دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabi ki Infiradi koshish | صحابی کی انفرادی کوشش

book_icon
صحابی کی انفرادی کوشش

طالب کے پاس آئے اور یہ کہا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کی توہین کرتا ہے اس لئے یا تو آپ درمیان میں سے ہٹ جائیں اور اپنے بھتیجے کو ہمارے سپرد کر دیں یا پھر آپ بھی کھل کر ان کے ساتھ میدان میں نکل پڑیں تا کہ ہم دونوں میں سے ایک کا فیصلہ ہو جائے ۔ ابو طالب نے قریش کا تیور دیکھ کر سمجھ لیا کہ اب بہت ہی خطرناک اور نازک گھڑی سر پر آن پڑی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اب قریش برداشت نہیں کر سکتے اور میں اکیلا تمام قریش کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ ابو طالب نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو انتہائی مخلصانہ اور مشفقانہ لہجے میں سمجھایا کہ میرے پیارے بھتیجے ! اپنے بوڑھے چچا کی سفید داڑھی پر رحم کرو اور بڑھاپے میں مجھ پر اتنا بوجھ مت ڈالو کہ میں اٹھا نہ سکوں ۔ اب تک تو قریش کا بچہ بچہ میرا احترام کرتا تھا مگر آج قریش کے سرداروں کا لب و لہجہ اور ان کا تیور اس قدر بگڑا ہوا تھا کہ اب وہ مجھ پر اور تم پر تلوار اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے ۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ تم کچھ دنوں کے لئے دعوتِ اسلام موقوف کر دو ۔ اب تک حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ظاہری معین، مددگار جو کچھ بھی تھے وہ صرف اکیلے ابو طالب ہی تھے ۔

حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیکھا کہ اب ان کے قدم بھی اکھڑ رہے ہیں ، چچا کی گفتگو سن کر حضورِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھرائی ہوئی مگر جذبات سے بھری ہوئی آواز میں فرمایا کہ چچا جان! خدا کی قسم! اگر قریش میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند لا کر دے دیں تب بھی میں اپنے اس فرض سے باز نہ آؤں گا ۔ یا تو خدا اس کام کو پورا فرما دے گا یا میں خود دین اسلام پر نثار ہو جاؤں گا ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ جذباتی تقریر سن کر ابو طالب کا دل پسیج گیا اور وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کی ہاشمی رگوں کے خون کا قطرہ قطرہ بھتیجے کی محبت میں گرم ہو کر کھولنے لگا اور انتہائی جوش میں آ کر کہہ دیا کہ جانِ عم (چچا کی جان) ! جاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ جب تک میں زندہ ہوں کوئی تمہارا بال بیکا نہیں کر سکتا ۔ [1]

حصولِ استقامت کا ذریعہ :

مبلغین کو نیکی کی دعوت عام کرنے میں اخلاص کے ساتھ ساتھ برکت کا بھی متلاشی رہنا چاہئے اور برکت کے حصول کے لیے اکابرین کے دامن سے وابستہ رہنے سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ۔ جیسا کہ محسنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے : ”برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے ۔ “ [2]حضرت سیِّدُنا امام عبدالرء وف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیثِ پاک میں مختلف امور و حاجات میں تجربہ کار ہونے کی بنا پر بڑوں سے رجوع کر کے برکت حاصل کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔

بڑوں سے کون حضرات مراد ہیں اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ بڑوں سے مراد یا تو عمر رسیدہ حضرات ہیں تا کہ ان کے پاس بیٹھ کر ان کی زندگی بھر کے تجربات سے استفادہ کیا جا سکے یا پھر علمائے کرام مراد ہیں خواہ وہ کم عمر ہی ہوں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں جلالتِ علمی کے منصبِ عالی سے نوازا ہے لہٰذا ان کی تعظیم و توقیر بجا لانا بھی سب پر لازم ہے ۔ [3]

پس مبلغین پر لازم ہے کہ بزرگوں بالخصوص علمائے کرام کی صحبت و زیارت کے ذریعے اپنے مدنی کاموں کو برکتوں سے ہمکنار رکھیں ۔ اس سلسلے میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے طرزِ عمل سے کیا خوب رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے ۔

اَمیر اَہلسنّت اور عُلَمائے اہلسنّت :

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 87 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’ تعارفِ امیرِ اہلسنّت ‘‘ صَفْحَہ 56 پر ہے کہ اَمیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ علمائے اہلسنّت دَامَتْ فُیُوضُہم سے بے حد عقیدت و محبت رکھتے ہیں اور نہ صرف خود انکی تعظیم کرتے ہیں بلکہ اگر کوئی آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سامنے عُلَمائے اَہلسنّت دَامَتْ فُیُوضُہم کے بارے کوئی نازیبا کلِمہ کہہ دے تو اس پَرسخت ناراض ہوتے ہیں ۔ چنانچہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ایک جگہ تَحریر فرماتے ہیں کہ’’ اسلام میں عُلَمائے حق کی بَہُت زیادہ اَہمِیَّت ہے اور وہ علْمِ دین کے باعِث عوام سے افضل ہوتے ہیں ۔ غیر عالم کے مقابلے میں ان کو عبادت کا ثواب بھی زیادہ ملتا ہے ۔ ‘‘ جیسا کہ مَروی ہے : ’’عالم کی دو رَکْعَت غیرِ عالم کی ستّر رَکْعَتْ سے افضل ہے ۔ ‘‘[4]لہٰذا دعوتِ اسلامی کے تمام وابَستگان بلکہ ہر مسلمان کے لئے ضَروری ہے کہ وہ عُلَمائے اہلسنّت سے ہر گز نہ ٹکرائیں ، ان کے اَدب و اِحترام میں کوتاہی نہ کریں ، عُلَمائے اہلسنّت کی تَحقیر سے قَطْعاً گُرَیز کریں ، بِلا اجازتِ شرعی ان کے کردار اور عمل پر تنقید کر کے غیبت کا گناہِ کبیرہ، حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام نہ کریں ۔

حضرتِ سیِّدُنا ابو الحَفص الکبیر عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر فرماتے ہیں : ’’جس نے کسی عالِم کی غیبت کی تو قِیامت کے روز اُس کے چہرے پر لکھا ہو گا، یہ اللہ کی رَحْمت سے مایوس ہے ۔ ‘‘[5]ایک مکتوب میں لکھتے ہیں : ’’علما کو ہماری نہیں ، ہمیں علما دَامَتْ فُیُوضُہم کی ضرورت ہے ، یہ مَدَنی پھول ہر دعوتِ اسلامی والے کی نس نس میں رچ بس جائے ۔ ‘‘ ایک مرتبہ فرمایا : ’’علما کے قدموں سے ہٹے تو بھٹک جاؤ گے ۔ ‘‘ [6]

٭… اغیار کی پیروی سے اجتناب :

حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیاتِ طیبہ سے یہ درس بھی ملتا ہے کہ مبلغین کو کبھی اسلام کے عطا کردہ اسلوبِ دعوت سے منہ موڑ کر اغیار کی پیروی نہ کرنی چاہیے ۔



[1]     السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ، مباداۃ رسول اللہ ، الجزء الاول، ص۲۵۲، ملخصاً

[2]     المستدرک، کتاب الایمان، باب البرکۃ مع الاکابر، الحدیث : ۲۱۸، ج۱، ص۲۳۸

[3]     فیض القدیر ، تحت الحدیث : ۳۲۰۵، ج۳، ص۲۸۷

[4]     کنزالعُمّال، کتاب العلم ، الباب الاول، الحدیث : ۲۸۷۸۳، ج۵، الجزء العاشر،  ص ۶۷

[5]     مکاشفۃ القلوب ، ص ۷۱

[6]     تعارف امیر اھلسنت، ص  ۵۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن