30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔ جن کے بال جھڑتے ہوں ان کے لیے اِحرام باندھنے سے پہلے بال بالکل چھوٹے کروا لینا بہتر ہے تاکہ وُضو وغیرہ میں پانی لگنے سے بال نہ جھڑیں ورنہ کفارہ لازِم آئے گا ۔ اَلبتہ داڑھی شریف کے بال جھڑتے ہوں تو داڑھی مونڈنے یا ایک مٹھی سے کم کروانے کی اِجازت نہیں کیونکہ داڑھی رکھنا واجب ہے ، مونڈوانا یا ایک مٹھی سے گھٹانا ناجائز و حرام ہے ۔ ہاں! اگر خود بخود بال جھڑ جائیں یا بیماری کی وجہ سے سارے بال ہی گِر پڑیں تو کوئی کفارہ نہیں ۔ ([1])
ٹھنڈا آبِِ زَم زَم پینا کیسا؟
سُوال : حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں آبِ زَم زَم شرىف کے کولر لگے ہوئے ہوتے ہیں جن میں ٹھنڈا اور سادہ دونوں طرح کا پانی ہوتا ہے ، زائرین کو کون سا پانی پینا چاہیے ؟
جواب : زَم زَم شریف شِفا اور بَرکت والا پانی ہے لیکن جن کو ٹھنڈا پانی مُوافِق نہیں آتا تو وہ آبِ زَم زَم بھی ٹھنڈا نہ پئیں ورنہ نَزلہ ، زکام ، بخار اور گلے کی خرابی جیسی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں ہر جگہ اے سی (A.C) چل رہے ہوتے ہیں ، اب زائرین میں بہت سے لوگ اے سی (A.C) کے عادی نہیں ہوتے یا اگر عادی ہوں جب بھی اے سی (A.C) کی ٹھنڈک سے ایک دَم باہر تیز گرمی میں نکلیں گے یا تیز گرمی سے فوراً اے سی (A.C) میں جائیں گے تو یہ اِنسانی صحت کے لیے نُقصان دِہ ہے ، پھر اوپر سے ٹھنڈا ٹھنڈا آبِ زَم زَم یا کولڈ ڈرنک پینے سے بیماری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اگر بیمار نہ بھی ہوئے تب بھی ایک پریشانی تو آنی ہی آنی ہے وہ یہ کہ ٹھنڈا پانی پینے سے بار بار پیشاب آتا ہے ، چونکہ حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں اِستنجا خانے اور وُضو خانے دور ہوتے ہیں اور ان پر رَش بھی ہوتا ہے لہٰذا قیمتی وقت اِستنجا خانے کے چکر لگانے میں ہی گزر جائے گا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اِستنجاخانے جاتے جاتے کچھ قطرے بھی نکل جائیں اور یوں ناپاکی کی صورت میں دُہری پریشانی کا سامنا کرنا پڑ جائے ، لہٰذا جن کی طبیعت کو ٹھنڈا پانی مُوافِق بھی ہے وہ بھی حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں ٹھنڈا آبِ زَم زَم پینے کے بجائے مکس کر کے پئیں ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ وُضو کافی دیر تک بَرقرار رہے گا ، عبادت کے لیے وقت ملے گا اور یکسوئی بھی نصیب ہو گی ۔
حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن کے کبوتروں کو اُڑانا کیسا؟
سُوال : لوگ حج و عمرہ کرنے کے لیے جاتے ہیں تو وہاں حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً کے کبوتروں کو دانہ ڈالتے ہیں ، یہ کبوتر دانہ چگ رہے ہوتے ہیں تو لوگ ان کے بیچ میں سے ہو کر گزرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کبوتروں کو بار بار اُڑنا پڑتا ہے ، تو کیا یہ کبوتروں کو تنگ کرنا اور اِیذا دینا کہلائے گا؟
جواب : اگر وہ جگہ ایسی ہے جہاں سے لوگ گزرتے ہیں اور ان کے گزرنے کی وجہ سے کبوتر تھوڑا بِدک کر اُڑ جاتے ہیں لیکن پھر آ کر دانہ چگنے لگتے ہیں تو اسے اِیذا دینا نہیں کہا جائے گا ۔ حَرم کے کبوتروں کی یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ اتنا جلدی اُڑتے نہیں ، دِیگر مقامات کے کبوتروں کے مقابلے میں وہ بہادر ہوتے ہیں کیونکہ انہیں وہاں کوئی پکڑتا نہیں اور نہ ہی بلی وغیرہ کوئی جانور ان پر جھپٹتا دیکھا گیاہے اس لیے ان کے دِل کھل جاتے ہیں جبکہ دِیگر مقامات کے کبوتروں کو خوف لاحِق ہوتا ہے وہ فوراً اُڑ جاتے ہیں ۔
ہاں اگر کوئی انہیں بیٹھنے اور دانہ چگنے ہی نہ دے ، بار بار انہیں اُڑا دے تو یہ ان کی تکلیف و اِیذا کا باعِث ہے ۔ اِسی طرح اگر وہاں سے گزرنے کا کوئی متبادل راستہ ہے یا وہاں سے تھوڑا ہَٹ کر گزر سکتے ہیں لیکن اِس کے باوجود کوئی جان بوجھ کر ان کے بیچ میں سے گزرتا ہے تاکہ یہ اُڑیں تو ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کھانا کھا رہا ہو ، بیچ میں کوئی ٹپک پڑے اور اسے کھانے سے روک دے تو اسے ناگوار گزرتا ہے یوں ہی ہو سکتا ہے انہیں بھی ناگوار گزرتا ہو ۔ پھر حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً کے کبوتروں کا اَدب و اِحترام کتنا ہے یہ ہر عقلمند آدمی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع