30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجَمۂ کنز الایمان : اب کہیں گے کہ وہ تین ہیں چوتھا ان کا کُتّااور کچھ کہیں گے پانچ ہیں چھٹا ان کا کُتّا، بے دیکھے اُلاؤتُکَّابات ([1]) ، اور کچھ کہیں گے سات ہیں آٹھواں ان کا کتّا ، تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتا ہے ، انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے تو ان کے بارے میں بحث نہ کرو مگر اتنی ہی بحث جو ظاہِر ہوچکی اوران کے بارے میں کسی کتابی سے کچھ نہ پوچھو ۔
سگِ اصحابِ کَہْف داخِلِ جنّت ہوگا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! سگِ اَصحابِ کہف بڑا خوش نصیب ہے ، بُزُرگانِ دین رحمہم اللہ المبین کی صُحبت کی بَرَکت سے یہ جنّت میں داخِل ہوگا ۔ چُنانچِہ مُفَسّرِشہیرحکی مُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّانتحریر فرماتے ہیں : چند جانور جنّت میں جائیں گے حضور(علیہ السلام) کی اونٹنی قَصوا، اَصحابِ کہف کا کُتّا، صالح عَلَیْہِ السَّلَامکی اُونٹنی ، حضرتِ عیسٰی(علیہ السلام) کا دراز گوش ۔ جیسا کہ بعض روایات میں ہے ، شیخ سعدی فرماتے ہیں شعر ؎
سگ اصحاب کہف رَوزَے چند پئے نیکاں گرِفت ِمَردَم شُد ۔
(یعنی چند روز اصحابِ کہف کی صحبت کی برکت سے ان کا کتّا انسانی صورت میں داخل جنت ہو گا)( مراۃ المناجیح ج۷ ص ۵۰۱)
سگِ اصحابِ کہف بلعم بن باعور کی صورت میں داخِلِ جنت ہو گا
میرے آقا اعلیٰ حضرت مولیٰنا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : اَصحابِ کَہْف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَ کا کتَّا بلعم باعُور کی شکل بنکر جنّت میں جائے گا اور وہ اس کتّے کی شکل ہوکر دوزخ میں پڑے گا ۔ اُس (یعنی اصحابِ کَہْف کے کُتّے )نے محبوبانِ خدا کا ساتھ دیا، اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ نے اُس کو انسان بناکر جنّت عطا فرمائی ۔ اور اُس (یعنی بلعم باعُور)نے محبوبانِ خدا سے عداوت کی (وہ) بنی اسرائیل میں بَہُت بڑا عالم تھا، مُستجابُ الدَّعوات تھا(یعنی اِس کی دعائیں قَبول ہوتی تھیں)لوگوں نے اس کو بَہُت سا مال دیا کہ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامکی لئے بددعا کرے ۔ خبیث لالچ میں آ گیا اور بد دعا کرنی چاہی جو الفاظ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامکی لئے کہنا چاہتا تھا، اپنے لئے نکلتے تھے ۔ اللّٰہ نے اس کو ہلاک کردیا ۔ (ملفوظاتِ اعلی حضرت حصّہ ۳ص۲۷۹ تا۲۸۰، فرید بک اسٹال مرکز الاولیاء لاہور)
کتّے کے حملے کا خطرہ ہو تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : ’’ تفسیرِ ثعلبی ‘‘ میں ہے جو کوئی ان کلماتوَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِؕ- کولکھ کر اپنے ساتھ رکّھے کُتّے کے ضَرر سے اَمْن میں رہے ۔ (تفسیرخزائن العرفان ص۴۷۲)اگرکُتّا بھونکتا ہوا لپکے ، حملہ آور ہو تو یہی قراٰنی کلمات پڑھ لیجئے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ وہ کچھ نہ بگاڑسکے گا ۔
میں نے عید کے علاوہ کبھی نماز نہیں پڑھی تھی !
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اُمید ہے جن کووسوسے آتے ہیں ان کی تَشَقّی ہو گئی ہو گی ۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابستہ رہئیاِن شائَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اِس طرح کے وسوسوں سے بچے رہیں گے ۔ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت فرمایا کی جئے ، مَدَنی قافِلوں میں سفرفرمایئے ، ہو سکے تو رَمضانُ المبارَک میں دعوتِ اسلامی کے عاشقانِ رسول کے ساتھ سارا مہینا اور یہ نہ ہو سکے تو کم از کم آخِری دس دن کی لئے اعتکاف کی سعادت حاصِل کرلیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ وہ کچھ ملیگا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔ آیئے ! آپ کی ترغیب وتَحرِیص کی خاطر ’’ اعتکاف کی ایک مَدَنی بہار آپ کے گوش گزار کرتا ہوں : میانوالی کالونی منگھو پیر روڈبابُ المدینہ کراچی کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے ۔ میرے جیسے گنہگار انسان کم ہی ہوں گے ، میں نے کئی ’’ گرل فرینڈز ‘‘ بنا رکھی تھیں ، گندی ذِہنیّت کا عالَم یہ تھا کہ روزانہ ہی ننگی فلمیں دیکھنے کا معمول تھا، آپ مانیں یا نہ مانیں میں نے زِندَگی میں عید کے علاوہ کبھی نَماز ہی نہیں پڑھی تھی اور مجھے بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ نَماز کس طرح پڑھی جاتی ہے ! ! ! میری قسمت کا ستارہ چمکا اور مجھے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں رَمَضانُ الْمبارَک کے آخِری عشرے کااجتِماعی اعتِکا ف نصیب ہوگیا، فیضانِ مدینہ کے مَدَنی ماحول کی بھی کی ا بات ہے ! میری آنکھیں کُھل گئیں ، غفلت کا پردہ چاک ہوا اور میرے دل میں مَدَنی انقِلاب برپا ہو گیا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں نے نَماز سیکھ لی اور پانچوں وَقت باجماعت نَماز کا پابند ہو گیا ۔ میں نے دو مساجد میں فیضانِ سنّتکا درس شُروع کر دیا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اسلامی بھائیوں نے مجھے ایک مسجِد کی مُشاوَرت کا ذَیلی نگران بنا دیا ۔ اور تَحدیثِ نعمت کی لئے عرض کرتا ہوں کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے مجھ بدکار انسان پر کرم بالائے کر م یہ ہو ا کہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار، بِاِذْنِ پرَوَردگار دوعالَم کے مالِک ومختار، شَہَنْشاہِ اَبرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاخواب میں دیدار ہو گیا ۔
جسے چاہا جلوہ دکھادیا، اُسے جامِ عشق پلا دیا جسے چاہا نیک بنا دیا، یہ مرے حبیب کی بات ہے
جسے چاہا اپنا بنا لیا جسے چاہا در پہ بلا لیا یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت، باب فیضان رمضان، ج۱، ص۱۴۶۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع