30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن کی خدمت میں ایک بار جب ڈاک پیش کی گئی تو بعض خُطوط مُغَلَّظات (یعنی گندی گالیوں ) سے بھرپور تھے ۔ مُعتقِدین بَرہَم (غصّے ) ہوئے کہ ہم ان لوگوں کے خِلاف مُقَدّمہ دائر کریں گے ۔ تو امامِ اَھلسنَّت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے ارشاد فرمایا : ’’جو لوگ تعریفی خُطوط لکھتے ہیں پہلے ان کو جاگیریں تقسیم کرو، پھر گالیاں لکھنے والوں پر مُقَدّمہ دائر کرنا ۔ ‘‘ [1]یعنی جب تعریف کرنے والوں کو انعام نہیں دیتے تو بُرائی کرنے والوں سے بدلہ کیوں لیں !
احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی
خورشیدِ علم اُن کا درخشاں ہے آج بھی
دعوت اسلامی کے اِبتدائی ایّام کی بات ہے کہ جب شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بابُ المدینہ (کراچی) کی مختلف مساجد میں جا جاکر درس وبیان اور اِنفرادی کوشش کیا کرتے تھے ۔ اُس وقت امن وامان کی صورتحال حال آج (یعنی ۱۴۲۹ ھ، 2008) کے مقابلے میں بَہُت بہتر تھی ۔ ایک مرتبہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ رات گئے بس نہ ملنے کی وجہ سے پیدل ہی اپنے گھر (واقع موسیٰ لین) واپس آرہے تھے ۔ راہِ خدا کے اس سفر میں 2اسلامی بھائی بھی آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہمراہ تھے ۔ جب آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ٹاوَر (باب المدینہ کراچی کا ایک مشہور مقام) کے قریب پہنچے تو وہاں فٹ پاتھ پر چند نوجوان (جن کی وضع قطع شریفوں کی سی نہ تھی ) خوش گپیوں میں مشغول تھے ۔ اِن میں سے ایک کو شرارت سُوجھی اور اس نے پان کی پِیک امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کپڑوں پر تُھوک دی جس سے آپ کے کپڑے خراب ہوگئے ۔ یہ غیر اخلاقی حرکت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے شریکِ سفر اُن 2اسلامی بھائیوں کو سخت ناگوار گزری ۔ اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھ کر کچھ کرتے ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے انہیں روکتے ہوئے سرگوشی میں کچھ یوں اِرشاد فرمایا : یہی تو وقت ہے اِن پر اِنفرادی کوشش کرنے کا ۔
یہ کہہ کر آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اُس شرارتی نوجوان کے قریب پہنچے اور سلام کرنے کے بعد نہایت نرمی سے اِستِفسار فرمایا : پیارے بھائی! مجھ پر پان تھوک کر آپ کو کیا مِلا ؟ وہ نوجوان کہنے لگا : بس ہمیں مولویوں کو تنگ کرنے میں بہت مزہ آتا ہے ۔ اگر آپ کا دل اسی میں خوش ہوتا ہے تو لیجئے مزید پان تھوک دیجئے ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے نہایت ہی نرم لہجے میں یہ کہتے ہوئے ان کے سامنے اپنا دامن پھیلا دیا ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا حِلم اور شفقت بھرا لہجہ دیکھ کر اُن نوجوانوں کے سر شرم سے جُھک گئے ۔ انہوں نے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے اپنی غَلَطی کی معافی مانگی ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِنفرادی کوشش جاری رکھتے ہوئے مُسکرا کر اِرشاد فرمایا : میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یونہی معافی نہیں مل جائے گی، پہلے آپ کو میرے ساتھ چائے پینا ہوگی ۔ عطاؤں کی یہ برسات دیکھ کر وہ نوجوان اور بھی متأثر نظر آنے لگے اور آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ساتھ چائے بھی پی ۔ اِسی دوران امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے انہیں گُلزارِ حبیب مسجد (گلستانِ اوکاڑوی سولجر بازار، باب المدینہ کراچی) میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی ۔ ان نوجوانوں نے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی نہ صرف نیت کی بلکہ جمعرات کو اجتماع میں شرکت کے لئے گلزارِ حبیب مسجِد بھی جا پہنچے ۔
یہ دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ انہوں نے جسے عام سا شخص سمجھ کر ستایا تھا، وہی ہزاروں کے اجتماع میں بیان فرما رہے ہیں اور شرکائے اجتماع بڑی توجہ وعقیدت سے اس بیان کو سُن رہے ہیں ۔ انہوں نے قریب بیٹھے ہوئے اسلامی بھائی سے پوچھا کہ یہ بیان فرمانے والے کون ہیں ؟ اس نے انہیں بتایا : یہ دعوتِ اسلامی کے بانی حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہیں ۔ وہ نوجوان مزید متأثر ہوئے کہ یہ تو بہت بڑے عالمِ دین بھی ہیں ۔ بیان کے اِختتام پرجب امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے رِقّت انگیز دُعا مانگی تو اُن اسلامی بھائیوں نے بھی رورو کر اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ سے مغفرت کی بھیک مانگی ۔ صلوٰۃ وسلام کے بعد امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے خود آگے بڑھ کر اسلامی بھائیوں سے مُلاقات کرنا شروع کردی ۔ جب آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نظر اُن نوجوان اسلامی بھائیوں پر پڑی تو آگے بڑھ کرہر ایک کو اپنے سینے سے ایسا لگایا کہ وہ دن اور آج کا دن ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ وہ تمام اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں میں مصروف ہیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! مبلغ ہوتو امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ جیسا! اگر اُس نوجوان کی شرارت پر آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ غصّے میں آجاتے اور جھگڑا کرتے تو یہ مَدَنی نتائج نہ مل پاتے ۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ بالخصوص نیکی کی دعوت دیتے وقت کوئی کتنا ہی غصہ دِلائے کیسا ہی دل دُکھائے ، اپنی زبان ودل کو قابو میں رکھیں کیونکہ جب زبان بے قابوہو جاتی ہے تو بعض اوقات بنا بنایا کھیل بگڑ جاتا ہے ۔
ہے فلاح وکامرانی نرمی وآسانی میں
ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو ۔
٭… خود اعتمادی :
مبلغ مدینہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرتِ طیبہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ میں بلا کی خود اعتمادی تھی اور آپ سامنے والے کے منصب و شخصیت سے بالکل مرعوب نہ ہوتے تھے ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آپ نے قبیلہ بَنِی عَبد الاَشْھَل کے عقلمند و دانا سردار حضرت اسید بن حضیر کے بگڑے ہوئے تیور دیکھنے کے باوجود جب پراعتماد لہجے میں یہ فرمایا کہ ”میرے پاس بیٹھ کر میری بات سن لیجئے ! اگر سمجھ میں آجائے تو اسے مان لیجئے گا اور اگر پسند نہ آئے تو ہم آپ کو مجبور نہیں کریں گے بلکہ (یہاں سے ) چلے جائیں گے ۔ “ تو آپ کی اس نرم مزاجی اور خود اعتمادی نے ہی انہیں آپ کی بات سننے پر مجبور کر دیا تھا ۔ لہٰذا انفرادی کوشش کے لئے بالخصوص شخصیات سے ملاقات کرنے والے مبلغین کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع