30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی آپ ساقی کوثر، محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دستِ اقدس سے بحرِ توحید کے بھرے ہوئے جام پی کر جن لذتوں سے آشنا ہوئے تھے ، انہوں نے آپ کے دل میں یہ تڑپ پیدا کر دی تھی کہ اے کاش! ہر کوئی اسلام کی دعوتِ عام پر لبیک کہہ کر یہ ابدی و سرمدی نعمتیں پا لے ۔
نیکی کی دعوت اور امیرِ اہلسنت :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جن مبلغین نے حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرتِ طیبہ کا یہ حسین پہلو اپنایا ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا ہوا ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ لکھا جاتا رہے گا ۔ چنانچہ،
ان ناموں میں ایک نام پندرھویں صدی کی عظیم علمی وروحانی شخصیت شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی ہیں ۔ آج دعوتِ اسلامی کے اس لہلہاتے چمنستان کی آبیاری میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی انفرادی کوشش کا سب سے بڑا عمل دخل ہے ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک جگہ بیٹھ کر لوگوں کے اس تحریک میں شامل ہونے کا انتظار نہیں کیا بلکہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت میں سرشار اپنے میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری امت کو آقا کی محبت کے جام پلانے کے لیے گھر گھر، قریہ قریہ اور بستی بستی جاکر نیکی کی دعوت پیش کی ۔
نیکی کی دعوت عام کرنے کے لیے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کے اِتِّباع میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ راہِ خدا میں سفر کرتے ۔ دن میں بسا اوقات ایک سے زائد مرتبہ بیانات کرتے اور بسوں ، ٹرینوں میں سفر کر کے مسجد مسجد، گاؤں گاؤں ، شہر شہر خود تشریف لے جاتے ۔ بابُ المدینہ (کراچی) میں آپ کے کھانے کا Tiffen اکثر ساتھ ہوتا یہاں تک کہ عام طور پر ہر جگہ نمک کی ڈِبیا بلکہ عموماً اپنا پانی تک ساتھ رکھتے کہ کسی سے سُوال نہ کرنا پڑے ۔ اوائل میں اکثر ایسا ہوتا کہ گھر واپَس آتے وقت بس آدھے راستے میں اُتار دیتی، رکشہ یا ٹیکسی کا کرایہ ادا کرنے کی استطاعت نہ ہونے کے سبب آدھی رات کے وقت پانچ یا چھ کلومیٹر پیدل چل کر گھر آنا پڑتا ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نیکی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ مریضوں کی عیادت کرتے ، دور ونزدیک جا جا کر جنازوں میں شرکت فرماتے اور غمی وخوشی کے مواقع پر مسلمانوں کی ایسی دلجوئی فرماتے کہ وہ بھی بِفَضْلِہٖ تَعَالٰی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔ یہ آپ کی کوششوں کا ہی فیضان ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک عاشقانِ رسول کے سُنّتوں کی تربیت کے بے شمار مَدَنی قافلے مُلک بہ مُلک شہر بہ شہر اور قریہ بہ قریہ 3دن، 12دن، 30دن بلکہ 12اور 26ماہ کے لئے بھی سفر کر کے علمِ دین اور سُنّتوں کی بہاریں لُٹا رہے ہیں اور نیکی کی دعوت کی دھومیں مچا رہے ہیں ۔
کئی خوش نصیب اسلامی بھائی اپنے گھر بار کے حقوق نبھاتے ہوئے دعوت اسلامی کے لیے وقف ہو چکے ہیں اور ہر وقت مدنی قافلوں میں سفر کرتے رہتے ہیں ۔ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہر اسلامی بھائی کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ زندگی میں یکمشت 12 ماہ، ہر 12 ماہ میں 30 دن اور ہر ماہ جدول کے مطابق تین دن کے مدنی قافلے میں سفر کرے ۔ عموماً مدنی قافلے دعوتِ اسلامی کے مدنی مراکز اور ہفتہ وار اجتماعات والی مساجد سے سفر کرتے ہیں ، ایک قافلے میں شرکاکی تعداد کم از کم سات اور زیادہ سے زیادہ 12 ہوتی ہے ۔ مزید معلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’نیک بننے اور بنانے کے طریقے ‘‘ کا مطالعہ کیجئے ۔
اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں
اے دعوتِ اسلامی تری دھوم مچی ہو!
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
٭… نیکی کی دعوت میں استقامت :
مدینہ منورہ کے پہلے مبلغ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نیکی کی دعوت عام کرنے کے جذبے سے یہ درس بھی ملتا ہے کہ نیکی کی دعوت کے لئے کوئی جگہ یا وقت مخصوص نہیں ، بلکہ مبلغ ہر جگہ ہر وقت مبلغ ہے ، لہٰذا چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے ، گھر ہو یا بازار، مسجد ہو یا مزار، کھیت ہو یا گلزار، صحرا ہو یا لالہ زار، مبلغین کو حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرت کو اپناتے ہوئے مستقل مزاجی سے ہر جگہ ہر گھڑی نیکی کی دعوت کے لئے کوشش کرتے رہنا چاہئے ۔ بعض اسلامی بھائی بیماری، گھریلو یا معاشی آزمائش آنے پر بسا اوقات مدنی کاموں کی سعادت سے خود کو محروم کر دیتے ہیں ۔ انہیں چاہیے کہ مصائب وآلام کے عالَم میں بزرگانِ دین کی مشکلات اور ان کی استقامت کو یاد فرما لیا کریں ۔ جیسا کہ مدینہ شریف میں حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہودکی ریشہ دوانیوں اور اوس و خزرج کی آپس میں دشمنی کے باوجود بڑی استقامت و مستقل مزاجی سے نیکی کی دعوت عام کی کیونکہ ان کے سامنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی استقامت و مستقل مزاجی تھی ۔ چنانچہ،
ایک ہاتھ پر سور ج دوسرے پرچاند :
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 862 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’ سیرتِ مصطفے ٰ‘‘ صَفْحَہ 124 پر ہے : قریش کے چند معزز رؤسا (سردار) ابوطالب کے پاس آئے اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوتِ اسلام اور بت پرستی کے خلاف تقریروں کی شکایت کی ۔ ابو طالب نے نہایت نرمی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھا بجھا کر رخصت کر دیا لیکن حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خدا کے فرمان ( فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ) [1]کی تعمیل کرتے ہوئے عَلَی الْاِعْلَان شرک و بت پرستی کی مذمت اور دعوتِ توحید کا وعظ فرماتے ہی رہے ۔ اس لئے قریش کا غصہ پھر بھڑک اٹھا ۔ چنانچہ تمام سردارانِ قریش یعنی عتبہ و شیبہ و ابو سفیان و عاص بن ہشام و ابو جہل و ولید بن مغیرہ و عاص بن وائل وغیرہ وغیرہ سب ایک ساتھ مل کر ابو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع