دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sag e Madina Kehna kaisa? | سگ مدینہ کہنا کیسا ؟

book_icon
سگ مدینہ کہنا کیسا ؟

سگِ اَصحابِ کَہْف

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  دیکھا آپ نے صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان کا خوفِ خدا !  یقینا ہر صحابی ’’  عادِل ‘‘  غیرِ فاسِقِ اورقَطعی جنَّتی ہے ۔  یقینا یہ حضراتِ قُدسِیّہ عظمتِ انسانی کا مفہوم ہم سے زیادہ سمجھتے تھے ۔  ممکن ہے اِس کے بعد بھی یہ وَسوَسہ باقی رہے کہ کم از کم سگ  کے ساتھ تو انسان کو تَشْبِیہ نہ ہی دی جائے اور اِ س ناپاک جانور کی  نسبت شہرِ مقدّس مدینۃُ الْمنوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً کی  طرف کرتے ہوئے خود کو سگِ مدینہ کہنا تو بَہُت بڑی جِسارت ہے  ! جواباً عرض ہے کہ بطورِ عاجِزی اپنے آپ کوسگ یعنی کُتّا کہنے میں کوئی مُضایَقہ نہیں ، ایسا کہنا بُزُرگوں سے ثابِت ہے  ۔  مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماًکی  عظمت و شرافت پہ لاکھوں سلام مگر خود قراٰنِ مقدس میں سگِ اَصحابِ کہْفکا ذِکرِ خیر موجود ہے ۔  چُنانچِہ پارہ 15سُورَۃُ الْکَہْف آیت 18 میں ارشاد ہوتا ہے  :

وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِؕ-

ترجَمۂ کنز الایمان :  اور ان کا کتّا اپنی کلائیاں پھیلائے ہوئے ہے غار کی  چوکھٹ پر  ۔

 اولیاء کی  صُحبتِ با بَرَکت اور سگ

         مُفَسّرِشہیرحکی مُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان مذکورہ آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں  : اس سے معلوم ہوا کہ بُزُرگوں کی  صحبت کا کتّے پر اتنا اثر ہوا کہ اس کا ذِکر عزّت سے قراٰن میں آیااور اس کے نام کے وظیفے پڑھے جانے لگے اس کو دائمی زندَگی نصیب ہوئی  ۔  مِٹّی اسے نہیں کھاتی ۔ تو جس انسان کو نبی کی  صحبت نصیب ہو اس کا(یعنی صحابی کا) کی ا پوچھنا ! یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام عبادات سے بڑھ کر(عبادت) اچّھی صحبت اختیار کرنا ہے کہ اس کا فائدہ انسانوں تک(ہی) محدود نہیں  ۔  ‘‘ (نور العرفان ص۴۷۰)

        تفسیرُ الْقُرطُبیجلد5صَفْحہ269پر ہے  : اہلِ خیر سے مَحبَّت کرنے والا ضرور اُس کی  برکتیں حاصل کرتا ہے ، ایک کتّے نے نیک بندوں سے مَحبَّت کی  اور ان کی  صحبت اختیار کی  تو اللّٰہ تبارَکَ وَ تعالیٰ نے اُس کا ذِکر اپنی پاکی زہ کتاب(قراٰنِ مجید)میں فرمایا  ۔   

یک زمانہ صُحبتِ با اولیاء

بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

(یعنی ایک ساعت اولیاء ُ اللہ کی  صحبت میں گزار لینا سوسال کی  خالص عبادت سے بہتر ہے )

باطنی قبض

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اولیاء ُ اللہ کی  صحبت سے قلب میں ایمان اس قَدَرمستحکم ہوجاتا ہے کہ سوسال کی  عبادت و ریاضت بھی وہ اثر پیدا نہیں کرپاتی بلکہ

 تَصَوُّف کی  اِصطِلاح میں قبض(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی  یاد کی  طرف دل مائل نہ ہونا) کی  کی فیت کا علاج صحبت ِ شیخ کے علاوہ کوئی نہیں ۔ ایک لمحے کا باطِنی قبض (یعنی یادِ الہٰیعَزَّ وَجَلَّ کی  طرف دل کا متوجِّہ نہ ہونا)بھی اِس قدر تباہ کار ہے کہ طویل رِیاضتوں اور عبادتوں کوبھی انتِہائی کمزور کر دیتا ہے بلکہ آدمی بعض اوقات معاذاللہ عَزَّ وَجَلَّ کفر تک پہنچ جاتا ہے ۔ لُبابُ الاحیاء میں ہے :   ’’  ذکر کا اصل مقصد اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّسے مَحَبَّتہے ۔  ہمیشہ حُضُورِ قلب(دلی توجُّہ) کے ساتھ مستقل طور پر ذکرُ اللہعَزَّ وَجَلَّ کرنے سے یہ  مَحَبَّت حاصل ہوتی اور اسی  مَحَبَّت کی  بَرَکت سے انسان بُرے خاتمے سے محفوظ ر ہتا ہے ۔  واللہ اعلم عَزَّ وَجَلَّ ۔  ( لُبابُ الاحیاء ص۱۰۷دارالبیروتی دمشق) اب باطنی قبض کا علاج کی سے ہو !  کی وں کہ یہ علاج اہلُ اللہ کی    ’’  نظر ‘‘  کے ذَرِیعے بہتر طریقے پر ہو سکتا ہے مگر آج کل اولیاء ُ اللہ کی  صحبتیں نہایت ہی کمیاب ہیں ، پہچان بھی کم ہی لوگوں کو ہوتی ہے ، ٹھوکر کھا جانے کا ہر خطرہ موجود ہے ۔  اِس باطِنی قبض کے علاج کی لئے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامکے مزرات کی  حاضِری بھیاِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ بے حد مفید رہے گی ۔  جتنا مُیَسَّر ہو وہاں ذکرو دُرود و تلاوت اور دینی کتب کے مطالَعے کا سلسلہ رکھئے ، ایصالِ ثواب کی جئے ، دعا مانگئے ، صاحبِ مزار سے نظرِ کرم کی  بھیک اور اپنے مرض کا علاج طلب کی جئے ۔  مگر اطراف کا ماحول اگر غیر شَرعی ہو تو اس سے واسِطہ نہ رکھئے  ۔  دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی  تربیّت کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کی  صُحبت بھی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ نفع بخش پائیں گے ۔  اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ہم سب کو باطِنی قبض سے محفوظ رکھے ، جو اِس کے مریض ہیں ان کو شِفائے کامِلہ نصیب کرے ۔  اور ہمیں اپنی اور اپنے پیارے مَحبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کی مَحَبَّت میں سدا گُم رکھے ۔  اٰمین ۔

مَحَبَّت میں اپنی گما یا الہٰی              نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الہٰی

دل کو ان سے خدا جدا نہ کرے

بے کسی لُوٹ لے خدا نہ کرے

اَصحاب کَہف کی  تعداد

   اَصحابِ کَہْف کی  تعدادمیں مُفسّرین کا اِختلاف ہے مگرقراٰنِ پاک کے اندر اِس کے  بیان میں ہر بار سگِ اَصحابِ کَہف کا ذِکرِ خیر ضَرور کی ا گیا ہے چُنانچِہ پارہ 15سورۃُ الْکَہْف آیت 22 میں ارشاد ہوتا ہے :

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْۚ-وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِۚ-وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْؕ-قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ ﲕ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا۪-وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠(۲۲)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن