30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبد اللّٰہ بن مسعود کا سعادت مندانہ ارشاد
مشہور صَحابی حضرتِ سیِّدُنا عبدا للہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : میں امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر فاروقِ اعظَمرضی اللہ تَعَالٰی عنہ سے بے انتِہا مَحَبَّتکرتا ہوں ، میں خوفِ خدا عزوجلرکھنے والا ہوں ، اگر مجھے پتا چل جائے کہ حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکسی سگ (کُتّے ) سے مَحَبَّت فرماتے ہیں تو میں بھی اُس سگ(کُتّے ) سے مَحَبَّت کروں ، میں آخِری دم تک سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا خادِم ہو ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ج۹ ص ۱۶۴ رقم ۸۸۱۴دار احیاء التراث العربی بیروت ) اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
ابنِ حَجَر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی پتّھر کا بیٹا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! دنیائے اسلام کی ایک زبردست عَبْقَری شخصیت ، یگانۂ رُوزگار عالمِ دین حضرتِ عَلّامہ ابنِحَجَر ھَیتَمی مَکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اصلی نام کے بجائے آپ کو ’’ ابنِ حَجر ‘‘ کہا جاتاہے ، کی وں ؟ سنئے : شرفِ ملّت حضرت علّامہ محمد عبدالحکیم شَرَف قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : عَلامہ اِبنِ حَجَر ھَیْتَمِی مَکی رَحِمَہُ اللّٰہ تعالٰیکوابنِ حَجَر ([1]) اس لیے کہا گیا کہ ان کے دادا شُہرت اور بہادُری کے ساتھ خاموش طَبع تھے صرف بوقتِ ضَرورت ہی بات کرتے تھے اِس لیے ان کو (حجر یعنی)پتّھر سے تَشبِیہ دی گئی ۔ (تقریظ الزّواجر مترجم ص۶ ۳)
عام قاعِدہ ہے کہ جس سے مَحَبَّت ہوتی ہے اُس سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے اُلفت ہوجاتی ہے ۔ ہمیں چُونکہ مدینے والے آقا مکی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مَحَبَّت ہے اِس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شہرِ مقدَّس مدینۂ پاک زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً سے بھی پیار ہے اسی پیارووناز کے رنگ میں اپنے آپ کو سگِ مدینہ کہنا کہلوانا عاشِقانِ رسول کا طُرَّۂ امتیاز ہے چُنانچِہ عارِف بِاللہ سیِّدی امام عبد الرحمن جامی ؔ قدس سرہُ السّامی بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں : ؎
سَگَتْ را کاش جامیؔ نام بُودے
کہ آید بَرزَبانت گاہے گاہے
(کاش آپ کے کُتّے کا نام جامی ؔہوتا تاکہ کبھی کبھی آپ کی زَبانِ پاک پر آجاتا)
اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
ایران کے مشہور صُوفی شاعِرشمسُ الدّینمحمد المعروف حافِظ شیرازیؔ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بارگاہِ رسالت میں عرض گزارہیں ۔ ؎
شُنِیدَمْ کہ سَگاں را قَلادَہ مَے بَندِی
چَرا بَہ گردَنِ حافِظؔ نَمے نہی رَسنے
(میں نے سنا ہے آپ نے اپنے کتّوں کے گلے میں پٹّا ڈال رکھا ہے تو حافظؔ کی گردن میں رسی کی وں نہیں ڈال دیتے ! )
اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
ولی ٔ کامل، سچّے عاشقِ رسول، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنے مجموعۂ کلام حدائقِ بخشش میں بطورِ عاجِزی جگہ بہ جگہ اپنے لئے سگ اور ’’ کتّا ‘‘ لفظ استِعمال کی ا ہے چُنانچِہ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں : ؎
جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منہ تکوں
کی ا پُرسِش اور جا بھی سگِ بے ہُنر کی ہے
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، شَیر بَیشۂ سنَّت حضرتِ مولیٰنا حشمت علی خان عُبیدِؔ رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ؎
سگ ہوں میں عُبیَدِ رضوی غوث و رضا ؔکا
بھاگتے ہیں میرے آگے شیرِ بَبر بھی
بہاؤ الدین زکریا ملتانی کی تواضُع
حضرتِ سیِّدُناشیخ بہاؤ الدین زکریاملتانی قدس سرہ النورانی منقبتِ غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم میں فرماتے ہیں : ؎
سگِ درگاہِ جیلانی بہاؤالدین ملتانی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع