دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahaba Ki Baatein | صحابہ کی باتیں

Hazrat Abdullah Ibn Abbas

book_icon
صحابہ کی باتیں

فرامینِ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہُ عنہما

* حضرت سعید بن جُبَیر رضی اللہُ عنہ   فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما   دیکھا کہ آپ عنہ اپنی زبان  کی نوک ہاتھ سے پکڑ کر فرما رہے ہیں:’’تجھ پر اَفسوس ہے!اچھی بات کہہ کہ اسی میں تیرا فائدہ ہے اور بری بات سے خاموش رہ کہ اسی میں تیری سلامتی ہے۔‘‘ دیکھنے والے نے اس کی وجہ دریافت کی توفرمایا:” مجھے خبرملی ہے کہ قیامت کے دن آدمی اپنی زبان کی وجہ سے سب سے زیادہ خسارہ اُٹھائے گا۔ “ ( کتاب الزھد لامام  احمد ، ص 206 ، حدیث: 1047)
* اے زبان ! اچھی بات کہہ تجھے فائدہ ہوگااوربُری بات کہنے سے خاموش رہ سلامتی میں رہے گی۔(حسن السمت فی الصمت، ص 80)
*  جب درہم و دینار بنائے گئے تو ابلیس نے انہیں پکڑ کر اپنی آنکھوں سے لگایا اور کہا : ’’تم میرے دل کی غذا اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہو۔ میں تمہارے ذریعے لوگوں کو سرکش و کافر بناؤں گا اور تمہاری وجہ سے میں لوگوں کو جہنم میں داخل کراؤں گا۔میں اس آدمی سے خوش ہوں جو دنیا کی محبت میں مبتلا ہو کر تمہاری غلامی کرنے لگے۔
(صفۃ الصفوۃ،1/384، الرقم: 119)
*  جس قوم میں بھی ظلم ظاہر ہوتا ہے اس میں کثرت سے اموات واقع ہوتی ہیں۔
(التمہید لابن عبدالبر، 10/262، تحت الحدیث: 755)
* حضرت ابو غَالِب خَلْجِی رحمۃُ اللہِ علیہ  بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا : ’’تم فرائض کی اَدَائیگی اپنے اوپر لازم کرلو اور اللہ پاک نے تم پر جو اپنے حقوق مقرر فرمائے ہیں انہیں ادا کرو اور اس پر اُسی سے مدد طلب کرو کیونکہ وہ پروردگار جب کسی بندے میں صِدْقِ نیت اور ثواب کی طلب دیکھتا ہے تواس کی تکالیف دورفرما دیتا ہے اور وہ مالک ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ 
(حلیۃ الاولیاء،1/401، حدیث: 1151) 
*بلاشبہ اللہ پاک نے ہر مومن و فاسق کا رزق لکھ دیا ہے۔پس اگر وہ رزقِ حلال ملنے تک صبر کرے تو اللہ پاک اُسے عطا فرماتاہے اور اگر بے صبری سے کام لے اور حرام کی طرف قدم بڑھائے تو اللہ پاک اس کے رزقِ حلال میں کمی فرما دیتا ہے۔
(حلیۃ الاولیاء، 1/401، حدیث: 1152)
اَيْقِظُوا الصَّبِيَّ يُصَلِّي،وَلَوْ بِسَجْدَةٍ یعنی بچے کو نماز کیلئے بیدار کرو اگرچہ ایک ہی سجدہ کرلیں۔ (مصنف عبدالرزاق، 4 / 120، رقم:7329)
*  بروزِ قیامت سب سے پہلے ان لوگوں کو جنّت کی طرف بلایا جائے گا جو ہر حال میں   اللہ  پاک کا شکر کرتے ہیں ۔ (کتاب الزھد لابن مبارک، ص 68، حدیث: 206)
* جنّت کی زمین کے وارث وہ لوگ ہیں جو پانچوں نَمازیں باجماعت ادا کرتے ہیں۔ 
(حسن التنبہ ، 3 / 209)

فرامینِ حضرت امام حَسَن مُجْتَبیٰ رضی اللہُ عنہ

*سب سے بڑی عقلمندی پرہیزگاری اور سب سے بڑی بے وُقوفی فِسق و فُجُور ( یعنی گناہ ونافرمانی )ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ، 7/277، حدیث: 165)
    *  اے ابنِ آدم!اپنے بھائی سے حسد نہ کر کیونکہ اگر اللہ پاک نے اُس کی تکریم کے لئے وہ نعمت اسے عطا فرمائی ہے تو جسے اللہ پاک عزت دے اس سے حسد نہ کرو اور اگر کسی اور وجہ سے عطا فرمائی ہے تو اس سے حسد کیوں کرتے ہو جس کا ٹھکانا جہنّم ہے۔ 
(الزواجر عن اقتراف الکبائر، 1/116)
    *  آدمی پر تعجب ہے کہ وہ روزانہ ایک یادو مرتبہ اپنے ہاتھ سے ناپاکی دھوتا ہے پھر بھی زمین وآسمان کے بادشاہ سے مقابلہ (تکبر)کرتاہے۔(الزواجر عن اقتراف الکبائر، 1/149)
        *حضرت امام حسن رضی اللہُ عنہ نے ایک امیر کو متکبرا نہ چال چلتے ہوئے دیکھا تو اس سے فرمایا کہ اے احمق!تکبر سے اِتراتے ہوئے ناک چڑھا کر کہا ں دیکھ رہا ہے ؟ کیا اُن نعمتوں کودیکھ رہا ہے جن کا شکر ادا نہیں کیا گیا یا اُن نعمتوں کو دیکھ رہا ہے کہ جن کا تذکرہ اللہ پاک کے احکام میں نہیں۔جب اس نے یہ بات سنی تو عذر پیش کرنے حاضر ہوا ۔ آپ رضی اللہُ عنہ   نے ارشاد فرمایا :مجھ سے معذرت نہ کربلکہ اللہ پاک کی بارگاہ میں
 توبہ کر کیا تم نے اللہ پاک کا یہ فرمان نہیں سنا: ( وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)) (پ15، بنی اسرائیل:37)  ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین میں اِتراتا نہ چل بے شک ہرگز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہر گز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر، 1/149)

فرامینِ حضرت امام حسین رضی اللہُ عنہ

*  اے لوگو! اچھے اَخلاق میں رغبت کرو ، نیک اعمال میں جلدی کرو ، جس نے کسی پر احسان کیا ہواور وہ اس کا شکر ادا نہ کرے تو احسان کرنے والے کو اللہ پاک عوض عطافرماتا ہے۔ یقین کرو نیک کام میں تعریف ہوتی ہے اور ثواب ملتا ہے ، اگر تم نیکی کو کسی مرد کی صورت میں دیکھ سکتے تو اسے بہت حسین و جمیل دیکھتے جو دیکھنے والے کو بَھلا لگتا اور اگر تم مَلامت اور بَدی کو دیکھ سکتے تو بدترین منظر دیکھتے جس سے دل نفرت کرتے اور نظریں نیچی  ہو جاتی ہیں۔ اے لوگو! جو سخاوت کرتا ہے وہ سردار ہوتا ہے اور جو بخل کرتا ہے وہ ذلیل و رُسوا ہوتا ہے۔ زیادہ سخی وہ شخص ہے جو اس شخص پر سخاوت کرے جسے اس کی اُمید نہ ہو۔ زیادہ پاک دامن اور بہادُر وہ شخص ہے جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود مُعاف کر دے ، زیادہ صِلۂ رحمی کرنے والا شخص وہ ہے جو قطع تعلق کرنے والے رشتے داروں سے تعلق جوڑے۔ جو شخص اپنے بھائی پر احسان کر کے اللہ پاک کی رضا چاہے اللہ پاک مشکل وقت میں اس کا بدلہ دیتا ہے اور اس سے سخت مصیبت ٹال دیتا ہے۔ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی سے دنیوی مصیبت دور کی اللہ پاک اس سے اُخرَوی مصیبت دور کرتا ہے اور جو کسی پر احسان کرے اللہ کریم اس پر احسان فرماتا ہے اور احسان کرنے والے اللہ کے پیارے ہیں۔*اگرچہ دنیا اچھی اور نفیس سمجھی جاتی ہے مگر اللہ کا ثواب بہت زیادہ اور نفیس ہے ۔* رزق تقدیر میں تقسیم ہو چکے ہیں لیکن کَسْب میں انسان کا حرص نہ کرنا اچھا ہے ۔*مال دنیا میں چھوڑ کر ہی جانا ہے تو پھر انسان مال میں بُخْل کیوں کرتا ہے؟*جب اذیت دینے کے لئے کوئی شخص کسی سے مدد چاہے تو اس کی مدد کرنے والے اور ذلیل و رُسوا لوگ سب برابر ہیں۔ (نورالابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار ، ص 152 ، 153)

فرامینِ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا

 * جو بندہ خالص پانی پیئے اور وہ بغیر تکلیف کے(پیٹ میں ) داخل ہو اور بغیر تکلیف کے  باہر بھی   نکل آئے تو اس پر شکر لازم ہے۔  (کتاب الشکر،ص162،رقم:188)
*   تم لوگ افضل عبادت یعنی عاجزی سے غافل ہو۔ (احیاءالعلوم،3/419)

فرامینِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ

*   جو میری کسی نعمت سے حسد کرتا ہے میں اس کے سوا   ہر شخص کو راضی کر سکتا ہوں کیونکہ حاسِد اُسی وقت راضی ہو گا جب وہ نعمت مجھ سے زائل ہو جائے گی۔
(احیاء العلوم ، 3/233)
*سب سے بڑا سردار وہ شخص  ہے کہ جب اس سے  کچھ مانگا جائے تو سب  سے بڑھ کر سخاوت کرنے والا ہو،محافل میں حسنِ اَخلاق کے اعتبار سے سب سے  اچھا ہو اور  اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے تو حِلْم و بُردباری کا مظاہَرہ کرے۔
(تاریخ ابنِ عساکر، 59/186،رقم:7510)
* جو آدمی تجربات سے فائدہ نہ اٹھائے وہ بلند مقام حاصل نہیں کر سکتا۔
 (احیاء العلوم،3/230)

فرامینِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ

* اگر آدمی کے کانوں ميں پگھلا ہوا سيسہ ڈال ديا جائے تو يہ اس کے لئے اذان سن کر مسجد  میں حاضر نہ ہونے سے زيادہ بہتر ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ، 1/380، حدیث: 4)
*  جن گھروں میں اللہ پاک کا ذکر ہوتا ہے اہلِ آسمان ان گھروں کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے تم ستاروں کو دیکھتے ہو۔  (مصنف ابن ابی شیبہ، 8/236، حدیث: 10)
*  حضرت عَطاء رحمۃُ اللہِ علیہ  سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ نے فرمایا: ” جب تم 6 چیزیں دیکھ لو تو اگر تمہاری جان تمہارے قبضے میں ہو تو اسے چھوڑ دو۔ اسی وجہ سے میں موت کی تمنا کرتا ہوں اس خوف سے کہ کہیں ان چیزوں کا زمانہ نہ پا لوں۔ جب بے وقوف حکمران ہوں۔ فیصلے بِکنے لگیں۔ جانیں محفوظ نہ رہیں۔ رِشتے کاٹے جائیں۔قوم کے محافظ قوم کے لُٹیرے بن جائیں اور لوگ قرآنِ مجید گا کر پڑھنے لگیں۔“ (تاریخ ابن عساکر، 67/379۔ مصنف عبد الرزاق، 2/322، حدیث: 1119)
* حضرت ابو اَسود رحمۃُ اللہِ علیہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مدینۂ طیّبہ میں گھر بنوایا۔  گھر کی تعمیرمکمل ہونے کے بعد ایک دن وہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا تو اس نے عرض کی:’’اے ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ!ذرا ٹھہر جائیے! اور مجھے یہ بتائیے کہ میں گھر کے دروازے پر کیا لکھواؤں؟“ آپ رضی اللہُ عنہ   نے فرمایا: لکھواؤ ”گھر ویران ہونے کے لئے ہوتے ہیں“ اولاد فوت ہونے کے لئے اور مال ورثا کے لئے جمع کیا جاتا ہے۔“ اس وقت وہاں ایک اَعرابی (یعنی دیہات کا رہنے والا)بھی موجود تھا۔ اس نے کہا:’’شیخ! تم نے کتنی بُری بات کہی ہے۔“ گھر کے مالک نے اَعرابی سے کہا: ’’تیری ہلاکت ہو! یہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کے صحابی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ ہیں۔“
 (تاریخ ابن عساکر، 67/374)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن