دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sag e Madina Kehna kaisa? | سگ مدینہ کہنا کیسا ؟

book_icon
سگ مدینہ کہنا کیسا ؟

لِقائے دینِ سلطانی محی الدین جیلانی                                                                               

      پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے  ! بڑے بڑے بُزُرگوں نے  اپنے آپ کو بطورِ عاجِزی نبیِّ اکر م، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   اور اولیاءُ اللّٰہ کا  ’’ سگ ‘‘  کہا ، کہتے اور لکھتے ہیں ، کی ایہ سارے کے سارے عظمتِ انسانی اور اشرفُ المخلوقات کے مفہوم سے ناواقِف تھے ؟ ہرگز نہیں  ۔ تو پھر اللہ ورسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    سے محبت کرنے والا اور اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام سے والِہانہ عقیدت رکھنے والا سگِ مدینہ محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی عفا عنہُ القوی فکرِ آخرت اور مدینے کی  مَحَبَّت میں ڈوب کر کی وں نہ کہے ۔     

میں مدینے کی  گلی کا کوئی کُتّا ہوتا

کاش !  ہوتا نہ میں انسان مدینے والے

مرا ہواکُتّاہونے کی  تمنّا کا اِنعام !

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  ابھی تک  ’’ زندہ کتّے  ‘‘  کی  تمنّا کی  بات تھی امّید ہے سگِ مدینہ کہنے کہلوانے کے جواز کے متعلق اہلِ مَحَبَّت اور صاحبانِ عقلِ سلامت مطمئن ہو گئے ہوں گے ۔ اب ’’  مَرا ہوا کتّا ‘‘  ہونے کی  تمنّا کرنے والے ایک ولیُّ اللہرَحِمَہُ اللّٰہ کی  ایمان افروز حکایت سنتے چلئے اور خوب جھومئے  چُنانچِہ حضرتِ علامہ سیِّدُناامام یوسف بن اسمٰعیل نبہانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی نَقل کرتے ہیں ، حضرت سیِّدنا شیخ محمد بُدَیرِی دِمْیَاطِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْباقِی فرماتے ہیں : میرے دادا جان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی  وفات کے بعد کسی نے خواب میں انہیں رَ یت کے ٹِیلے پر کھڑا دیکھ کر عرض کی : ما فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  نے آپ کے ساتھ کی ا مُعامَلہ فرمایا؟ جواب دیا : اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّ وَجَلَّ نے میری مغفِرت فرمادی اور رَیت کے جتنے ذَرّات میرے قدموں تلے ہیں اتنے افراد کی  شَفاعت کی  اجازت بھی مرحَمَت فرمائی ہے ۔  خواب دیکھنے والے نے پوچھا : کس نیکی  کے سبب یہ مقام پایا؟فرمایا :  ’’  میں جب بھی کسی مَرے ہوئے کُتّے کو دیکھتا تو کہتا :  کاش ! یہ مرا ہوا کتّا میں ہی ہو تا ۔ اَلحَمدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  میرا یہ قول مقبول ہو گیا ۔  ( جامعِ کراماتِ اولیا ء ج ۱ ص۳۴۴ملخصاً، مرکز اہلسنت برکات رضا ، الھند  )

خدا سَگانِ نبی سے یہ مجھ کو سُنوا دے

                ہم اپنے کتّوں میں تجھ کو شُمار کرتے ہیں(ذوقِ نعت)

سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا 84 با ر دیدار

          پیارے پیارے اسلامی بھائی !  دیکھا آپ نے ! اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ  کے نیک بندے خوفِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ کی  وجہ سے کی سی کی سی عاجِزانہ باتیں فر ما جاتے ہیں  ! یقینا اشرفُ المخلوقات کے معنیٰ یہ حضرات ہم سے کہیں زیادہ سمجھتے تھے ۔  یہ ایمان افروز حکایت  ’’ جامِعِ کراماتِ اولیاء  ‘‘  میں ہے ۔  اِس کتاب کے مصنِّف حضرتِ سیِّدُنا شیخ امام یوسُف نبہانیقُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی کے بارے میں اِسی جامِع کرامات ِ اولیا ئجلدا وّل کے صَفْحَہ 67 پر آپ کے تعارف میں لکھاہے :  امام یوسُف نبہانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی کا سفید داڑھی والانور برساتا چہرہ یادِ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ کے جلووں سے جگماتا رہتا ، ادب کے ساتھ دوزانو بیٹھنے کی  عادتِ کریمہ تھی ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی  شان و عظمت کی  تو بات ہی کی ا ہے ، آ  پ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی  زَوجۂ محترمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو خواب میں 84بار جنابِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا دیدار ہوا تھا  ۔  

کسے ہے دیدِ جَمالِ خدا پسند کی  تاب

                وہ پورے جلوے کہاں آشکار کرتے ہیں(ذوقِ نعت)

عاشقِ رسول کی  نرالی وفات

            خلیفۂ اعلیٰ حضرت، سیِّدی ومرشِدی قُطبِ مدینہ حضرتِ علّامہ مولیٰنا ضیاء الدّین مَدَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کو حضرتِ سیِّدُنا شیخ امام یوسُف نبہانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی سے بھی خِلافت حاصِل تھی  ۔  جَواہِرُالبِحار جلد اول (مترجم) کے پیش لفظ میں مرشِدی قطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے حوالے سے تحریر کردہ حکایت کا خلاصہ ہے :  عشقِ رسول میں ڈُوبی ہوئی سنّتوں بھری کتاب  ’’  جَواہِرُالبِحار  ‘‘ تحریر فرمانے کے کچھ ہی عرصے کے بعد خواب میں سرکارِ نامدار مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے دیدارِ فیض آثار سے مُشَرَّف ہوئے  ۔ سرکارِابد قرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کتاب جَواہِرُالبِحارکو بَہُت پسند فرمایا اور ازراہِ لُطف و کرم  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو اپنے سینۂ بے کی نہ فیض گنجینہ سے لگا لیا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے بے قرار ہوکر عرض کی  : آقا !  اب جدائی کا صدمہ سہنے کی  تاب نہیں رہی ۔  ‘‘ یہ درد بھرا فِقرہ مقبولیت پاگیا اور عاشقِ صادِق امام یوسُف نبہانیقُدِّسَ سرُّہُ النُّورانینے اپنے آقا و مولیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے نورانی سینے سے لگ کر رِحلَت (یعنی وفات )کی  سعادت پائی  ۔    ؎

آپ کے سینے سے لگ کر موت کی  یا مصطَفٰے

آرزو کب آئے گی بَر بے کس و مجبور کی

            ایک شاگرد ِرشید کو حضرتِ سیِّدُنا شیخ امام یوسُف نبہانی قُدِّسَ سرُّہُ النورانی کی  زیارت نصیب ہوئی جن سے حضرت ِمرحوم نے اپنی وفات کاواقِعہ بیان کی ا جو اسی طرح عوام وخواص میں مشہور ہوا ۔  حضرتِ سیِّدُنا شیخ امام یوسُف نبہانیقُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی کی  رِحلَت شریف اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن   کی  وفاتِ حسرت آیات کے دس سال بعد یعنی ۱۳۵۰ ھ مطابِق 1931ء میں ہوئی ۔  ( جواہرُ البِحار ص ۱۲)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن