دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabi ki Infiradi koshish | صحابی کی انفرادی کوشش

book_icon
صحابی کی انفرادی کوشش

طرح دھوپ برف کو پگھلا دیتی ہے ۔ [1]اور ایک روایت میں ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو تم اپنے اموال سے خوش نہیں کرسکتے لیکن تمہاری خندہ پیشانی اورخوش اخلاقی انہیں ضرور خوش کرسکتی ہیں ۔ [2]

نفرت محبت میں بدل گئی :

مبلغین کی ترغیب کے لیے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی حیاتِ طیبہ کا ایک واقعہ پیش خدمت ہے : دعوتِ اسلامی کے اوائل میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو ایک ہمسائے کے بارے میں پتا چلا کہ وہ آپ کو برا بھلا کہتا ہے اور اس نے آپ کی امامت میں نماز پڑھنا بھی چھوڑ دی ہے ۔ ایک دن وہ آپ کو اپنے دوست کے ساتھ سرِراہ مل گیا ۔ آپ نے اسے سلام کیا تو اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا ۔ لیکن آپ نے اس کی بے رخی کا کوئی اثر نہ لیا اور اس کے سامنے ہو کر مسکراتے ہوئے بڑی خندہ پیشانی سے کہا : بہت ناراض ہو بھائی ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے ساتھ ہی اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور گرم جوشی سے معانقہ کیا ۔ اس کے دوست کا کہنا ہے کہ وہ آپ کے جانے کے بعد کہنے لگا، عجیب آدمی ہیں ، میرے منہ پھیر لینے کے باوجود مجھے گلے لگا لیا، جب انہوں نے مجھے گلے لگایا تو یوں محسوس ہوا کہ دل کی ساری نفرت محبت میں بدل گئی، لہٰذا! میں مرید بنوں گا تو انہی کا بنوں گا ۔ پھر وہ اسلامی بھائی اپنے کہنے کے مطابق آپ کے مرید بھی بنے اور داڑھی شریف بھی چہرے پر سجا لی ۔

انجمن میں بھی میسر رہی خلوت اس کو

شمع محفل کی طرح سب سے جدا ، سب کا رفیق

مثل خورشید سحر فکر کی تابانی میں

بات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیق

اس کا انداز نظر اپنے زمانے سے جدا

اس کے احوال سے محرم نہیں پیرانِ طریق

٭… صبر و تحمل اور بردباری و درگزر :

حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیدنا اسید بن حضیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیدنا سعد بن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سخت کلامی پر جس صبر وتحمل اور بردباری و درگزر کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مبلغین کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا کیونکہ اگر نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے مبلغ کے ساتھ ناروا سلوک کیا جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ ایسے موقع پر حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرے ، یقیناً اس کا یہ عمل مخاطب کے دل میں نرم گوشہ پیدا کر دے گا اور اس کے بہترین نتائج برآمد ہوں گے ۔ چنانچہ، دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 98 صفحات پر مشتمل کتاب ”نیکی کی دعوت کے فضائل“ کے صفحہ 55 پر ہے : نیکی کی دعوت دینے والے کو صبر و اِستقلال والا ہونا چاہئے ۔ اللہ 1 نے حضرتِ سیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قول بیان کرتے ہوئے صبر کو نیکی کی دعوت کے ساتھ ملا دیا ہے ۔ چنانچہ، قرآنِ پاک میں ہے :

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ

ترجمۂ کنز الایمان : اے میرے بیٹے ! نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَؕ- (پ۲۱، لقمٰن : ۱۷)

بری بات سے منع کر اور جو افتاد (مصیبت) تجھ پر پڑے اس پر صبر کر ۔

صبر و تحمل کی اعلی مثال :

 ایک بزرگ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک تاجرکے پاس کھڑے ہو کر اسے نیکی کی دعوت دے رہے تھے اور اسے ایسے محلہ میں مسجدبنانے کے لئے صدقہ و خیرات کرنے پر اُبھار رہے تھے جہاں مسجدکی ضرورت تھی مگر اس نے بزرگ سے تعاوُن کرنے کے بجائے انہیں گالیاں دیں اور ان کے چہرے پر تھوکتے ہوئے کہا : ’’تم لوگ اپنے لئے مال جمع کرتے ہو اور صحیح مَصْرَف (یعنی خرچ کرنے کی جگہ) میں اِستعمال نہیں کرتے ۔ ‘‘ اس نیک شخص نے اپنے چہرے  سے تھوک صاف کرتے ہوئے کہا : ’’تم نے جو کچھ میرے ساتھ کیا میں نے اپنی ذات کے لئے اسے قبول کیا لیکن میں مسجد بنانے کے لئے فِیْ سَبِیْلِ اللہ تم سے سوال کر رہا ہوں ۔ ‘‘ یہ سن کر اسے ندامت وشرمندگی ہوئی اوراپنی تھیلی میں ہاتھ ڈال کر وافر مقدار میں مال نکالا اور اپنے فعل پر معذرت کرتے ہوئے وہ مال ان کے حوالے کر دیا ۔ اگر نیکی کی دعوت دینے والے بزرگ صبر وتحمل سے کام نہ لیتے اور تاجر کی طرف سے اذیت کو برداشت نہ کرتے توان سے معذرت نہ کی جاتی اورنہ ہی وہ چندہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ۔ [3]

بردباری و درگزر کی اعلی مثال :

اے کاش! ہمارے اندر یہ جذبہ پیدا ہوجائے کہ ہم اپنی ذات اور اپنے نفس کی خاطِر غُصّہ کرنا ہی چھوڑ دیں ۔ جیسا کہ ہمارے بُزُرگوں کا جذبہ تھا کہ کوئی ان سے کتنا ہی برا سلوک کرتا یہ ہمیشہ اس سے درگزر ہی فرماتے ۔ چُنانچِہ،

 



[1]     شعب الایمان ، باب فی حسن الخلق ، الحدیث : ۸۰۳۶، ج۶، ص۲۴۷

[2]      شعب الایمان ، الحدیث : ۸۰۵۴، ج۶، ص۲۵۳

[3]     نیکی کی دعوت کے فضائل، ص۵۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن