30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے درودِ پاک کی یہ فضیلت نقل فرمائی ہے کہ مالکِ خلد و کوثر، شاہِ بحروبر، مدینے کے تاجور، انبیا کے سَروَر، رسولوں کے افسر، رسولِ انور، محبوبِ داوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ بخشش نشان ہے : اللہ 1 کی خاطر آپس میں مَحَبَّت رکھنے والے جب باہَم ملیں اور مُصافَحَہ کریں اور نبی (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) پر دُرُودِ پاک بھیجیں تو اُن کے جُدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گُناہ بخْش دئیے جاتے ہیں ۔ [1]
عرب شریف کے جو بے وَقعت ذرّے نورِ مصطفے ٰ سے منور ہو کر آسمانِ رُشد و ہدایت کے روشن ستارے بنے ان میں بنی عبد الدار کے ایک مُتَمَوَّل گھرانے میں پیدا ہونے والا وہ حسین و جمیل نوجوان بھی تھا جس کے پیدا ہوتے ہی مسرت و شادمانی نے گویا اس گھر میں ڈیرے ڈال لئے تھے ، ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں ، مال و دولت کی فراوانی تھی، والدین اپنے اس نورِ نظر کو دنیا کی ہر آسائش فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے ، ماں خناس بنت مالک اور باپ عمیر بن ہاشم کو اپنے لختِ جگر کے سوا کچھ سجھائی ہی نہ دیتا تھا ۔ ماں باپ کی آنکھوں کے اس نور نے ناز و نِعَم ( عیش و عشرت، لاڈ پیار) میں پل بڑھ کر جب جوانی کی حدود میں قدم رکھا تو ناز و اَدا کا عالم یہ تھا کہ جو دیکھتا بس دیکھتا رہ جاتا، اس لئے کہ اس دُرِّ نایاب [2]کا لبادہ ایسا ہوتا جو مکہ کے کسی فرد کا نہ ہوتا، خوشبو میں ایسے بسا ہوتا کہ جدھر سے گزرتا راہیں معطر ہو جاتیں اور گزرگاہیں بھی اس کے گزرنے کی گواہی دیتیں ۔ [3]
زندگی کے شب و روز عیش و عشرت کے گلستاں کی بہاروں سے خوب لطف اندوز ہوتے ہوئے گزر رہے تھے کہ ایک دن اچانک نازو نعم کے اس پَرْوَرْدَہ (پَر ۔ وَر ۔ دَہ، یعنی پلے ہوئے ) نوجوان کی سماعت و بصارت شدید متاثر ہوئی جب اس کی نگاہ عرب کے ماہِ مبین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پڑی اور اس کے کانوں میں پیغامِ الہٰی کی آواز تاثیر کا تیر بن کر پیوست ہو گئی ۔ ماہِ مبین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک ہی جھلک دیکھ کر اسے اپنی کم مائیگی ( کم حیثیت ہونے ) کا احساس ہوا اور اس کا حسن ماند پڑ گیا ۔ ایسا کیونکر نہ ہوتا کہ حضرت سیدنا حسان بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ماہِ مبین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حسن و جمال کا تذکرہ کرتے ہوئے کچھ یوں فرمایا : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !
وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِیْ
وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ
آپ سے بڑھ کر حسین آج تک میری آنکھوں نے دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ خوبصورت تو کسی عورت نے جنا ہی نہیں ۔
خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ
کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ
آپ ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے ہیں گویا کہ آپ کو آپ کی مرضی و منشا کے مطابق پیدا کیا گیا ہے ۔
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن نے بھی سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حسن و جمال کو ان الفاظ میں کیا خوب بیان کیا ہے :
حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زَناں
سر کٹاتے ہیں ترے نام پہ مردانِ عرب
پس یہ نوجوان فوراً دارِ ارقم میں مالک جنت، سراپا رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے دولتِ ایمان سے سرفراز ہو کر اپنا مقدر سنوار لیا ۔ پھر اپنے ایمان کی ضیاباریو ں (روشنیوں ) کو مزید دوام بخشنے کے لئے سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا لیا ۔ وہ نوجوان خوب جانتا تھا کہ جس معاشرے کا وہ حصہ ہے وہ کفر و شرک کی گہری دلدل میں غرق ہے لہٰذا جن لوگوں کے قلوب و اذہان ابھی تک نورِ اسلام سے منور نہیں ہوئے جب وہ دین حق کے حسن و کمال کو سمجھ نہ پائیں گے تو وہ اپنے ساتھ ساتھ اسے بھی بحرِ جہالت کی اَتھاہ گہرائیوں میں لے ڈوبیں گے ۔ اسی خوف کے پیشِ نظر اس نے دوسروں سے اپنا مسلمان ہونا مخفی رکھا اور چھپ چھپ کر درِ اقدس کی حاضری جاری رکھی ۔ [4]
ایک دن کسی [5]نے اس نوجوان کو بارگاہِ خداوندی میں سجدہ ریز دیکھا تو فوراً جا کر اس کے والدین کو خبر دی کہ ان کے بیٹے نے اپنا آبائی دین چھوڑ دیا ہے ۔ [6]والدین کی آنکھوں پر چونکہ کفر کی پٹی بندھی تھی اور دل شرک کے دبیز غلاف (موٹے پردے ) میں لپٹا ہوا تھا اور وہ طلوعِ سحر کی پر نور کرنوں کو دیکھنے اور دعوتِ حق سمجھنے سے بے بہرا تھے ، لہٰذا یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ بیٹے کی محبت میں اتنی آسانی سے اسلام کی حقانیت کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتے ؟ اور اگر ایسا کر بھی لیتے تو یقیناً انہیں رَؤسائے قریش (قریش کے سرداروں ) کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑتا ۔ چنانچہ والدین نے اپنے بیٹے کو قریش کی تکالیف سے بچانے کے لئے گھر میں ہی قید کر دیا کیونکہ وہ اس سے بے پناہ محبت کرتے تھے ، اور نہیں چاہتے تھے کہ کوئی ان کے بیٹے کو کسی قسم کی تکلیف پہنچائے ، اس لئے کہ وہ اس کے ماتھے کی شکن تک برداشت نہ کر سکتے تھے تو اسے خون میں لت پت کیسے دیکھ سکتے تھے ؟ یہ نوجوان ہی تو ان کی امیدوں کا سہارا اور آنکھوں کا تارا تھا، اس کی ایسی کونسی خواہش تھی جو انہوں نے پایۂ تکمیل تک نہ پہنچائی ہو ۔ یہ صبح بستر سے اٹھتا تو ماں اپنے لختِ جگر کے لئے من پسند ناشتہ اس کے اٹھنے سے پہلے اس کے سرہانے رکھ دیتی جس کی
[1] مسند ابی یعلٰی، الحدیث : ۲۹۵۱ ، ج۳، ص۹۵
[2] یعنی ایسا قیمتی موتی جو انتہائی کمیاب ہو، عام طور سے میسر نہ آئے یا جو بڑی زحمتوں سے دستیاب ہو
[3] الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الرقم ۳۵ مصعب الخیر، ج۳، ص۸۶
[4] الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الرقم ۳۵ مصعب الخیر، ج۳، ص۸۶
[5] یہ حضرت سیدنا عثمان بن طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے جنہوں نے ابھی تک اسلام قبول نہ کیا تھا ۔
[6] الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، الرقم ۲۵۶۲ مصعب بن عمیر، ج ۴، ص ۳۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع