دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sag e Madina Kehna kaisa? | سگ مدینہ کہنا کیسا ؟

book_icon
سگ مدینہ کہنا کیسا ؟

کابُرا لقب رکھنا مَنع ہے ارشاد ہے :

وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-(ترجَمۂ کنزالایمان : )اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو ۔  (پ۲۶ الحجرات۱۱))پھر ان کالقب اس عہدِ مبارَک میں کی سے حمار تھا ؟ بُرالقب رکھنا اِیذا اور اِہانت(یعنی توہین) کاسبب ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی اِس قسم کے نام کسی خاص وجہ سے لوگوں کو پیارے ہوجاتے ہیں مَثَلاًکسی دینی بُزُرگ نے یہ لقب رکھ دیا جیسیامیرُ الْمؤمِنِین، مولَی الْمُسلِمین حضرت علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا نام حُضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  ’’  ا بوتُراب  ‘‘ (یعنی مِٹّی والا) رکھا، ظاہر ہے کہ معنیٔ لُغوی کے اعتبار سے یہ جُملہ توہین کا ہے لیکن حضرت علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکویہ نام سب سے زیادہ پسند تھا اِسی قَبیل(قِسم) سے ابو ہُریرہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) (یعنی چھوٹی سی بلّی والا) ہے  ۔ ذَاتُ النِّطَاقَیْن( یعنی دو کمر بند والی) عرب کے عُرف میں توہین کا لفظ تھا لیکن جب حُضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت اَسماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو ذَاتُ النِّطَاقَیْن( یعنی دو کمر بند والی)کہہ دیا یہ ان کے لئے سرمایۂ افتخار ہوگیا ۔  اسی طرح اِمکان ہے کہ ہوسکتا ہے حُضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی ان کوحِمار فرما دیا یا کسی اور معزَّز نے حِمار کہہ دیاہو جس کی  وجہ سے انہیں یہ نام  پسند آگیا  ۔  

کی وں ہنس کے کہہ دیا  ’’ مرے در کافقیر ‘‘  ہے

میرا مزاج اور بھی شاہانہ ہو گیا

                                                                                                                (نزھۃ القاری ج۵ ص ۷۴۷ فرید بک اسٹال مرکز الاولیاء لاہور)

کاش ! خَر  یا خچَّر یا  گھوڑا   بن  کر  آتا  اور

مصطَفٰے نے کُھونٹے سے باندھ کر رکھا ہوتا

اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی  اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَحابۂ کرام کی  عاجِزِیاں

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان اشرفُ المخلوقات اور عظمتِ انسانی کے مفہوم کو یقینا ہم سے زیادہ سمجھتے تھے ۔  ان نُفُوسِ قُدسِیَّہ نے معاذَاللّٰہعَزَّ وَجَلَّ  بطورِ ناشکری نہیں خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّسے مَغلوب ہوکراوراللّٰہُ قدیر عَزَّ وَجَلَّ  کی  خُفیہ تدبیر سے ڈرتے ہوئے بطورِ عاجِزی کبھی دَرَخت، کبھی خاک، کبھی پرندہ توکبھی چَوپایہ بن کر دنیا میں نہ آنے پر اپنے لئے تشویش کا اظہار فرمایا ! کی ونکہ جانور وغیرہ کو بُرے خاتمے کا کوئی خوف نہیں ، اِسے نَزْع کی  سختیوں ، قبر کی  وَحشتوں ، او رجہنَّم کی  سزاؤں سے واسِطہ نہیں پڑے گا ۔ بلکہ تمنّا کی ا کرتے تھے کہ کاش  ! ہم پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے  !

کاش کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا

قبر و حشر کا سب غم ختم ہو گیا ہوتا

کاش میں پَرندہ ہوتا

                امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے  ایک پرندے کو درخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا توفرمایا :  اے پرندے ! تُو بڑاخوش بخت ہے ، وَاللہ !  کاش  ! میں بھی تیری طرح ہوتا، درخت پر بیٹھتا ، پھل کھاتا ، پھر اُڑجاتا، تجھ پر کوئی حساب وعذاب نہیں ، خداکی  قسم  ! کاش  ! میں کسی راستے کے کَنارے پر کوئی دَرَخت ہوتا، وہاں سے کسی اُونٹ کا گزرہوتا، وہ مجھے منہ میں ڈالتا چباتا پھر نگل جاتا ۔ اے کاش !  میں انسان نہ ہوتا ۔ (مُصَنَّف ابن ابی شَیبۃج۸ ص ۱۴۴، دارالفکر بیروت)ایک موقع پر فرمایا :  ’’ کاش  ! میں کسی مسلمان کے پہلو کا بال ہوتا  ‘‘  ۔  (الزُّھد، للامام احمد بن حنبل ص ۱۳۸ رقم ۵۶۰، دارالغدالجدید مصر)

تار بن گیا ہوتا مُرشِدی کے کُرتے کا

مُرشِدی کے سینے کا بال بن گیا ہوتا

 اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی  اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

کاش !  میری ماں نے ہی مجھ کونہ جنا ہوتا

        حضرتِ سیِّدُناابو ذَرغِفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہایک موقع پر تنکا اٹھاکر فرمانے  لگے : کاش  ! میں یہ تنکا ہوتا، کاش ! میری ماں نے ہی مجھ کونہ جنا ہوتا ۔   (مُصَنَّف ابن ابی شَیبۃج۸ ص ۱۵۲)

آہ !  سلبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے

کاش !  میری ماں نے ہی مجھ کو نہ جنا ہوتا

کاش ! میں پھل دار پَیڑ ہوتا

                میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  یہی حضرتِ سیِّدُناابو ذَرغِفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک بار غَلَبۂ خوف کے وَقت فرمانے لگے :  ’’ خدا کی  قسم !  اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے جس دن مجھے پیدا فرمایا تھاکاش ! اُس دن وہ مجھے ایسا پَیڑ بنادیتا جس کو کاٹ دیا جاتا اور اس کے پھل کھالئے جاتے ۔  ‘‘        (مصنف ابنِ ابی شیبہ ج۸ص۱۸۳)

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !   اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ارشاد فرماتے ہیں : اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی  قسم !  اگر تم وہ چیزیں جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑاہنستے زیادہ روتے اور اپنی عورَتوں سے بستروں پر لذّت حاصل نہ کرتے اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی  پناہ لیتے ہوئے جنگلوں کی  طر ف نکل جاتے حضرتِ سیِّدُناابو ذَرغِفاری رضی اللہ تَعَالٰی  عنہکہنے لگے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن