30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایاکہ : حضرتِ مولیٰ علی کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اپنے ناموں میں ابُو تراب( یعنی مٹّی والے ) سب سے زیادہ پسند تھا ۔ جب انہیں اس کے ساتھ پکارا جاتاتو بَہُت خوش ہوتے تھے ۔ ان کاابُو تُراب نام رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی نے رکھا ۔ (صحیح البخاری ج۱، ۲، ۴ص۱۶۹، ۵۳۵، ۱۵۵حدیث ۴۴۱، ۳۷۰۳ ، ۶۲۰۴ )
آہ ! عطاؔر بن گیا انسان
خاک کی وں نہ بنا مدینے کی
اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! شیر ہمّت کی کی علامت ہے ۔ بہادروں کو عُموماً لوگ ’’ شَیر ‘‘ کہدیا کرتے ہیں حالانکہ یہ ایک ایسے جانور کا نام ہے جس کا لُعاب(تھوک ) نَجاستِ غَلیظہ ہے اورجُھوٹا ناپاک ۔ یہاں عظمتِ انسانی مَجروح ہوئی یا نہیں ؟ہرگز نہیں ہوئی ۔ بہادُروں کے افسر، فاتِحِ خیبر، حضرتِ مولائے کائنات، مولیٰ مشکلکُشا ، علیُّ الْمرتضٰی کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو مسلمانوں کا بچّہ بچّہ شَیرِخُداکہتا ہے ۔ صَدِیّاں بِیت گئیں مگر آج تک کسی عالِمِ دین نے مولیٰ علیکَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو شَیرِخداکہنے سے نہیں روکا تو اگر کوئی بطورِ عاجِزی و بسببِ خوفِ خداوندی خود کو سگِ مدینہ کہے تو اُس پر اعتراض کی وں ؟
دوجہاں کی فکروں سے یوں نَجات مل جاتی
میں مدینے کا سچ مُچ کُتّا بن گیا ہوتا
اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
ابو ہُریرہ کا اصلی نام کی ا تھا؟
مشہور صَحابی حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا نام شاید ہی کسی کو معلوم ہوگا ! ’’ ابو ہُریرہ ‘‘ نام نہیں بلکہکُنْیَتہے جوبارگاہِ رسالت سے عنایت ہوئی تھی ۔ اور ابوہُریرہ کے معنی ہے : (بلّی والا ، یا)بلّی کا باپ ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اصلی نام مبارَک کے بارے میں شارحِ بُخاری حضرت ِسیِّدناعلّامہ عَینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ان (یعنی حضرت ابو ہریرہ )کے نام کے بارے میں تقریباً تیس قول ہیں ، سب سے قریب تر یہ قول ہے کہ ان کانام عبداللہ یا عبدالرحمٰن ہے ۔ (عمدۃ القاری ج اص ۱۹۴ دارالفکر بیروت)
میں غلامِ غلامانِ احمد، میں سگِ آستانِ محمد
قابلِ فخر ہے موت میری، قابلِ رشک ہے میرا جینا
ایک صَحابی کا لقب سَفینہ(کِشتی)تھا
مشہور صحابی حضرتِ سَیِّدُنا سَفینہرضی اللہ تَعَالٰی عنہ کا اصلی نام ایک قول کے مطابِق ’’ مِہران ‘‘ ہے ۔ انہیں بارگاہِ رسالت سے سَفینہ (کِشتی)کا لقب عنایت ہوا اور اسی لقب سے شُہرت پائی ۔ (المنتظم فی تاریخ الملوک والامم لابن الجوزی ج۵ ص۱۴۰، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
آکے نہ پھنسا ہوتا میں بطورِ انساں کاش !
میں سفینہ طیبہ کا کاش بن گیا ہوتا
اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
حضرتِ سیِّدُنا بُرِیدہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ایک بار تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مَعِیَّت(مَ ۔ عِی ۔ یَت) میں مجھے سفر کی سعادت ملی ہوئی تھی رُفَقائے سفرسے سامان کا باراٹھانا دُشوار ہوگیا، اُنہوں نے مجھ پر سامان ڈالنا شروع کردیا، پیارے پیارے حبیب، حبیبِ لبیب ، محبوبِ ربِّ مُجیب عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے قریب سے گزرے تو فرمایا : اَنْتَ زَامِلَۃٌ یعنیتم بوجھ اٹھانے والا اُونٹ ہو ‘‘ ۔ ( تاریخ الاسلام للذ ھبی ج۱ص۱۳۴)
اونٹ بن گیا ہوتا اور عیدِ قرباں میں
کاش ! دستِ آقا سے نَحر ہوگیا ہوتا
اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
بخاری شریف میں ہے : سرورِ کائنات، شَہَنْشاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ظاہِری حیات میں ایک صحابی تھے جن کا نام عبد اللہ اور لقب حِمار ([1]) تھا، وہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ہنسایا کرتے تھے ۔ (صحیح البخاری ج۴ ص۳۳۰ حدیث ۶۷۸۰)شارِحِ بخاری حضرتِ علامہ مفتی محمدشریف الحق امجدی علیہ رحمۃ القوی نُزہَۃُ القاری جلد5صَفْحَہ747 پر لکھتے ہیں : کسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع