دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahabi ki Infiradi koshish | صحابی کی انفرادی کوشش

book_icon
صحابی کی انفرادی کوشش

نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔ [1]

علاماتِ ایمانِ کامل :

حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرت کی ترجمانی حضرت سیدنا ابو محمد سہل تستری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اُس قول سے کیا خوب ہوتی ہے جس میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایمانِ کامل کی علامات بیان فرمائی ہیں ۔ چنانچہ امام اجلّ شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (متوفی ۳۸۶ھ) نے اپنی کتاب مستطاب قوت القلوب میں آپ کا یہ قول کچھ یوں نقل فرمایا ہے :

٭… ایمان کی علامت محبت ِ باری تعالیٰ ہے ۔

٭… محبت ِ باری تعالیٰ کی علامت محبت ِ کلام باری تعالیٰ ہے ۔

٭… محبت ِ کلام باری تعالیٰ کی علامت محبت ِ محبوبِ باری تعالیٰ ہے ۔

٭… محبت ِ محبوبِ باری تعالیٰ کی علامت اتباعِ محبوبِ باری تعالیٰ ہے ۔

٭… اور اتباع محبوبِ باری تعالیٰ کی علامت دنیا سے دوری ہے ۔ [2]

یوں تو سارے ہی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان درخشندہ ستاروں کی مانند ہیں اور سب ہی ایمان کے مرتبۂ کمال پر فائز تھے مگر بعض کی انفرادی کوششوں اور قربانیوں سے حاصل ہونے والا درس آج کے پر فتن دور میں ہمارے لیے سرمایۂ حیات ہے ۔ حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار بھی ان بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے جن پر چشمِ فلک (آسمان کی آنکھ) کو ناز ہے اور ایسا کیونکر نہ ہوتا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تن من دھن سب کچھ حفاظتِ ایمان کے لیے راہِ خدا میں قربان کر دیا ۔ جب اپنے پروردگار کا کلام اس کے محبوب کی زبانِ حق ترجمان سے سنا تو بحرِ توحید میں اس طرح غوطہ زن ہوئے کہ کبھی اس سے باہر نہ نکلے ۔ بلکہ ہر وقت بارگاہِ پروردگار ومحبوبِ کردگار پر نگاہیں جمائے اس انتظار میں رہتے کہ دیکھیں کب کوئی انمول موتی عطا ہوتا ہے ۔ اس طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک ایک کر کے قرآنِ مجید کی آیات کو موتیوں کی طرح اپنے دامن میں محفوظ کرتے چلے گئے اور آپ کا شمار علم کی دولت سے مالا مال افراد میں ہونے لگا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب اہل مدینہ نے دولت ِ علم کے حصول کی خواہش کا اظہار کیا تو معلم کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اس جانثار صحابی حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس اعتماد سے روانہ فرمایا کہ یہ اسلام قبول کرنے والے نو مسلموں کی اس طرح مدنی تربیت فرمائیں گے کہ ضابطۂ حیات قرآنِ مجید کے انمول مدنی پھولوں کی خوشبو سے ان کے دل و دماغ معطر ہو جائیں گے ۔

٭ اخلاص :

حضرت سَیِّدُنا مُصْعَبْ بِنْ عُمَیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نیکی کی دعوت کا مدنی کام اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کی خاطر کیا ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اسی خلوص و للہیت کا ثمرہ (نتیجہ) تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زبا نِ مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ تاثیر کے تیر بن کر لوگوں کے دلوں میں اس طرح پیوست ہوتے گئے کہ صرف دو سال کے قلیل عرصہ میں شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد سے پہلے مدینہ منورہ کے گھر گھر میں اسلام کا پرچم لہرانے لگا اور جب سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد ہوئی تو تمام در و دیوار ان پر لطف صداؤں سے گونج اٹھے :

طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا                                                                                                      مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاعٖ

وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا                                                                                               مَا دَعَا لِلّٰہِ دَاعٖ

یعنی وداع کے ٹیلوں سے ہم پر ایک چاند طلوع ہوا جب تک کوئی بلانے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف بلاتا رہے گا ہم پر اس (چاند) کا شکر واجب ہے ۔

اَیُّھَا الْمَبْعُوْثُ فِیْنَا                                                                                                                        جِئْتَ بِالْاَمْرِ الْمُطَاع

اَنْتَ شَرَّفْتَ الْمَدِیْنَۃَ                                                                                                  مَرْحَبًا یَاخَیْرَ دَاعٖ

یعنی اے ہمارے درمیان مبعوث ہونے والی ہستی! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو دین لائے ہیں وہ اطاعت کے قابل ہے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ کو مشرف فرمایا ۔ مرحبا! خوش آمدید! اے بہترین دعوت دینے والے ! ۔

فَلَبِسْنَا ثَوْبَ یَمَنٍ                                                                                                                     بَعْدَ تَلْفِیْقِ الرِّقَاعٖ

فَعَلَیْکَ اللہُ صَلّٰی                                                                                                                       مَا سَعیٰ لِلّٰہِ سَاعٖ

یعنی ہم نے یمنی کپڑے پہنے حالانکہ اس سے پہلے پیوند جوڑ جوڑ کر پہنا کرتے تھے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے کوشش کرنے والے کوشش کرتے رہیں ۔

مُبَلِّغِین کو چاہئے کہ نیکی کی دعوت عام کرنے میں صرف اور صرف رضائے ربّ الانام و خیر الانام عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پیشِ نظر رکھیں کہ اس سے زبان میں تاثیر پیدا ہو گی ۔ کیونکہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے دی جانے والی نیکی کی دعوت میں تاثیر نہ ہونے کے سبب انفرادی کوشش میں ناکامی کے ساتھ ساتھ ثواب آخرت سے محرومی بھی ہو سکتی ہے ۔ چنانچہ،

فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

 



[1]    بخاری، کتاب الایمان، باب حب الرسول صلى الله عليه وسلم من الإيمان، الحدیث : ۱۵، ج۱، ص۱۷

[2]     قوت القلوب، ج ۱، ص۱۰۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن