30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ(۲۰) (پ۲۵، الشوریٰ : ۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان : جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصّہ نہیں ۔
لہٰذا چاہیے کہ ہمیشہ رضائے ربّ الانام کو پیشِ نظر رکھیں اور کبھی بھی دنیا و دنیاداروں کی خاطر اپنی آخرت برباد نہ کریں ۔ چنانچہ،
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے متعلق منقول ہے کہ وہ یہاں تک اخلاص کی کوشش کرتے کہ ہمیشہ جماعت کی صف ِ اول میں شامل ہوتے ، ایک دن اتفاقًا آخری صف میں کھڑے ہوئے تو دل میں خیال آیا کہ آج لوگ مجھے آخری صف میں دیکھ کر کیا کہیں گے ۔ یہ سوچ کر دل ہی دل میں شرمندہ ہوئے مگر اس کے ساتھ ہی فوراً خود سے کہنے لگے : گویا کہ میں نے جتنی نمازیں پہلی صف میں پڑھیں لوگوں کے دکھاوے کے لئے تھیں ۔ پس اس خیال کے آتے ہی 30 سال کی نمازیں قضا کرنا شروع کر دیں ۔ [1]
ایک طویل حدیث ِ پاک میں ہے کہ بروزِ قیامت ایک ایسا شخص بارگاہِ خداوندی میں لایا جائے گا جس نے دنیا میں عِلْم سیکھا سکھایا اور قرآن کریم پڑھا ہو گا ۔ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کر لے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے دریافت فرمائے گا : ’’تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کِیا ؟ ‘‘ وہ عرض کرے گا : ’’میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے لئے قرآنِ کریم پڑھا ۔ ‘‘ لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا : ’’تُو جھوٹا ہے تو نے علم اِس لئے سیکھا کہ تجھے عالِم کہا جائے اور قرآنِ کریم اس لئے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا ۔ ‘‘ پھر اُسے جہنم میں ڈالنے کا حکم ہو گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ [2]
٭… علم وعمل کا پیکر :
ایک مبلغ پر لازم ہے کہ وہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح باعمل عالم ہو کیونکہ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مدینہ منورہ کے مبلغ کے طور پر انتخاب کی ایک وجہ ان کا علم بھی تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ مُقْرِیٔ مدینہ (مدینہ منورہ والوں کو قرآنِ کریم پڑھانے والے ) کے لقب سے جانے جاتے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ انصارِ مدینہ کو قرآنِ کریم سکھانے کے ساتھ ساتھ اس کے احکام پر عمل بھی کر کے دکھایا کرتے تھے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے ! علم بغیر عمل کے فائدہ نہیں دیتا ۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحِیْم نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’اے میرے لخت ِ جگر! جس طرح کھیت پانی اور مٹی کے بغیر درست نہیں ہو سکتا، اسی طرح ایمان، علم و عمل کے بغیر درست نہیں رہ سکتا ۔ ‘‘[3]اور ایک مرتبہ حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے ارشاد فرمایا : ’’شیطان بعض اوقات تم سے علم میں سبقت لے جاتا ہے ۔ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! وہ علم میں ہم سے کیسے بڑھ سکتا ہے ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’وہ کہتا ہے علم حاصل کرو لیکن اس پر اس وقت تک عمل مت کرو جب تک کہ عالم نہ بن جاؤ، علم کے حصول میں یہی کہتا رہتا ہے اور عمل کے سلسلے میں ٹال مٹول سے کام لیتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی عمل نہیں کیا ہوتا ۔ ‘‘[4]
منقول ہے کہ علم عمل کو پکارتا ہے اگر عمل اس کی پکار پر لَبَّیْک (میں حاضر ہوں ) کہے تو علم رک جاتا ہے ورنہ کوچ کر جاتا ہے ۔ [5]
بے عملی کے متعلق تین احادیثِ مبارکہ :
(1) … قیامت کے دن ایک شخص کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو اس کے پیٹ کی آنتیں نکل پڑیں گی، وہ اس طرح چکر کھائے گاجس طرح گدھا چکی کے ساتھ گھومتا ہے ، اس پر تمام دوزخی جمع ہوکر کہیں گے : ’’اے فلاں !تجھے کیا ہوا ؟ کیا تو لوگوں کو نیکی کی دعوت نہیں دیتا تھا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا ؟ ‘‘ وہ کہے گا : ’’ہاں ! کیوں نہیں ! میں نیکی کی دعوت دیتا تھا لیکن خود عمل نہیں کرتا تھا برائی سے روکتا تھا مگر خود اس کا مرتکب تھا ۔ ‘‘ [6]
(2) … مَیں نے لَیْلَۃُ الْاِسْرَاء (یعنی معراج کی رات) ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے تومَیں نے پوچھا : ’’اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں ؟ ‘‘ جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی : ’’یہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمت کے خطیب ہیں جو لوگوں کو تو نیکی کی دعوت دیتے تھے مگر اپنے آپ کو بھول جاتے تھے حالانکہ قرآنِ پاک میں اس فرمانِ باری تعالیٰ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ(۶۸) (پ۲۳، یٰسٓ : ۶۸) ترجمۂ کنز الایمان : تو کیا سمجھے نہیں ۔ کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ ‘‘ [7]
(3) … لوگوں کو اچھی بات بتانے اور خود کو بھول جانے والے کی مثال اس چراغ کی سی ہے جو دوسروں کو تو روشن کرتا ہے لیکن اپنے آپ کو جلاتا ہے [8]
[1] کیمیائے سعادت، رکن چہارم، اصل پنجم، ج ۲، ص۸۷۶
[2] مسلم، کتاب الامارۃ، باب من قاتل للریاء…الخ، الحدیث : ۱۹۰۵، ص۱۰۵۵
[3] قوت القلوب، الفصل الحادی والعشرون، ج ۱، ص ۲۳۴
[4] الجامع لاخلاق الراوی للخطیب بغدادی، باب النیۃ فی طلب الحدیث، الحدیث : ۳۵، ج۱، ص۸۹
[5] تاریخ مدینہ دمشق، ج۵۶، ص۶۶
[6] مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب عقوبۃ من یامر بالمعروف ولایفعلہ … الخ، الحدیث : ۲۹۸۹، ص۱۵۹۵
[7] الترغیب والترھیب، کتاب الحدود وغیرھا، الترھیب من ان یامر بمعروف…الخ، الحدیث : ۳۵۴۸، ج۳، ص۱۸۷
[8] المرجع السابق، الحدیث : ۳۵۵۳، ج۳، ص۱۸۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع