30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
: یَا لَیْتَنِیْ کُنْتُ شَجَرَۃً تُعْضَدُ ۔ یعنیہائے کاش ! میں درخت ہوتا، جو کاٹ دیا جاتا ۔ (مشکاۃ المصابیح ج۳ ص ۲۷۲ حدیث ۵۳۴۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت) مُفَسّرِشہیرحکی مُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان اس کے تحت فرماتے ہیں : مطلب یہ ہے کہ میں انسان نہ ہوتا جو احکام کے مُکلَّف ہیں اور گناہ کرتے ہیں ۔ یہ ان لوگوں کا خوف ہے جن کے جنّتی ہونے کی خبر قرآنِ کریم اور صاحِب قراٰن نے دیدی ہے ، اب سوچو کہ ہم کس شمار میں ہیں ! بات یہ ہے کہ جتنا قُرب زیادہ اتنا ہی خوف زیاد ہ، اللّٰہ اپنا خوف عطا کرے ۔ ( مراۃ المناجیح ج۷ ص۵۵ ۱)
میں بجائے انساں کے کوئی پودا ہوتا یا نَخْل بن کے طیبہ کے باغ میں کھڑا ہوتا
گلشنِ مدینہ کا کاش ! ہوتامیں سبز ہ یا بطورِ تنکا ہی میں وہاں پڑا ہوتا
اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
ایک موقع پرامیرُ الْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا : ’’ کاش ! میں دُنبہ ہوتا، مجھے گھر والے خوب فَربِہ کرتے ، مجھے ذَبْح کرتے ، کچھ گوشت بھون لیتے اور کچھ سُکھالیتے پھر مجھے کھا جاتے ، کاش ! میں انسان نہ ہوتا ۔ (حلیۃالاولیاء ج۱ ص۸۸رقم۱۳۶دارالفکر بیروت)
اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
کاش ! میں مدینے کا کوئی دُنبہ ہوتا یا
سینگ والا چِتْکُبرا مَینڈھا بن گیا ہوتا
اسلام کے عظیم سِپہ سالار حضرتِ سیِّدُنا ابو عُبیَدہ بن جَرّاحرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجنہیں حُضوررَحمۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِس اُمَّت کا امین فرمایا ۔ اپنے بارے میں کہا کرتے تھے : ’’ کاش ! میں بَھیڑ کا بچّہ ہوتا ، میرے گھر والے مجھے ذَبح کرڈالتے ، میرا گوشت کھالیتے اور شوربہ پی جاتے ۔ ‘‘ (الطبقات الکبری لابن سعد ج۳ص۳۱۴، ۳۱۵دارالکتب العلمیۃ بیروت)
جاں کَنی کی تکلیفیں ذَبح سے ہیں بڑھ کر کاش
بھیڑ بن کے طیبہ میں ذَبح ہوگیا ہوتا
اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
حضرتِ سیِّدُنا عِمران بن حُصَینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجن سے فِرشتے آکر ملاقات کرتے اور ان پر سلام بھیجتے ، ان کے بارے میں حضرتِ سیِّدُنا قتادہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ فرمایاکرتے : ’’ کاش ! میں راکھ ہوتا جسے ہوائیں اُڑالے جاتیں ۔ ‘‘ (الطبقات الکبری لابن سعد ج۴ص۲۱۶ )
کاش ! میں اُڑتا پھروں خاکِ مدینہ بن کر
اور مچلتا رہوں سرکار کو پانے کی لئے
اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
امُّ المؤمنین حضرتِ عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ تَعَالٰی عنہانے خوفِ خدا کے باعث بجائے انسان کے کبھی دَرَخت، کبھی دَرَخت کے ایک پتّے توکبھی گھاس تو کبھی خاک کی صورت میں پیدا ہونے کی آرزو فرمائی ۔ ‘‘ (الطبقات الکبری ج ۸ ص ۵۹، ۶۰ملخصاً ) اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
اگر قسمت سے میں اُن کی گلی کی خاک ہوجاتا
غمِ کونَین کا سارا بَکھیڑا پاک ہوجاتا
مشہور صحابی حضرتِ سیِّدُنا ابودَرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہایک بار فرمانے لگے : موت کے بعد جو کچھ ہونے والا ہے وہ اگر تم جان لو تو کبھی لذیذ غذائیں نہ کھاؤ، سایہ دارگھروں میں نہ رہو بلکہ ویرانوں کی طرف نکل جاؤاور تمام عمر رونے دھونے میں بسر کردو ۔ اس کے بعد کہنے لگے : ’’ کاش ! میں درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا ‘‘ ( الزھد، للامام احمد بن حنبل ص۱۶۲، رقم ۷۴۰)ایک اور روایت کے مطابق یہ فرمایا : ’’ کاش ! میں دُنبہ ہوتا، مجھے کسی مہمان کی لئے ذَبح کردیا جاتا ، کھالیا جاتااور کِھلادیا جاتا ۔ ‘‘ (تاریخ دمشق لابن عساکِر ج۴۷ص۱۹۳)
فکرِ مَعاش بَدبلا ، ہَولِ مَعاد جانگُزا
لاکھوں بلا میں پھنسنے کو رُوح بدن میں آئی کی وں
اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع