30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بسم اللہ کے سات حروف کی نسبت سے چلتی گاڑی میں نفْل پڑھنے کے 7 مدنی پھول
( 1 ) مُسَافِر سواری پر اور پیدل چلتے ہوئے بھی نفْل نماز پڑھ سکتا ہے۔[1] *اس کے لئے طویل سفر ہونا شرط نہیں بلکہ جو کوئی ایسی جگہ جانے کا ارادہ کرے جو شہر یا گاؤں کی فصیل (یعنی چار دیواری سے اور اگر چار دیواری نہیں ہے تو جہاں آبادی ختم ہوتی ہے وہاں) سے اتنے فاصلے پر ہے کہ اتنے فاصلے سے اذان کی آواز سنائی نہیں دیتی تو اس کو بھی سواری پر اور پیدل چلتے ہوئے نفْل پڑھنا جائز ہے۔[2]
( 2 ) پیدل چلتے ہوئے نفْل پڑھنے کی صورت میں چار چیزوں میں قبلہ رُخ ہونا واجب ہے: ( 1 ) تکبیر ِتحریمہ ( 2 ) رکوع ( 3 ) سجود ( 4 ) اور جب دو سجدوں کے درمیان بیٹھے۔ اور باقی چار چیزیں یعنی قیام، اعتدال، تشہد اور سلام، اپنی منزل کی طرف چلتے ہوئے ادا کر سکتا ہے، نیز اس کو رکوع اور سجدے مکمل ادا کرنے ہوں گے، ہاں! اگر کیچڑ یا پانی وغیرہ میں چل رہا ہے جس کی وجہ سے رکوع اور سجدے کرنا مشکل ہے تو اشارے سے ادا کر لے۔[3]
( 3 ) ایسی سواری جس پر پوری نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنا اور تمام اَرْکان یا صِرْف رکوع و سجود ادا کرنا ممکن ہے تو اسی طرح نماز پڑھنا لازم ہے (یعنی پوری نماز میں رُخ قبلہ کی طرف رہے اور اس کے ساتھ اگر تمام اَرْکان ادا کر سکتا ہے تو تمام اَرْکان ادا کرے اور اگر صِرْف رکوع و سجود کر سکتا ہے تو رکوع و سجود کرے)۔ [4] *اور اگر پوری نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنا اور تمام اَرْکان یا صِرْف رکوع و سجود ادا کرنا ایک ساتھ ممکن نہیں ہے تو صِرْف تکبیرِ تحریمہ کے وقْت قبلہ رُخ ہونا لازم ہے (اس کے علاوہ بقیہ نماز اپنی منزل کی طرف منہ کر کے اشارے سے پڑھ سکتا ہے)۔ *ہاں! اگر سواری رُکی ہوئی ہے اور اس میں قبلہ کی طرف منہ کرنا ممکن ہے لیکن نماز کے ارکان ادا نہیں کئے جا سکتے تو جب تک سواری رُکی ہوئی ہے تب تک قبلہ رُخ ہونا ضروری ہے۔[5]
( 4 ) جن صورتوں میں اپنی منزل کے رُخ پر نماز پڑھ رہا ہے اگر جان بوجھ کر دوسری طرف رُخ کیا تو نماز باطل ہو جائے گی، ہاں! اگر قبلہ کی طرف رُخ کیا تو باطل نہیں ہو گی۔[6] *اگر بھول کر یا غلطی سے رُخ دوسری طرف ہو گیا اور پھر فوراً ہی واپس آ گیا تو نماز باطل نہیں ہوئی البتہ آخر میں سجدۂ سہو کر لے۔[7] *راستے میں موڑ آنے کی وجہ سے رُخ دوسری طرف ہو گیا تب بھی نماز باطل نہیں ہو گی۔[8]
( 5 ) جب رکوع و سجود اشارے سے ادا کرے تو واجب ہے کہ سجدے کا اشارہ رکوع کے اشارے سے زیادہ پست ہو (یعنی جس قدر رکوع کے لئے جھکا، سجدے کے لئے اس سے زیادہ جھکے)۔ [9]
( 6 ) پیدل چلتے ہوئے اور چلتی سواری پر (بلا عذرِ شرعی) فرْض پڑھنا جائز نہیں، ہاں! اگر سواری سے اترنے پر اتنی مشقت کا خوف ہے جس کو عادتاً برداشت نہیں کر سکتا یا رُفقا سے پیچھے رہ جانے کا ڈر ہے تو (نوافل کی طرح) اپنی حالت کے مطابق فرْض پڑھ لے پھر اگر اِستقبالِ قبلہ نہیں کیا تھا یا ارکان مکمل نہیں کئے تھے تو بعد میں اس کا اعادہ کرے۔[10]
( 7 ) سواری پر نفل پڑھنے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ سلام پھیرنے تک سفر جاری رہے، اگر نماز کے دوران مقیم ہو گیا تو زمین پر، قبلہ رو، تمام ارکان کے ساتھ نماز مکمل کرے۔[11] اور اگر نفْل نماز مکمل نہ کرنا چاہے تو توڑنا بھی جائز ہے۔ *اسی طرح پیدل چلتے ہوئے نفْل پڑھنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ نماز مکمل ہونے تک چلتا رہے، اگر ٹھہر گیا تو اب اس پر بھی قبلہ رُخ ہو کر نماز مکمل کرنا لازم ہو گیا۔[12]
جمع بین الصلاتین
طویل سفر (یعنی 132 کلومیٹر یا اس سے زائد سفر) میں مُسَافِر دو نمازیں ایک وقت میں جمع کر سکتا ہے۔ [13] یہ اُس صورت میں ہے جب مُسَافِر کسی صحیح مقصد کے لئے سفر پر روانہ ہو اور طے شدہ جگہ پر جانے کا ارادہ رکھتا ہو اور یہ بھی ضروری ہے کہ جمع بین الصلاتین کے جائز ہونے کا علم رکھتا ہو۔[14]
اس کی دو صورتیں ہیں:
( 1 ) جمع تقدیم یعنی ظہر اور عصر دونوں نمازوں کو ظہر کے وقت میں، اسی طرح مغرب اور عشا دونوں نمازوں کو مغرب کے وقْت میں پڑھنا۔[15]
جمع تقدیم کی 6 شرائط
*پہلی نماز پہلے پڑھی جائے (مثلا جب ظہر اور عصر میں جمع تقدیم کریں تو پہلے ظہر پڑھیں اس کے بعد عصر پڑھیں)۔ *پہلی نماز کے شروع یا درمیان یا سلام سے پہلے جمع کی نیت کی جائے۔ *دونوں نمازوں کو پے در پے پڑھا جائے، اگر دونوں نمازوں میں اس قدر فاصلہ ہوا کہ جس میں دو ہلکی رکعتیں پڑھی جا سکتی ہیں اگرچہ یہ فاصلہ عُذر کی وجہ سے ہو جمع تقدیم باطل ہو گئی اب دوسری نماز کو اسی کے وقْت میں پڑھنا واجب ہو گا۔ *جمع تقدیم میں اس بات کا یقین ہونا ضروری ہے کہ پہلی نماز درست ہو چکی ہے، اگر پہلی نماز درست ہونے میں شک ہو تو جمع تقدیم جائز نہیں۔[16] *دوسری نماز کی تکبیر تحریمہ کہنے تک سفر جاری ہو۔ *دوسری نماز مکمل ہونے تک پہلی نماز کا وقْت یقینی طور پر باقی ہو۔[17]
( 2 ) جمع تاخیر یعنی ظہر اور عصر دونوں نمازوں کو عصر کے وقْت میں اسی طرح مغرب اور عشا دونوں نمازوں کو عشا کے وقت میں پڑھنا۔[18]
جمع تاخیر کی 2 شرائط
*دوسری نماز مکمل ہونے تک سفر جاری ہو۔ *پہلی نماز کے وقْت میں جمع تاخیر کی نیت کرنا، جمع تاخیر کی نیت کے لیے پہلی نماز کے وقْت سے اتنا وقْت باقی ہو کہ اس میں ایک رکعت پڑھی جا سکے اگر بالکل نیت نہ کی یا نیت تو کی مگر اس وقْت جب پہلی نماز کے وقْت میں سے اتنا وقْت بھی باقی نہ تھا کہ جس میں ایک رکعت پڑھی جا سکے تو نماز قضا ہو جائے گی۔[19]
کن نمازوں میں جمع تقدیم و جمع تاخیر منع ہے؟
عصر اور مغرب میں، عشا اور فجر میں اسی طرح فجر اور ظہر میں جمع تقدیم اور جمع تاخیر منع ہے۔[20]
مُسَافِر حاجی کے لیے جمع کا مسئلہ
ایسا مُسَافِر جو حج کر رہا ہو اس کے لیے افضل ہے کہ مسجدِ نَمْرَہ (یعنی میدانِ عرفات میں موجود مسجد) میں ظہر و عصر کو ظہر کے وقْت میں پڑھے، اور مُزْدَلفہ میں مغرب و عشا کو عشا کے وقْت میں پڑھے، اگر مُزْدَلفہ پہنچ کر مغرب و عشا مکمل کرنے سے پہلے عشا کا وقْتِ اختیار[21] چھوٹ جانے کا خوف ہو تو مُزْدَلفہ پہنچنے سے پہلے ہی عشا کے وقْت میں مغرب و عشا پڑھ سکتا ہے۔[22]
یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے
شادی غمی کی تقریبات، اجتماعات، اعراس اور جلوسِ میلاد وغیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کر کے ثواب کمائیے، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کے لئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے، اَخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھروں میں حسبِ توفیق رسالے یا مدَنی پھولوں کے پمفلٹ ہر ماہ پہنچا کر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔
قرآن بھلا دینا گناہِ کبیرہ ہے
یقینا حفظِ قرآنِ کریم کارِ ثواب عظیم ہے مگر یاد رہے! حفظ کرنا آسان مگر عمر بھر اِس کو یاد رکھنا دُشوار ہے۔ حفاظ و حَافظات کو چاہئے کہ روزانہ کم از کم ایک پارہ لازِمًا تلاوت کر لیا کریں۔ جو حفاظ رمضان المبارک کی آمد سے تھوڑا عرصہ قبل فقط مصلی سنانے کے لیے منزِل پکی کرتے ہیں اور اس کے علاوہ سارا سال غفلت کے سبب کئی آیات بھلائے رہتے ہیں، وہ باربار پڑھیں اور خوفِ خدا سے لرزیں۔ علامہ شیخ عبد الحمید شروانی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: ”پورا قرآن بھول جانا یا اس کا کچھ حصہ بھول جانا گناہِ کبیرہ ہے اور سنت یہ ہے کہ کہے مجھے قرآن بھلا دیا گیا نہ کہ میں قرآن بھول گیا۔“[23]
3 فرامینِ مصطفے
( 1 ) میری اُمّت کے ثواب میرے حضور پیش کیے گئے یہاں تک کہ میں نے ان میں وہ تنکا بھی پایا جسے آدمی مسجد سے نکالتا ہے اور میری اُمّت کے گناہ میرے حضور پیش کیے گئےمیں نے اس سے بڑا گناہ نہ دیکھا کہ کسی آدمی کو قرآن کی ایک سورت یا ایک آیت یاد ہو پھر وہ اسے بھلا دے۔[24]
( 2 ) جو شخص قرآن پڑھے پھر اسے بھلا دے تو قیامت کے دن اللہ پاک سے کوڑھی ہو کر ملے۔[25]
( 3 ) قیامت کے دن میری اُمّت کو جس گناہ کا پورا بدلہ دیا جائے گا وہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو قرآن پاک کی کوئی سورت یاد تھی پھر اس نے اسے بھلا دیا۔[26]
[1]...تحفۃ المحتاج، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان استقبال الکعبۃ...الخ، 1/219۔
[2]...تحفۃ المحتاج مع حاشیہ شروانی، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان استقبال الکعبۃ...الخ، 2/124 ملتقطا۔
[3]...تحفۃ المحتاج، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان استقبال الکعبۃ...الخ، 1/220 بتقدم و تاخر۔
اعانۃ الطالبین، باب الصلاۃ، 1/211، 212 بتقدم و تاخر۔
[4]...تحفۃ المحتاج، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان استقبال الکعبۃ...الخ، 1/220۔
[5]...تحفۃ المحتاج، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان استقبال الکعبۃ...الخ، 1/220 ملتقطا۔
[6]...اعانۃ الطالبین، باب الصلاۃ، 1/212۔
[7]...تحفۃ المحتاج مع حاشیہ شروانی، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان استقبال الکعبۃ...الخ، 2/127، 128 ملتقطا۔
[8]...تحفۃ المحتاج، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان استقبال الکعبۃ...الخ، 1/220۔
[9]...تحفۃ المحتاج، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان استقبال الکعبۃ...الخ، 1/220۔
[10]...تحفۃ المحتاج، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان استقبال الکعبۃ...الخ، 1/221ملتقطا۔
بشری الکریم، باب صفۃ الصلاۃ، فصل فی شروط الصلاۃ، ص287 ملتقطا، مؤسسۃ الرسالۃ ناشرون۔
[11]...تحفۃ المحتاج، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان استقبال الکعبۃ...الخ، 1/219۔
نہایۃ المحتاج، کتاب الصلاۃ، فصل فی بیان القبلۃ...الخ، 1/268۔
[12]...نہایۃ الزین، باب الصلاۃ، فصل فی مسائل منثورۃ، ص54، دار الکتب العلمیہ بیروت۔
[13]...تحفۃ المحتاج، کتاب صلاۃ الجماعۃ، باب کیفیۃ صلاۃ المسافر...الخ، فصل فی الجمع بین الصلاتین، 1/399۔
[14]...اعانۃ الطالبین، باب الصلاۃ، فصل فی صلاۃ الجمعۃ، 2/172۔
[15]...تحفۃ المحتاج، کتاب صلاۃ الجماعۃ، باب کیفیۃ صلاۃ المسافر...الخ، فصل فی الجمع بین الصلاتین، 1/399۔
[16]...تحفۃ المحتاج مع حاشیہ شروانی، کتاب صلاۃ الجماعۃ، باب کیفیۃ صلاۃ المسافر...الخ، فصل فی الجمع بین الصلاتین، 3/256، 258، 259، 262 بتقدم و تاخر۔
[17]...اعانۃ الطالبین، باب الصلاۃ، فصل فی صلاۃ الجمعۃ، 2/171، 172 ملتقطا۔
[18]...تحفۃ المحتاج، کتاب صلاۃ الجماعۃ، باب کیفیۃ صلاۃ المسافر...الخ، فصل فی الجمع بین الصلاتین، 1/399۔
[19]...تحفۃ المحتاج، کتاب صلاۃ الجماعۃ، باب کیفیۃ صلاۃ المسافر...الخ، فصل فی الجمع بین الصلاتین، 1/402 بتقدم و تاخر۔
[20]...تحفۃ المحتاج، کتاب صلاۃ الجماعۃ، باب کیفیۃ صلاۃ المسافر...الخ، فصل فی الجمع بین الصلاتین، 1/399، 401، 402 بتقدم و تاخر۔
[21]...یعنی رات کا ایک تہائی حصّہ
[22]...تحفۃ المحتاج مع حاشیہ شروانی، کتاب صلاۃ الجماعۃ، باب کیفیۃ صلاۃ المسافر...الٰخ، فصل فی الجمع بین الصلاتین، 3/257۔
[23]...حاشیہ شروانی علی التحفہ، کتاب الطہارۃ، باب اسباب الحدث، 1/256۔
[24]...ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی من قراَ حرفا...الخ، ص677، حدیث: 2916، دار الکتب العلمیہ بیروت۔
[25]...ابوداود، کتاب الصلاۃ/الوتر، باب التشدید فیمن حفظ القرآن ثم نسیہ، ص242، حدیث: 1474، دار الکتب العلمیہ بیروت۔
[26]...جمع الجوامع، 3/145، حدیث: 7894، دار الکتب العلمیہ بیروت۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع