پیارےپیارےاسلامی بھائیو!سارامدینہ ہی زیارت گاہ ہے،کیاکُہسارِ مدینہ اور کیا صحرائے مدینہ،مدینۂ پاک کے خار ہوں یا مبارک غار ہر طرف بہار ہی بہار ہے،مدینہ ٔ پاک کی مبارک زیارت گاہوں میں سے ایک اہم زیارت جبلِ اُحد شریف اور مزارِحضرتِ امیرحمزہ رضی اللہُ عنہ ہے۔عاشقِ مدینہ امیرِاہلِ سنّت نے کئی بار عَمِّ رسول ، اسدُللہِ و اَسَدُ رَسولہٖ یعنی اللہ پاک اوراُس کے پیارے پیارے آخری رسول کے شیر حضرتِ امیر حمزہ رضی اللہُ عنہ کے مزارِ مبارک پر حاضری کی سعادت پائی ۔ امیرِاہلِ سنّت کراچی سے اکیلے ہی سفرِ مدینہ پر روانہ ہوئے تھے مگر وہاں ایک جاننے والے مل گئے تھے،آپ اُن کے ساتھ حاضری کےلئے گئے۔ حضرتِ امیرِ حمزہ رضی اللہُ عنہ کے مزار شریف کے ساتھ دیگر شُہَدائے اُحد کےجانبازصحابہ کرام علیہمُ الرّضوان بھی آرام فرما ہیں۔ اِن مزاراتِ مبُارکہ پر حاضری بڑی سعادت کی بات ہےکیونکہ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خودہر سال کےشروع یا آخر میں شُہَدائے اُحُد رضی اللہُ عنہم کی زیارت کو تشریف لے جاتے۔
(تفسیر درمنثور،پ13، الرعد، تحت الآیۃ:24، 4/640 ،641)
ایک روایت میں ہے کہ اللہ پاک کے رحمت والے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم زیارتِ شُہَدائے اُحُد کو تشریف لے گئے اور عرض کی:یااللہ پاک! تیرا بندہ اورتیرا نبی گواہی دیتا ہے کہ یہ شہید ہیں اور قیامت تک جو اِن کی زیارت کو آئے گا اور ان پر سلام کرے گا یہ جواب دیں گے۔ (مستدرک، 3/569، حدیث: 4376)
تقریباًایک ہزار سال پہلے کے بُزرگ حضرتِ امام ابوبكر احمد بن حسين بَیْہقی رحمۃُ اللہِ علیہ اپنی کتاب ’’دلائلُ النُبُوَّۃ‘‘میں لکھتےہیں:ایک صاحب کہتے ہیں کہ مجھے میرے والدِ محترم مدینہ ٔ پاک سے شہدائے اُحد کے مزارات کی طرف لے گئے ، جمعہ کا دِن تھا، صبح ہو چکی تھی مگر سورج ابھی طُلوع نہیں ہواتھا، میں اپنے والدِ محترم کے پیچھے تھا۔جب ہم مزارات شریف پر پہنچے تومیرے والد صاحب نے بُلند آواز سے عرض کیا: سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ یعنی تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ جو اب آیا: وعلیکم السلام یَا ابَا عبدِ اﷲ۔ میرے والد صاحب نے میری طرف مڑ کر دیکھا اور کہا کہ اے میرے بیٹے! تُو نے جواب دیاہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے میر اہاتھ پکڑ کر اپنی سیدھی طرف کرلیا اوردوبارہ یہی سلام عرض کیا: دوبارہ ویسا ہی جواب ملا، تیسری بار پھر سلام کیاتوپھر وہی جواب عنایت ہوا۔اس پر میرے والدِ محترم اللہ پا ک کے بارگاہ میں سجدۂ شُکر میں گر پڑے۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی،3 /309)
سیِّدی حمزہ کو اور جُملہ شہیدانِ اُحُد کو بھی اور سب غازیوں کو شہسُواروں کو سلام
(حدائقِ بخشش ،ص610)
اے عاشقانِ رسول! صحابۂ کرام و اولیائے عظام علیہمُ الرّضوان کے مزارات شریف پر حاضری دینا اوراِن کی بارگاہ میں سلام عرض کرنا خوش نصیبوں کا حصہ ہے ،دیکھئے ! تقریباً ایک ہزار سال پہلے کے بزرگ رحمۃُ اللہِ علیہ کی کتاب سےمزارات شریف پر حاضری کا ثبوت ملا اورشہدائے اُحد کی کرامت بھی ظاہر ہوئی ،جانثارصحابہ کرام علیہمُ الرّضوان نے نہ صِرف سلام کا جواب دیا بلکہ اللہ پاک کی عطاسے سلام کرنے والا کانام و کُنیت تک جان لی۔
اللہ ربُّ الْعِزَّت کی ان پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمین بِجاہِ خاتَمِ النَّبِیّیْن صلّی اللہُ علیهِ واٰلهٖ وسلّم
اللہُ غنی! شانِ ولی! راج دلوں پر دنیا سے چلےجائیں حکومت نہیں جاتی
(وسائل بخشش،ص383)
اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب خود شہدائے اُحد کے مزارات پر تشریف لے گئے تو اَب کسی اللہ والے کے مزار شریف پر جانے میں کیاحرج ہوسکتاہے ۔اللہ کریم!ہمیں عاشقانِ رسول کی صحبت نصیب فرمائے اور بزرگانِ دین کے مزارات پر ادب وتعظیم کےساتھ حاضری دینے کی سعادت عطافرمائے۔
آل و اصحاب سے محبَّت ہے اور سب اولیا سے اُلفت ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
عاشقِ مدینہ امیرِاہلِ سنّت شہدائے اُحد کی خدمت میں حاضری دینے کے بعد مدینۂ پاک کے مشہور ومعروف عاشقِ رسول پہاڑ کی زیارت کےلئے چلے،یہ ایسا خوش نصیب پہاڑ ہے کہ اِس کی خوش قسمتی پر جتنا رَشک کیا جائے اُتنا کم ہے ،کاش! میں اس مبارک پہاڑ کاایک چھوٹا سے پتھر ہوتا ۔اِس سعادت مند پہاڑ پر قدمِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم لگے ہیں اورحضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِ س پہاڑ کے بارے میں ارشادفرمایاہے: ہٰذَا اُحُدٌ يُحِبُّنَا وَ نُحِبُّہُ یعنی یہ اُحد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
( بخاری،3/ 150، حدیث : 4422)
حضرتِ مفتی احمدیارخان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتےہیں:اُحد شریف مدینہ پاک سے بجانب مشرق تقریبًا تین میل دور ایک پہاڑ ہے مدینہ منورہ خصوصاً جنّتُ البقیع سے صاف نظر آتا ہے،وہاں شہدائےاحد خصوصاً سیدُ الشُّہَداء امیر حمزہ (رضی اللہُ عنہم )کے مزارات ہیں،زائرین جوق در جوق اس پہاڑ کی زیارت کرتے ہیں،میں نے حجاج کو اِس پہاڑ سے لپٹ کر روتے اور وہاں کے پتھروں کو چومتے دیکھا ہے۔ہر مومن کے دل میں قدرتی طور پر اس کی محبت ہے۔حق یہ ہے کہ خود پہاڑ ہی حضور سے محبت کرتا ہے،لکڑیوں پتھروں میں احساس بھی ہے اور محبت و عَداوت کا مادَّہ بھی،حضور کے فِراق (یعنی جُدائی)میں اونٹ بھی روئے اور لکڑیوں نے بھی گریہ و زاری و فریاد کی ہے۔لہذا حق یہ ہے کہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم احد پہاڑ سے،اِس علاقے سے،وہاں کے پتھروں سے محبت فرماتے ہیں اور یہ تمام چیزیں بعینہٖ حضور سے محبت کرتی ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،4/219) مزید ایک اورمقام پر ارشاد فرماتے ہیں:جنہیں پتھر کے دل کا حال معلوم ہے کیا انہیں انسانوں کے دل کا حال معلوم نہ ہو گا ۔
(مِراٰۃ المناجیح،2/113)
پَہاڑوں میں بھی حُسن کانٹے بھی دِلکَش بَہاروں نے کیسا نِکھارا مدینہ
(وسائل بخشش،ص355)
اے عاشقانِ مدینہ!یہ مبارک پہاڑتقریباًپونے چار میل تک پھیلا ہواہے۔یہ عالیشا ن پہاڑ جنّت کے دروازوں میں سے ایک دروازےپر ہے۔(معجم اوسط ،5/37،حدیث :6505)
ایک اورحدیثِ پاک میں ہے کہ اُحد پہاڑ جنت کے پہاڑوں میں سے ہے۔(معجم کبیر، 17/18،حدیث: 19) اس مبارک پہاڑ کی چوٹی پراللہ پاک کے پیارے نبی،حضرتِ موسیٰ کلیم اللہ علیہ السّلام کے بھائی حضرت ِ ہارون علیہ السّلام کا مزار شریف بھی ہے۔ (لیکن اب اِس کی زیارت بے حد مشکل ہے)(ارشاد الساری ، 9/148، تحت الحدیث: 4084)
عاشقِ مدینہ امیرِاہلِ سنّت فرماتے ہیں :میں نے جب جبلِ اُحد شریف کی زیارت کی تو اُس وقت دھوپ شریف کی بھی حاضری تھی،میں نے اپنے ساتھی سے کہا:دیکھو تو سہی! کنکریاں کیسے چمک رہی ہیں۔حقیقت تویہ ہے کہ مدینہ ٔ پاک کے ایک ایک مبارک پتھر پردنیاکے تمام ہیرے جواہرات قربان ۔ اُحد شریف سے واپس جانے کاوقت آیاتو واپسی کا راستہ یاد نہ رہا،چاروں طرف پہاڑ ہی پہاڑ اورواپس جانے کا رستہ نہیں دکھائی دے رہا تھا ۔ کوئی ایسا فردبھی قریب نہ تھاکہ جس سے راستہ معلوم کیا جاسکے، امیرِاہلِ سنّت کے رفیق پریشان ہوگئے مگر عاشقِ مدینہ کے چہر ےپر بالکل اطمینان و سکون کی کیفیت تھی گویا:
ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں قصدا ً بھٹک جائیں گے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے
عاشقِ مدینہ کی دِلی یہ کیفیت تھی کہ یہ تو میرے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا مبارک شہر ہے یہاں مجھے کس چیز کی پریشانی ،امیراہل سنّت اُحد شریف کے مبارک پتھروں پرلیٹ کر مولاناجمیل الرحمن رحمۃُ اللہِ علیہ کا شعر پڑھنے لگے:
لاشہ میرا طیبہ کے بیاباں میں پڑا ہو اور روح بنے بُلبُلِ بُستانِ محمد
یعنی کاش! مجھے مدینۂ پاک کے صَحْرا وغیرہ میں اِس طرح موت آئے کہ میری میت پڑی ہو اور میری روح بُلبُل کی طرح پرواز کرتے ہوئے باغ ِ محمد کی سَیر کر رہی ہو۔
عاشق ِ مدینہ اپنے عشق و مستی کے عالم میں مصروف تھے جبکہ آپ کا رفیقِ سفر پریشان تھا ہوسکتاہےاُسے یہ خیال بھی آتاہوکہ یہ بھی کیسا عاشقِ رسول ہے کہ راستہ مل نہیں رہا ، موت سر پر منڈلا رہی ہے اور اِسے کوئی فکر ہی نہیں ہے ۔ اگر یہیں پر رات ہو گئی تو پھر بظاہر بچانے کے لیے بھی کوئی نہیں آئے گا۔ لیکن امیرِاہلِ سنت سوفیصد مُطمئن تھے۔قَلْب و ذہن میں بس یہی خیال تھا کہ ہم ہیں کہاں؟مدینے میں! حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دامن میں! عاشقِ مدینہ نےحدیثِ پاک پر عمل کرنے کی نیت سے اُحد شریف کی کچھ جڑی بوٹیاں،گھاس وغیرہ بھی استعمال فرمائی کہ حدیثِ پاک میں ہے: مدینے والے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :جب تم اُحد پہاڑ پر جاؤ تو وہاں کے درخت یا کچھ گھاس کھا لو ۔ (معجم
اوسط، 1/516، حدیث: 1905) بالآخر واپسی کا راستہ مل ہی گیا اور پھر وہاں سے واپس قیام گاہ تشریف لے آئے۔
… رفیق الحرمین کتاب کی تصنیف اوراس کے حوالے سے دیگر دلچسپ معلومات پر شعبہ ہفتہ وار رسائل کی جانب سے عنقریب ایک رسالہ جاری ہوگا۔ان شاء اللہ الکریم
… مکمل کلام پڑھنے کےلئے وسائل بخشش صفحہ 494 کا مطالعہ کیجئے۔