دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Safar e Hajj Ki Ihtiyatain Malfuzat-e-Ameer Ahle Sunnat Qist 7 | سفر حج کی احتیاطیں-ملفوظات امیر اہلسنت قسط -7

book_icon
سفر حج کی احتیاطیں-ملفوظات امیر اہلسنت قسط -7

و نواح بلکہ جَدّہ تک سے کئی لوگ حج کے لیے آ جایا  کرتے تھے جس کی وجہ سے شدید اِزدِحام ہو جاتا تھا مگر اب اس کی اِجازت نہیں ہے ۔  ایسی صورت میں اگر میں ہجوم لگا کر بیٹھ گیا تو کئی مَسائِل کا سامنا ہو سکتا ہے ۔   لہٰذا  سفرِ حج میں جو اسلامی بھائی مجھ سے ملنا چاہتے ہیں وہ میدانِ عَرفات میں دُعا کے موقع پر مُلاقات فرما لیا کریں اِس کے عِلاوہ کسی بھی مقام پر مُلاقات کی صورت میں پریشانی ہو سکتی ہے ۔    

طواف کے دَوران سیلفی لینا کیسا؟

سُوال : دَورانِ طواف بہت سے لوگ سیلفی یا مووی بنا رہے ہوتے ہیں تاکہ زندگی کا یادگار لمحہ محفوظ رہے ، ان کا ایسا کرنا کیسا؟

جواب : یادگار لمحے کو محفوظ رکھنے کے لیے سیلفی لینے کی ممانعت تو نہیں لیکن جو یکسوئی اور خشوع وخضوع کے مَواقع ہیں مثلاً دَورانِ طواف اور مُواجہہ شریف کی حاضِری  وغیرہ تو وہاں سیلفی یا ویڈیو بنانے سے اِجتناب کرنا چاہیے  بلکہ موبائِل فون کی گھنٹی بھی بند کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشوع و خضوع کے مانع ہے ۔  پہلے پہل حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں تصویر سازی پر پابندی تھی ، جو ایسا کرتے پکڑا جاتا تو اِنتظامیہ  والے اس سے کیمرہ لے کر توڑ دیتے لیکن موبائل فون آنے کے بعد گویا اِنتظامیہ نے بھی ہار مان لی ۔ اب کئی لوگ  موبائل فون کے ذَریعے ویڈیو یا فوٹو بنانے میں مَصروف ہوتے ہیں ۔  ظاہر ہے کہ اس کے ساتھ مشغول رہتے ہوئے کبھی بھی عبادت میں  یکسوئی نہیں مِل سکتی بلکہ دَورانِ طواف ، سعی ، وُقوفِ عَرفات اور دِیگر رَش والی جگہوں پر فوٹو یا ویڈیو بنانے کی صورت میں گناہ میں پڑنے کا بھی  اَندیشہ ہے ، وہ اِس طرح کہ دائیں بائیں موجود عورت یا اَمرد بھی ویڈیو یا فوٹو  میں آ سکتے ہیں  اور اگر ایسا نہ بھی ہوا جب بھی جتنا وقت فوٹو یا ویڈیو بنانے میں صَرف ہو گا وہ عبادت سے خالی رہے گا جبکہ اِس  مبارک سفر کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے ۔  خاص کر طواف تو بہت اَہم عبادت ہے بلکہ یہ ایسی عبادت ہے جو صِرف خانۂ   کعبہ میں ہی ہو سکتی ہے ، اِسی بِناپر خانۂ  کعبہ میں حاضِر ہونے والے کے لیے افضل ہے کہ نفلی نماز اور دِیگر نفلی عبادات کے بجائے صِرف طواف میں اپنا وقت صَرف کرے ۔ ([1]) اِس مُبارَک سفر میں تو اپنے گناہوں کو یاد کر کے قدم قدم پر شرمندگی اور ندامت کا اِحساس ہو ، ہر وقت بس یہی خیال دِل و دماغ پر چھایا رہے کہ ایک بھاگا ہوا مجرم اپنے پاک ربّ کی بارگاہ میں حاضِر ہوا ہے لہٰذا اسے کوئی بھی لمحہ گپ شپ ، شاپنگ یا آپس کی ہنسی مذاق  میں گزارنا زیب نہیں دیتا ۔  ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ   الْمُبِیْن تو اِس تصوُّر کی وجہ سے اِس مُبارک سفر میں سواری پر بیٹھنا بھی پسند نہ فرماتے تھے جیساکہ حضرتِ سَیِّدُنا مالِک بِن دِینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار  حج کے لئے بَصرہ سے پاپیادہ  نکلے ۔  کسی نے عرض کی کہ آپ سوار کیوں نہیں ہوتے ؟ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ بھاگا ہوا غُلام جب اپنے مولا کے دَربار میں صُلح کے لئے حاضِر ہو تو کیا اسے سُوار ہو کر آنا چاہیے ؟ خُدا کی قسم! اگر میں مکۂ معظمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً میں انگاروں پر چلتا ہوا آؤں تو بھی کم ہے ۔ ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ  اللّٰہُ   الْمُبِیْن کا اِس مُبارَک سفر میں کیسا ذوق و شوق ہوتا تھا کہ پیدل چلنا تو دَرکنار انگاروں پر چل کر آنے کو بھی کم سمجھتے تھے ۔  کاش! ہمیں بھی ان کے ذوق سے کچھ حِصّہ مِل جاتا اور  طواف کے دَوران رونا ، نگاہیں جھکا کر مستانا وار گردِ کعبہ گھومنا نصیب ہو جاتا ۔  یاد رہے کہ ” دَورانِ طواف پریشان نظری یعنی اِدھر اُدھر فضول دیکھنا مکروہ ہے ۔ “ ([3]) لہٰذا نظریں جھکائے دِل ہی دِل میں دُعائیں مانگتے ہوئے طواف کیجئے کہ یہ لمحے زندگی میں بار بار نہیں آتے ۔ کروڑوں مسلمانوں میں سے آپ کو رب تعالیٰ نے اپنے دَر کی حاضِری کے لیے چُنا ہے لہٰذا اِن لمحات کی قدر کیجئے ۔  

حالتِ اِحرام میں خود بخود بال جھڑ جائیں تو ۔ ۔ ۔ ؟

سُوال : عموماً لوگ عمرہ کرنے کے بعد حلق کرواتے ہیں مگر آپ نے عمرے کی اَدائیگی سے پہلے ہی حلق  کروا لیا ہے  اس میں کیا حِکمت ہے ؟

جواب : میں نے حلق نہیں کروایا بلکہ تقصیر کروائی ہے کیونکہ حلق بالوں کو مونڈنے کا نام ہے جبکہ میں نے سر پر مشین پھر وائی ہے تاکہ بال نہ جھڑیں



[1]    مُفَسّرِشہیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : مسجدِحرام میں بجائے نوافل کے طواف بہتر ہے ۔ (مِراٰۃُ المناجیح ، ۱ / ۴۳۷)

[2]    تنبیه المغترین ، الباب الاول من اخلاق السلف الصالح ، ص۴۹  دار المعرفة  بیروت

[3]    فتاویٰ رضویہ ، ۱۰ / ۷۴۵ ماخوذاً 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن