1980ء میں امیرِ اہلِ سنّت کے پہلے سفرِ مدینہ کے موقع پر مسجدِ نبوی شریف کے مبارک دروازے جسے سلطان عبدُالمجید کی نسبت سے بابِ مجیدی کہتے ہیں کی جانب سٹرکیں کھُدی ہوئی تھیں اور روڈ پر سنگریزے اُبھرے ہوئے تھے، عاشقِ مدینہ امیرِ اہلِ سنت ننگے پاؤں مدینہ ٔپاک کی مبارک شاہراہوں پر چلتے ہوئے اپنے پیرو مرشد کے آستانے کی جانب حاضری کےلئے بڑھے جار ہے تھے کہ ایک پتھر شریف سے پاؤں میں چوٹ لگ گئی۔پاؤ ں میں وَرَم اورسوجن کے سبب چلنے میں تکلیف ہونے لگی۔ایک صاحب جو ہسپتال میں کام کرتےاور سَیِّدی قُطْبِ مدینہ رحمۃُ اللہِ علیہ کے آستانہ ٔ عالیہ پر حاضر ہوا کرتے تھےاُنہیں ڈاکٹر صاحب اور عاشق کے لقب سے بُلایاجاتاتھا ۔ عاشقِ مدینہ امیرِ اہلِ سنت کی جب اُن سے ملاقات اور بات چیت ہوئی تووہ واقعی بڑے عاشق نکلے، کہنے لگے : یہ تو مدینے کی چوٹ ہے اِس کا علاج کیسا؟پھر اُنہوں نے چند بزرگوں کے واقعات سنائے، جنہیں سنتے ہی امیراہل سنّت نے فرمایا: میں اِس زخمِ مدینہ کا علاج نہیں کرواؤں گا۔ گویا:
یہ زخم ہے طیبہ کا یہ سب کو نہیں ملتا کوشش نہ کرے کوئی اِس زخم کو سینے کی
اِسی تکلیف کے ساتھ آپ ننگے پاؤں چلتے رہے۔ایک بار یونہی درد کے عالَم میں چلتے ہوئے سنہری جالیوں پر حاضر ہوکر آقائے مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی :یارسولَ اللہ! یہ آپ کی مبارک گلی کی چوٹ ہے اور آپ کو میرے حالات کی سب خبر ہے ، اگر میں صبر کرسکوں تب تویہ درد زندگی بھر میرے ساتھ رہے اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں صبر نہیں کر پاؤں گا تو آپ نے ہی اِسے ٹھیک فرمانا ہے، میں اس کا علاج نہیں کروں گا ۔عاشقِ مدینہ ناز بھرے اَندازمیں یہ عرض کرکے واپس اپنی قیام گاہ پر آگئے۔ گرمی شریف کی حاضری اوردھوپ شریف میں سِکائی کے سبب دو چار دن میں وہ درد خود بخود چلا گیا۔
شافی و نافی ہو تم کافی و وافی ہو تم درد کو کر دو دوا تم پہ کروروں درود(حدائقِ بخشش ،ص369)
اے عاشقانِ مدینہ! کائنات کی حسین ترین مسجد،عاشقوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک مسجدِ نبوی شریف میں عموماً امیرِ اہلِ سنّت اکیلےحاضری دیتے۔ عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ایک سُہانی شام کوعاشقِ مدینہ مسجدِ نبوی شریف میں حاضری دینے کے بعد بابِ جبریل سے نکل کر جنَّتُ البقیع کی جانب تنِ تنہا مدینے کی گلیوں میں جارہے تھے۔ اُس مبارک دَور میں بابِ جبریل کے سامنے کچھ عمارتیں تھیں جن کے بیچ ایک پُرکیف جو دِیکھنے میں چھوٹی مگر عظمت کے لحاظ سے بہت بڑی بَل کھاتی مبارک گلی جنَّتُ البقیع کی طرف جاتی تھیں۔بابرکت کیوں نہ ہوکہ شہرِ مدینہ کی گلی ہونے کا شرف جو پایا، مزید باعثِ فضیلت یوں کہ اُس مبارک گلی میں کئی مکانات شریف کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ اہلِ بیتِ اَطْہار کے مکاناتِ عظمت نشان ہیں اور بابِ جبریل کے سامنے والے مکان کے بارے میں بتایا جاتا تھا کہ یہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ،عاشقِ اکبر حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہُ عنہ کا مکانِ عالی شان تھا ۔اُس خوش نصیب گلی
کو عاشقان ِرسول بہشْتی گلی (یعنی جنّتی گلی)کہا کرتے تھے۔لیکن اَب وہ گلی شریف ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھی جاسکتی کیونکہ اُسے شہید کرکے مسجد شریف میں ہی شامل کردیا گیا ہے۔
پاوے ایناں گلیاں دا دیدار جو ہو جاوے رحمتاں دا حقدار او
تر گئے جنہاں نے تک لیاں مدینے دیاں پاک گلیاں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
عاشقِ مدینہ بابِ جبریل سے آقائے مدینہ کے شہرِ مدینہ کی بابرکت گلیوں سے گزر رہے تھے کہ سامنے زمین پر ایک چیز پر ” المدینہ“ لکھا ہوا دیکھا۔دل پَسیج گیا کہ وہ مدینہ جس کا نام لینے سے منہ میں شہد گُھل جائے،وہ مدینہ جس کے نام سے عاشقوں کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوجائیں، وہ مدینہ کہ جس کا نام لینے سے نسیمِ خُلد (یعنی جنت کی ہوا ) چلنے لگے جیساکہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں:
نامِ مدینہ لے دیا چلنے لگی نسیمِ خُلد سوزِشِ غم کو ہم نے بھی کیسی ہوا بتائی کیوں
(حدائقِ بخشش شریف،ص96)
وہ مدینہ جو ساری کائنات کا نگینہ،آقائے مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا بابرکت شہرہے ۔ اُس مبارک نام کو عقیدت و شوق سےچوم لیا ایک بڑی عمر کے شخص نے یہ دیکھا تو نجانے اپنی زبان میں کیا کہنے لگا! امیرِ اہلِ سنّت نامِ مدینہ چوم کر کچھ آگے بڑ ھے ہی تھے کہ پیچھے سے کسی کے سلام کرنے کی آواز آئی ،مُڑ کر دیکھا تو ایک پاکستانی شخص تھا اُس نے بڑے اچھے اندا ز سے ملاقات کی اورعرض کیا:اُس شخص کا بُرا نہ منائیے ۔آپ کےسنہری جالیوں پر حاضری دینے کے وقت سے میں آپ کو دیکھتا آرہا ہوں۔مجھے آپ کےانداز بہت اچھے لگے ہیں، آپ ہمارے گھر چلیں اورمیرے یہاں کھانا کھائیں۔عاشقِ مدینہ نے فرمایا: مجھے کھانے کی طلب نہیں ،پھر اُس نے عرض کیا:چلیں مجھ سے کچھ رقم تحفۃً قبول فرمالیں ۔عاشقِ مدینہ کبھی نہ ختم ہونے والی عشقِ رسول کی دولت سے مالامال تھےاُنہیں دنیا کی ناپائیداردولت سے کیاسروکار ،آپ نےرقم لینے سے انکارکرتے ہوئے فرمایا: اَلْحمدُلِلّٰہ میرے پاس رقم موجود ہے ۔ پھر اُس نے اپنے یہاں قیام کرنے کی دعوت پیش کی تو آ پ نے فرمایا : اَلْحمدُلِلّٰہ میرے پاس ٹھہرنے کی جگہ بھی ہے ۔اُس نے بڑا اصرار کیا مگر آپ نے اُسے منع فرما دیا۔
دیوانگی پہ میری ہنستے ہیں عقل والے رستہ تری گلی کا پوچھا تری گلی میں
دیوانہ کر دیا ہے دیوانہ ہو گیا ہوں دیکھا ہے میں نے ایسا جلوہ تری گلی میں
مدینے کی مبارک گلیوں کی توکیا ہی بات ہے۔وہ مبارک گلیاں جہاں سے حضو ر صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سینکڑوں بلکہ ہزاروں بار گزرے ہیں ،صحابۂ کرام واہلِ بیتِ اَطْہار علیہمُ الرّضوان کے مبارک مکانات کے نشان ہیں،اِن مبارک گلیوں کی عظمت و شان کیسے بیان ہو۔مدینہ ٔ پاک کی شان میں کئی شُعَرا نے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہزاروں اَشْعار لکھے ہیں۔ سَیِّدی قُطْبِ مدینہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں:سید امجد حسین امجد حیدرآبادی نے مدینہ ٔ پاک میں اپنی مشہور نعت میرے گھر پر لکھی۔(انوار قط مدینہ، ص 231) اُس نعت میں مدینۂ پاک کی مبارک گلیوں کاذکرِ خیر بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔اُس نعت کے چند اَشْعار یہ ہیں:
کس چیز کی کمی ہے مولا تری گلی میں دنیا تری گلی میں عُقْبیٰ تری گلی میں
کس طرح پاؤں رکھیں یاں صاحبِ بصیرت آنکھیں بچھی ہوئی ہیں ہر جَا تری گلی میں
موت و حیات میری دونوں ترے لیے ہیں مرنا تری گلی میں جینا تری گلی میں
سورج تجلّیوں کا ہر دم چمک رہا ہے دیکھا نہیں کسی دن سایہ تری گلی میں
امجدؔ کو آج تک ہم ادنیٰ سمجھ رہے تھے لیکن مقام اس کا پایا تری گلی میں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
مدینے کے عاشقوں کےبھی کیا ہی خوب رنگ ہوتے ہیں،کسی نے عاشقِ مدینہ امیرِاہلِ سنت کو 1980کے سفرِ مدینہ میں بتایاکہ کراچی سے کچھ حُجَّاجِ کرام مدینۂ پاک حاضر ہوئے اوراُنہوں نے ایک مکان کرائے پر لیا اُس مکان سے بچھو نکلتے تھے،مگروہ عاشقانِ رسول حُجَّاجِ کرام اُن بچھوؤں کو مارتے نہیں تھے کہ یہ مدینے کے بچھو ہیں۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اپنا اپنا عشق اوراپنے اپنے ذوق کی بات ہوتی ہے۔عشق ومحبت کے یہ اندازنصیب والوں کا حصہ ہیں۔جب تک شریعت کسی کام سے منع نہ کرے اُس سے منع کرنا درست نہیں کیونکہ جو بات شریعت سے نہیں ٹکراتی اُس سے ہم کیسے منع کرسکتے ہیں؟ تکلیف پہنچانے والےموذی جانوروں کو اگرچہ بِلاضرورت بھی مارسکتے ہیں مگر مارنا واجب بھی نہیں ،ہاں ! اگر اپنے آپ یا کسی دوسرےکو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتوالگ بات ہے لیکن اگر کوئی بچھو یا کنکھجورا کہیں جارہا ہے اورآپ کو تکلیف بھی نہیں دے رہا تو اب مارنا ضروری تونہیں اوراگر کوئی نسبت کی وجہ سے اُسے مارنے سے بچے تو ایسے عاشقِ رسول کی کیا بات ہے ۔اللہ کریم!ہمیں بھی اپنےپیارے پیارے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے عاشقوں کے عشقِ مدینہ کا صدقہ نصیب فرمائے۔
عاشقِ مدینہ امیرِ اہلِ سنّت فرماتےہیں:مدینےکی کھجور شریف کا بیج بھی نہیں پھینکنا چاہئے بلکہ ہوسکے تو سَروتے وغیرہ کے ذریعے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے موقع بہ موقع منہ میں رکھ کر کھالیجئے یا پھر کہیں ٹھنڈا کردیں۔مدینۂ پاک سے نسبت کی وجہ سے اس طرح ادب کریں گے تو اِن شاءَ اللہ ثواب ملے گا۔
مدینے کے دیوانو! جس طرح اب2022 تک عرب شریف میں ظاہری طور پر بناوٹی خوبصورتی کے مختلف مناظر پیداکئے گئے ہیں ۔ امیرِ اہلِ سنّت کی 1980 کی حاضریٔ مدینہ میں بظاہر ایسا کچھ نہ تھا۔ صحرائے عرب اورفضائے مدینہ کے جلوے تھے۔ مختلف شُعرا نعتوں میں مدینۂ پا ک کو گلزارِ مدینہ،باغِ مدینہ،گلشنِ مدینہ وغیرہ کے الفاظ سے بیان کرتے ہیں جس سے یوں لگتاتھاکہ شاید وہاں بظاہر بھی ہر طرف ہریالی ہی ہریالی اور خوبصورت مناظر (Sceneries) ہوں گی مگر عاشقِ مدینہ کےعشقِ مدینہ نےجواب دیا:اگر مدینہ ٔ پاک میں واقعی ظاہری قدرتی ایسی ہریالیاں اورخوبصورت مناظر ہوتے تو شاید کوئی کہہ سکتاتھا کہ لوگ مدینےمیں اِن خوبصورت مناظر کو دیکھنے جاتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ۔ عاشقوں کے دل و دماغ میں دنیا کا خوبصورت ترین منظر سبز سبز گنبد شریف اورسنہری جالیوں کے جلوےسمائے ہوئےہیں۔عشاقِ مدینہ اِس لئے مدینہ مدینہ کہہ رہے ہیں، مدینے کےلئے تڑپ رہے ہیں،اس کو دیکھنے کےلئے ترس رہے ہیں کہ وہاں آقائے مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بَنفس ِنفیس تشریف فرما ہیں ۔ایک اور شاعر نے کتنی پیاری بات کہی ہے:
صحرائے مدینہ کے جب دیکھ لیے جلوے گلشن کے نظارے سب بے کار نظر آئے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
عاشقِ مدینہ امیرِ اہلِ سنّت نے حَرَمینِ طَیِّبَیْن کے زائرین کی رہنمائی کے لئے ’’رفیقُ الحرَمین ‘‘نامی ایک کتاب لکھی ہے جس میں مکے مدینے میں حاضری کےآداب کے ساتھ ساتھ حج و عمر ہ کا طریقہ اورحج ،عمرےکےاہم دینی مسائل کا بیان ہے ۔
آپ فرماتےہیں:میں اس کتاب کو یکسوئی سےلکھنے کےلئے کلفٹن (کراچی، پاکستان) میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رُکن حاجی عبدالحبیب عطاری کے والد صاحب حاجی یعقوب گنگ صاحب(مرحوم) کےہاں ٹھہرا ہواتھا ، موسمِ بہار شروع ہوا توگھروں کے باہرکیاریوں میں رنگ برنگے خوبصورت پھول کِھلنا شروع ہوئے،ہرگھر کے باہر پھول ہی پھو ل تھے،اِسی لمحے میری توجہ صحرائے مدینہ کی رونق کی طرف گئی تو قلبِ عطّارنے یہ فیصلہ کیا کہ صحرائے مدینہ کی پُرکیف رونقوں کے سامنے اِن پھولوں کی رونق کچھ بھی نہیں،کیونکہ اِس رونق میں گُم ہوکر آدمی غفلت میں ڈوب سکتاہے جبکہ بندہ یادِ مدینہ میں جتنا بڑھتا جائے اُتنا ہی منزل کےقریب ہوتاچلا جائےگا، انہی سوچوں میں عاشقِ مدینہ نےقلم لیا اوراپنی دِلی کیفیات کو کچھ اس طرح اشعار کی صورت میں قلمبند کیا:
جس طرف دیکھئے گلشن میں بہار آئی ہے دل مگر دشتِ مدینہ کا تمنّائی ہے
خوشنما پھول گُلستاں میں کِھلے ہیں لیکن میرا دل خارِ مدینہ ہی کا شیدائی ہے
( آڈیو بیان: ( نگاہ مصطفی کی ادائیں))
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
… اس کتاب کو دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹwww.dawateislami.netسے فری ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتاہے نیز زائرین مدینہ کو یہ کتاب تحفۃ ً پیش کیجئے ان شاء اللہ الکریم ثواب کا خزانہ ہاتھ آنے کے ساتھ ساتھ خوب معلومات میں اضافہ ہوگا۔