30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مروی ہے کہ ایک شخص حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’اے ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ! میں چاہتا ہوں کہ نیکی کی دعوت دوں اوربرائی سے منع کروں ۔ ‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا : ’’کیا تم (اپنی اِصلاح کرنے میں ) حد کمال کوپہنچ چکے ہو ؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’اُمید ہے ۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’اگر تمہیں قرآنِ پاک کے تین حروف کی وجہ سے رُسوا ہونے کا خوف نہ ہو تویہ کام کرو ۔ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’وہ حروف کون سے ہیں ؟ ‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت ِ مبارکہ :
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ (پ۱، البقرۃ : ۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان : کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو ۔
تلاوت کرنے کے بعد اس سے پوچھا : ’’کیا تمہیں اس آیت کا حکم معلوم ہے ؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’نہیں ۔ ‘‘ پھر اس نے عرض کی : ’’دوسرا حرف کون سا ہے ؟ ‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت کی :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۲) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۳) (پ۲۸، الصف : ۲، ۳)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے ۔ کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو ۔
پھر فرمایا : ’’اس آیت کا حکم جانتے ہو ؟ ‘‘ عرض کی : ’’نہیں ۔ ‘‘ پھر اس نے عرض کی : ’’تیسرا حرف کون سا ہے ؟ ‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی حضرتِ سیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کا قول ہے (جو قرآنِ پاک میں مذکور ہے ) ۔ ‘‘ چنانچہ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُؕ (پ۱۲، ھود : ۸۸)
ترجمۂ کنز الایمان : اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اس کے خلاف کرنے لگوں ۔
اسے تلاوت کرنے کے بعدارشادفرمایا : ’’کیااس آیت کے حکم سے آگاہ ہو ؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’نہیں ۔ ‘‘توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :
’’اپنے آپ سے (نیکی کی دعوت کی) اِبتدا کرو ۔ ‘‘ [1]
پیارے اِسلامی بھائیو! نیکی کی دعوت عام کرنے کے لیے حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح اپنے میٹھے میٹھے آقا کی سنتوں کے پیکر بن جائیے ورنہ آپ کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکیں گے ۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
یَا اَیُّھَا الرَّجُلُ الْمُعَلِّمُ غَیْرَہُ
ھَلَّا لِنَفْسِکَ کَانَ ذَا التَّعْلِیْم
ترجمہ : اے دوسرے کوتعلیم دینے والے تونے اپنے آپ کوتعلیم کیوں نہ دی ؟
تَصِفُ الدَّوَاءَ لِذِی السِّقَامِ وَذِی الضَّنَا
وَمِنَ الضَّنَا وَالدَّاءِ اَنْتَ سَقِیْم
ترجمہ : تو دوسرے بیماروں کے لئے دوا تجویزکرتاہے حالانکہ توخودبیمارہے ۔
اِبْدَاْ بِنَفْسِکَ فَانْھَھَا عَنْ غَیِّھَا
فَاِذَا انْتَھَتْ عَنْہُ فَاَنْتَ حَکِیْم
ترجمہ : اپنے نفس سے ابتداکر اسے سرکشی سے منع کراگر یہ سرکشی سے باز آگیا توتُوصاحب ِ حکمت ہے ۔
فَھُنَاکَ یُقْبَلُ مَا وَعَظْتَ وَیُقْتَدٰی
بِالْعِلْمِ مِنْکَ وَیَنْفَعُ التَّعْلِیْم
ترجمہ : پھرتیری نصیحت قبول کی جائے گی تیرے علم کی اقتداکی جائے گی اورتیراسمجھانا فائدہ دے گا ۔
فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے نزدیک نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے والے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ جس کی دعوت دے رہا ہے کامل طور پر اس پر عمل کرنے والا ہو اور جس سے منع کر رہا ہے مکمل طور پر اس سے بچنے والا بھی ہو ۔ کیونکہ اس پردوچیزیں لازم ہیں :
(۱) …خود کو نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا ۔
(۲) …دوسروں کو نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا ۔
اگردونوں میں سے کسی ایک میں سستی کر رہا ہو تو دوسرے میں کوتاہی کرنا جائز نہیں ۔ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے والے کے لئے یہ شرط نہیں کہ وہ تمام گناہوں سے محفوظ بھی ہو کیونکہ اس شرط کو لازم قرار دینے سے نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کا دروازہ ہی بند ہو جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’اگر نیکی کی دعوت دینے اوربرائی سے منع کرنے والے کے لئے یہ ضروری ہوکہ وہ ہربرائی سے مُبَرَّا اور ہر اچھائی سے مُزَیَّن ہو تو پھر نہ تو کوئی نیکی کی دعوت دینے والا ہوگااورنہ ہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع