30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سمجھ سکتا ہے ۔
حجاج کے لیے قربانی کا جانور خریدنے کی اِحتیاطیں
سُوال : حجاج ِ کِرام حج کے شکرانے کی قربانی کرتے ہیں تو انہیں قربانی کا جانور خریدتے وقت کیا اِحتیاطیں کرنی چاہئیں کہ اُن کی قربانی دُرُست ہو جائے ؟
جواب : حجاج ِ کِرام کا حج کے شکرانے میں مِنیٰ میں قربانی کرنا سُنَّت ہے مگر فی زمانہ اِس سُنَّت پر عمل نہیں کیا جا سکتا کہ اِنتظامیہ کی طرف سے مِنیٰ میں قربانی کرنے پر پابندی ہے ۔ چونکہ لاکھوں حجاج قربانی کرتے ہیں اِس لیے اِنتظامیہ نے اپنی سہولت کے پیشِ نظر مُزدَلفہ میں مَذبح خانہ قائم کر رکھا ہے ۔ یاد رکھیے ! حج کے شکرانے کی قربانی کا حُدودِ حَرم میں ہونا واجِب ہے ۔ عَرفات شریف حُدود ِ حَرم سے باہر ہے اور مُزدَلفہ حُدودِ حَرم میں داخِل ہے اس لیے مَذبح خانے میں قربانی کرنے سے حُدودِ حَرم میں قربانی کا واجب ادا ہو جاتا ہے ۔ حجاج کو قربانی کا جانور خریدتے ہوئے بہت زیادہ اِحتیاط کی حاجت ہے کیونکہ وہاں بڑا جانور مثلاً اُونٹ پانچ سال کا اور گائے دو سال کی ملنا بہت دُشوار ہوتا ہے ۔ اگر حجاج کو مُزدَلفہ میں قربانی کے لائِق جانور نہیں مِل پاتا تو وہ حُدودِ حَرم میں ہی واقع ” سُوقِ حلاقہ“ کا رُخ کریں وہاں انہیں قربانی کی شَرائط کے مُطابِق جانور مِل جائے گا ۔ تجربہ کار لوگ ” سُوقِ حلاقہ“میں ہی اپنی قربانیاں کرتے ہیں مگر ہر حاجی ” سُوقِ حلاقہ“سے جانور خَریدنے کے وَسائِل نہیں پاتا ۔ یاد رکھیے ! حج کے شکرانے کی قربانی اپنے ہاتھ سے کرنے میں ہی عافیت ہے ۔ بہت سے حجاج کاروان والوں کو حج کے شکرانے کی قربانی کے پیسے جمع کروا دیتے ہیں ۔ اگرچہ ہر کاروان والے چور اُچکے اور چیٹر نہیں ہوتے مگر بعض کاروان والے قربانی کرنے کے بجائے قربانی کے پیسے خود کھا جاتے ہوں گے ۔ حجاج کو چاہیے کہ قربانی اپنے ہاتھ سے کریں یا پھر کسی دِیانت دار اور پرہیزگار کاروان والے کو رَقم دے کر اپنی قربانی کا وَکیل بنا دیں ۔ حجاج اللہ پاک کے مہمان ہوتے ہیں مگر انہیں بھی دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے ۔ حج کے دِنوں میں کرایوں کے دام بھی بڑھا دیئے جاتے ہیں جس کے سبب حجاج کو آزمائِش کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ عام دِنوں میں مِنیٰ سے مسجدِ حَرام شریف تک کا کرایہ دو رِیال ہوتا ہے مگر جب حاجی مِنیٰ سے طوافِ زیارت کے لیے مسجدِ حَرام شریف جاتے ہیں تو کرایہ دو رِیال سے بڑھا کر 20 یا 30 رِیال کر دیا جاتا ہے ۔
اِسی طرح حَرم شریف میں قربانی کے جانور بیچنے والے ان جانوروں کو بھی ” ہٰذَا کَامِل ، ہٰذَا کَامِل“ کہہ کر چلا رہے ہوتے ہیں جو قربانی کی شَرائط پر پورا نہیں اُترتے مثلاً قربانی کی شَرائط میں سے ہے کہ جانور کے کان ثابِت ہوں اور اگر کوئی کان کٹا بھی ہوتو ایک تہائی سے زیادہ نہ کٹا ہو ورنہ قربانی نہیں ہو گی لیکن عوام اور بیچنے والے شاید سمجھتے ہیں کہ کان کا مٹھی میں آنا ضَروری ہے ، یہی وجہ ہے کہ حَرم شریف میں بیچنے والے کان مٹھی میں پکڑ پکڑ کر دِکھا رہے ہوتے ہیں لیکن اصل مَسئلہ یہی ہے کہ ” اگر جانور کا کان ایک تہائی سے زیادہ کٹا ہوا ہو تو قربانی نہیں ہو گی ۔ “ ([1]) مٹھی سے کم زیادہ ہونا مِعیار نہیں ۔
یوں ہی بیچنے والے کم عمر جانور کو بھی ” ہٰذَا کَامِل“ کہہ دیتے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ کم عمر جانور کسی کے کامل کہہ دینے سے کامل نہیں ہو جاتا اور نہ ہی ان کا حَرم میں ایسا کہنا ان کی سچائی کی دَلیل بن سکتا ہے ۔ حجاجِ کرام کو چاہیے کہ بیچنے والوں کی باتوں میں آنے کے بجائے جانوروں کے کان ، دُم اور عمر وغیرہ سب اچھی طرح جانچ کر ہی جانور خَریدیں اگرچہ کچھ مہنگا ملے ۔ دو پیسے بچانے کے لیے اپنی قربانی کو داؤ پر نہ لگائیں ۔ معمولی عیب ہونے کی صورت میں اگرچہ قربانی ہو جائے گی مگر ذرا غور تو کیجیے کہ جب ہم اپنی زندگی میں اچھے سے اچھا کھاتے ، مہنگے سے مہنگا سوٹ پہنتے اورعمدہ سے عمدہ گاڑی اِستعمال کرتے ہیں تو پھر اللہ پاک کی راہ میں کیوں نہ سب سے اچھے ، عمدہ اور بیش بہا جانور کی قربانی پیش کریں ۔ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے صَدقے سب کچھ ملا ہے لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف سے قربانی کرنے کے لیے منڈی کے سب سے عمدہ جانور کو خَریدا جائے اور خَریدتے وقت اس کا بھاؤ بھی کم نہ کروایا جائے بلکہ جتنے پیسے مالک نے مانگے ہیں اس سے زیادہ پیش کیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع