دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sahaba e Kiram Ka Ishq e Rasool | صحابہ کرام کا عشق رسول

book_icon
صحابہ کرام کا عشق رسول

جدا نہیں  کیا اور جب انتقال کرنے لگیں  تو وصیت کی کہ ان کے ساتھ وہ بھی دفن کردیا جائے۔  

(المسند لامام احمد بن حنبل ،  حدیث امرأۃ من بنی غفار رضی اللہ عنہا ،  الحدیث :  ۲۷۲۰۶ ، ج۱۰ ، ص۳۲۴)

            حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ایک کرتہ ، ایک تہبند ایک چادر ، اور چند موئے مبارک تھے ، انہوں  نے وفات کے وقت وصیت کی کہ یہ کپڑے کفن میں  لگائے جائیں  اور موئے مبارک منہ اور ناک میں  بھردیئے جائیں۔  (تاریخ الخلفائ ، معاویۃ بن ابی سفیان ، ص۱۵۸بتصرف)

    رسول اللہ عزوجل و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے جن کپڑوں  میں  انتقال فرمایا تھا ، حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا نے ان کو محفوظ رکھا تھا۔ چنانچہ انہو ں  نے ایک دن ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک یمنی تہبند اور ایک کمبل دکھاکر کہا کہ خداعزوجل کی قسم! سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان ہی کپڑوں  میں  انتقال فرمایا تھا۔

(سنن ابی داود ،  کتاب اللباس ، باب لباس الغلیظ ، الحدیث : ۴۰۳۶ ، ج۴ ، ص۶۳)

            ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خَزّ(اون اور ریشم سے بُنا ہوا کپڑا)کا سیاہ عمامہ عطا فرمایا تھا ، انہوں  نے اس کو محفوظ رکھا تھااور اس پر فخر کیا کرتے تھے ، چنانچہ ایک بار بخارا میں  خچر پر سوار ہوکر نکلے تو عمامہ دکھاکر کہا کہ اس کو رسول اللہ عزوجل و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مجھ کو عنایت فرمایا تھا ۔

 (سنن ابی داود ، کتاب اللباس ، باب ماجاء فی الخز ، الحدیث : ۴۰۳۸ ،  ج۴ ،  ص۶۴)

    آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے چند بال مبارک حضرت ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا نے بطور یادگار کے محفوظ رکھے تھے اور جب کوئی شخص بیمار ہوتا تھا تو ایک برتن میں  پانی بھر کر بھیج دیتا تھا اور وہ اس میں ان مبارک بالوں  کو دھو کر واپس کردیتی تھیں ، جس کو وہ شفا حاصل کرنے کے لئے پی جاتا تھا( یا اس سے غسل کرلیتا تھا)۔

(صحیح البخاری ، کتاب اللباس ، باب مایذکر فی الثیب ، الحدیث۵۸۹۶ ، ج۴ ، ص۷۶)

خلفاء ان یادگاروں  کی نہایت عزت کرتے تھے ، اور ان سے برکت اندوز ہوتے تھے ، ایک بار آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کسی عجمی بادشاہ کے نام خط لکھنا چاہا تو لوگوں  نے کہا کہ جب تک خط پر مہر نہ ہو اہل عجم اسکو نہیں  پڑھتے ، اس لئے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایک چاندی کی انگوٹھی تیار کروائی ، جس کے نگینہ پر محمد رسول اللہ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) کندہ تھا ، اس انگوٹھی کو خلفائے ثلاثہ نے محفوظ رکھا تھا ، اخیر میں  حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ سے ایک کنوئیں  میں  گرپڑی ، انہوں  نے تمام کنوئیں  کا پانی نکال ڈالا ، لیکن یہ گوہر نایاب نہ مل سکا۔  (سنن ابی داود ، کتاب الخاتم ، باب ماجاء فی اتخاذ الخاتم ، الحدیث :  ۴۲۱۴۔ ۴۲۱۵ ، ج۴ ، ص۱۱۹)

   حضرت کعب بن زہیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے قصیدے کے صلہ میں  رسول اللہ عزوجل و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خود اپنی چادر عنایت فرمائی تھی۔ یہ چادر امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کے صاحبزادہ سے خریدلی اوران کے بعد تمام خلفاء عیدین میں  وہی چادر اوڑھ کر نکلتے تھے۔  (الاصابۃ ،  تذکرۃ کعب بن زھیر ، ج۵ ، ص۴۴۳)

            آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جس پیالے میں  پانی پیتے تھے ، وہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس محفوظ تھا ایک بار وہ ٹوٹ گیا تو انہو ں  نے اسکو چاندی کے تار سے جڑوایا ، اس میں  ایک لوہے کا حلقہ بھی لگا ہوا تھا ، بعد کو حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس میں  سونے یا چاندی کا حلقہ لگوانا چاہا لیکن حضرت طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے منع کیا کہ رسول اللہ عزوجل و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے جو کام کیا ہے اس میں  تغیر نہیں  کرنا چاہئے۔

             آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے دواورپیالے حضرت سہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس محفوظ تھے۔

 (صحیح البخاری ، کتاب الأشربۃ ،  باب الشرب من قدح النبی صلی اللہ علیہ وسلم وآنیتہ ، الحدیث : ۵۶۳۷۔ ۵۶۳۸ ، ج۳ ، ص۵۹۵)

   ایک دن آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم حضرت ام سلیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاکے گھر تشریف لائے گھر میں  ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا ، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس کا دہانہ اپنے منہ سے لگایا اور پانی پیا ، حضرت ام سلیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُانے مشکیزے کے دہانے کو کاٹ کر اپنے پاس بطور یادگار رکھ لیا۔

 (طبقات الکبری ، تذکرۃام سلیم بنت ملحان ،  ج۸ ، ص۳۱۵)

            آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم حضرت شفاء بنت عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے یہاں  کبھی کبھی قیلولہ فرماتے تھے ، اس غرض سے انہوں  نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لئے ایک خاص بستر اور ایک خاص تہبند بنوالیا تھا ، جسکو پہن کر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن