعوت پیش کر رہے ہوں اس کی حیثیت و کیفیت اور قابلیت وغیرہ کو مد نظر رکھیں ۔

مخاطب کی طبیعت کا خیال رکھنا :

مخاطب کی طبیعت کا خیال رکھا جائے کہ کہیں اس کی طبیعت میں اس وقت چڑچڑا پن تو نہیں ؟ یا وہ اعتراض اور نکتہ چینی کی طرف مائل تو نہیں ؟ یا کہیں وہ غصے میں بھرا ہوا تو نہیں ؟ یا وہ غیر سنجیدہ تو نہیں ؟ کیونکہ ان حالتوں میں پیش کی گئی نیکی کی دعوت کے نتیجہ خیز ہونے کا امکان بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔

مخاطب اگر چڑچڑے پن کا شکار ہو یا اعتراض اور نکتہ چینی پر آمادہ ہو تو اس وقت مبلغ کے لیے بہتر یہ ہے کہ مناسب موقع کے انتظار میں فوراً وہاں سے ہٹ جائے اور جب کبھی کسی دوسرے موقع پر مخاطب انتشارِ ذہنی وغیرہ کا شکار نہ ہو تو اس وقت حق بات بیان کرنے میں دیر نہ کرے ۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸) وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(۶۹) (پ۷، الانعام : ۶۸، ۶۹)

 ترجمۂ کنز الایمان : اور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔ اور پرہیزگاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں ہاں نصیحت دینا شاید وہ باز آئیں ۔

مُفَسِّرِ شَھِیر، حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان تفسیرِ نعیمی میں ان آیاتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : اے مسلمان! جب تو ایسے لوگوں کو دیکھے جو آیاتِ قرآنیہ یا محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے معجزات یا حضور کی ذاتِ گرامی کا مذاق اڑانے ، دل لگی کرنے میں مشغول ہیں تَو تُو ان کے پاس نہ تو بیٹھ، نہ ان کی اس حرکت میں کسی طرح شرکت کر، نہ ان کی اس گفتگو کو رغبت سے سن، بلکہ یا انہیں اس حرکت سے روک دے یا وہاں سے چلا جا جب تک وہ یہ ذکر چھوڑ کر دوسری بات شروع نہ کر دیں تب تک ان سے دور رہ ۔ اگر کبھی تجھے شیطان ہمارا یہ حکم بھلا دے اور تُو بھول کر وہاں بیٹھ جائے تو ہماری یہ ممانعت یاد آ جانے پر فوراً وہاں سے ہٹ جا، ایک آن کے لیے اب وہاں نہ بیٹھ کہ وہ قوم ظالم ہے ، ان کے ساتھ نشست و برخاست کرنے والا بھی ظالم ہے ۔ ہاں ! جو مسلمان کسی وجہ سے وہاں بیٹھنے ، وہاں جانے پر مجبور ہوں تو ان کفار کا حساب ان مجبوروں سے نہ لیا جائے گا اور یہ مجبور مسلمان گنہگار نہ ہونگے مگر خیال رکھنا کہ مجبوری کا بہانہ نہ بنانا، دل سے ان کی طرف رغبت نہ کرنا بلکہ ایسی مجبوری میں بھی بقدرِ طاقت انہیں نصیحت کرنا، ان کے اس عمل کی برائی ظاہر کرنا اس امید پر کہ شاید یہ لوگ ان حرکتوں سے باز آ جائیں ، خدا توفیق دے تو مسلمان ہو جائیں اس صورت میں تجھے اجروثواب ملے گا ۔ [1]

مخاطب کی حیثیت و مرتبہ کا خیال رکھنا :

مخاطب کی حیثیت اور اس کے سیاسی و معاشرتی مقام و مرتبہ کو بھی ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہئے ، کیونکہ ایسے لوگ عزت افزائی کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں ۔ اگر مبلغ ان کے مقام و مرتبہ کو پیشِ نظر نہ رکھے گا تو ممکن ہے کہ شیطان اسے گمراہ کر دے اور حق بات سننے سے روک دے ۔ جیسا کہ حضرت سیدنا موسیٰ و ہارون عَلَیْہِمَا السَّلَام کو جب فرعون کی طرف بھیجا گیا تو نرم لب و لہجہ اختیا ر کرنے کی تاکید کی گئی ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا :

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ(۴۳) فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى(۴۴) (پ۱۶، طہ : ۴۳، ۴۴)

ترجمۂ کنز الایمان : دونوں فرعون کے پاس جاؤ بیشک اس نے سر اٹھایا ۔ تو اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے ۔

سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی اپنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی تربیت اسی اصول پر فرمائی اور فرمایا : اَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ یعنی لوگوں سے ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق سلوک کرو ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بنی عبد الاشہل کے سرداروں سے جب ان کے مقام و مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے نرم لہجے میں بات کی اور دینِ حق کی دعوت پیش کی تو وہ فوراً مسلمان ہو گئے ۔

لہٰذا پوری دنیا میں نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کے لیے مبلغین پر لازم ہے کہ اپنے مخاطب کے مقام و مرتبہ کا لحاظ رکھتے ہوئے بھرپور طریقے سے نیکی کی دعوت پیش کریں ۔ جیسا کہ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن کے متعلق مروی ہے کہ آپ مخاطب کے مقام و مرتبہ کا بہت زیادہ لحاظ فرمایا کرتے تھے ۔ جیسا کہ سجادہ نشیں سرکار کلاں مارہرہ شریف حضرت مہدی حَسَن میاں رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ میں جب بریلی شریف آتا تو اعلیٰ حضرت  خود کھانا لاتے اور ہاتھ دُھلاتے ۔



[1]    تفسیرِ نعیمی، ج۷، ص ۴۶۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن