30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائیں ، لیکن یہ جذبہ اب کہاں!بعض اَمیر لوگ بہت عیش و عشرت والی زندگی گزارتے ہیں حتّٰی کہ ان کے بیتُ الخلا بھی لاکھوں کے بنے ہوتے ہیں لیکن اللہ پاک کی راہ میں پیسہ دیتے وقت ایسا لگتا ہے گویا ان کی جان نکل رہی ہے ۔ اولاً تو زکوٰۃ ہی نہیں ادا کرتے اور اگر دے بھی دیں تو غریبوں کو خوب دھکے کھلاتے اور توہىن آمىز انداز اپناتے ہیں یقیناً یہ رَویہ بالکل بھی دُرُست نہیں ۔
سُوال : قربانى کرنا کس پر واجب ہے ؟
جواب : 10ذُوالْحِجّۃِ الْحَرام کى صبحِ صادِق سے لے کر 12ذُوالْحِجّۃِ الْحَرام کے غُروبِ آفتاب تک کے دَرمىان اگر کوئى مسلمان عاقِل ، بالغ ، مقیم اور صاحبِ نِصاب ہو اور وہ نِصاب اس کے قرض اور ضَروریاتِ زندگی مىںمُسْتَغْرَق (یعنی ڈوبا ہوا ) نہ ہو تو اِس صورت مىں قربانى واجب ہو گى ۔
کیا مُسافِر پر قربانی واجب ہے ؟
سُوال : کیا مُسافر پر قربانی واجب ہے ؟
جواب : جوشَرعاً مُسافِر ہے اس پر قربانی واجب نہیں ۔
قربانی کے جانور کی عمر کا اِعتبار ہے یا دانت نکالنے کا ؟
سُوال : کیا ایسے جانور کی قربانی جائز ہے جو اپنی قربانی کی عمر پوری کر چکا ہو مگر اس نے دانت نہ نکالے ہوں؟بقر عید کے موقع پر بیوپاری گاہکوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے اس جانور نے اگرچہ دانت نہیں نکالے مگر یہ اپنی قربانی کی عمر پوری کر چکا ہے تو گاہک وہ جانور خَریدنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور کہتے ہیں کہ دانت نکالنا ضَروری ہے ، اگر وہی جانور بیوپاری آدھی قیمت پر دینے کے لیے تیار ہو جائے تو گاہک اسے خَرید لیتے ہیں ، ان کا ایسا کرنا کیسا؟
جواب : جو جانور قربانی کی عمر پوری کر چکے ہوں ان کی قربانی جائز ہے اگرچہ انہوں نے دانت نہ نکالے ہوں ۔ قربانی کے جائز ہونے کے لیے اُونٹ کی عمر کم ازکم پانچ سال ، گائے کی دو سال اور بکرا ، بکری ، دُنبہ ، دُنبی اور بھیڑ کی ایک سال ہونا ضَروری ہے ۔ اَلبتہ اگر دُنبہ یا بھیڑ کا چھ مہینے کا بچہ اتنا بڑا ہو کہ دُور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو توا س کی قربانی بھی جائز ہے ۔ یاد رکھیے ! قربانی جائز ہونے کے لیے جانوروں کی عمر پوری ہونا ضَروری ہے نہ کہ دانت نکالنا کیونکہ جو جانور آزاد گھوم پھر کر چَرتے اور نوچ نوچ کر گھاس کھاتے ہیں وہ مسلسل دانتوں سے گھاس کھینچتے رہنے کے سبب اپنی قربانی کی عمر پوری ہونے سے پہلے ہی دانت نکال دیتے ہیں اور جو جانور بندھے ہوئے ہوتے ہیں وہ بسااوقات عمر پوری ہونے کے باوجود دانت نہیں نکال پاتے ۔ جانور وں کی عمر کے مُعاملے میں لوگ بیوپاریوں پر اِس لیے اِعتماد نہیں کرتے کہ کثرت سے جھوٹ اور دھوکا دہی کے باعِث اُن کا بیوپاریوں سے اِعتماد اُٹھ چکا ہوتا ہے ۔ بعض بیوپاری جانوروں کی کٹی ہوئی دُم ٹیپ لگا کر جوڑ دیتے ہیں اور جس رنگ کے جانور کے بال ہوتے ہیں ٹیپ پر اسی طرح کا رنگ لگا دیتے ہیں جس کے باعِث خَریدار کو یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ جانور کی دُم کٹی ہوئی ہے اور پھر جب وہ بیچارہ اُسے گھر لے جا کر دُم سے پکڑتا ہے تو دُم نکل کر اُس کے ہاتھ میں آ جاتی ہے ۔ اِسی طرح بعض بیوپاری جانوروں کے دانت دِکھاتے ہوئے بھی دھوکا دہی سے کام لیتے ہیں ۔ اگرچہ سب بیوپاری دھوکے باز نہیں ہوتے مگر لوگ اِیماندار بیوپاریوں پر بھی اِس لیے اِعتماد نہیں کرتے کہ دودھ کا جَلا چھاچھ پُھونک پُھونک کر پیتا ہے ۔
اگر بیوپاری باشرع اور نیک آدمی ہے اور وہ کہتا ہے کہ جانور کی عمر پوری ہے ، گاہک کو اس پر اِعتماد ہے کہ وہ جانور کی عمر بتانے میں جھوٹ نہیں بول رہا تو اس صورت میں اگر گاہک نے اُس سے جانور خرید کر قربانی کر لی تو اس کی قربانی ہو جائے گی اگرچہ دانت نہ نکلے ہوں ۔ بہتر یہ ہے کہ قربانی کا جانور چاہے وہ گائے ہو یا بکرا چار دانت کا ہونا چاہیے ، بکرا اگر چار دانت کا ہو تو اس کا گوشت عمدہ ہوتا ہے مگر ہمارے یہاں دو دانت کی رَسم چل پڑی ہے ۔ جانور خَریدنے والے بھی دو دَانت کا مُطالبہ کرتے ہیں اور بیوپاری بھی دو دَانت کی صَدائیں لگاتے ہیں ۔ بسااوقات جانور آٹھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع