دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Safar e Hajj Ki Ihtiyatain Malfuzat-e-Ameer Ahle Sunnat Qist 7 | سفر حج کی احتیاطیں-ملفوظات امیر اہلسنت قسط -7

book_icon
سفر حج کی احتیاطیں-ملفوظات امیر اہلسنت قسط -7

حجاج کا اپنے خیموں میں دوسروں کو ٹھہرانا کیسا؟

سُوال : کیا حج کے موقع پر حاجی اپنے ہوٹل کے کمرے اور مِنٰی یا عَرَفات  کے خیمے میں کسی دوسرے حاجی  کو ٹھہرا سکتا ہے ؟

جواب :  حج کے موقع پر حجاجِ کِرام  کو ہوٹلوں میں  کمرے  اور مِنٰی و عَرفات میں  خیمے رہنے کے لیے دیئے جاتے ہیں جن میں حاجیوں کی مخصوص تعداد رہتی ہے ، یعنی ہوٹل کے ایک  کمرے میں پانچ اور مِنٰی و عَرفات کے خیمے میں کم و بیش 20 حجاج  ہوتے ہیں ۔  اگر کوئی حاجی اپنے کمرے یا خیمے والے حجاج ِکِرام کے عِلاوہ کسی دوسرے حاجی کو اپنے ساتھ ٹھہرائے گا تو دِیگر حجاجِ کِرام اس کی وجہ سے آزمائش میں آسکتے ہیں اور وہ شخص ان کی حق تلفی کرنے کی وجہ سے گناہ گاربھی ہو گا ۔  لہٰذا کسی بھی حاجی کے لیے دوسرے حاجی کو اپنے کمرے میں ٹھہرانا جائز نہیں اگرچہ ان کا مُعَلِّم ایک ہی ہو کیونکہ کمرے میں تعداد زیادہ ہونے سے آزمائش ہو سکتی ہے ۔  نیز ہوٹل اور خیمے کی اِنتظامیہ کسی بھی حاجی   کو خیمہ یا کمرہ دینے سے پہلے اس کے ساتھ رہنے والے اَفراد کی تعداد معلوم کرتی ہے ، پھر اسی حِساب سے کرایہ  وُصول  کیا جاتا ہے اگر کوئی حاجی کسی ایسے حاجی کو اپنے ساتھ ٹھہرانے کی کوشش کرے جس کا کرایہ ہی نہیں دیا گیا  تو سخت گناہ گار ہو گا ۔  

حج پر جانے والی شخصیات کے لیے اِحتیاطیں

سُوال : شخصیات سے ملنے کے لیے بہت سے لوگ ان کے کمروں یا خیموں میں چلے جاتے ہیں ، ایسی صورت میں شخصیات کو کیا اِحتیاطیں کرنی  چاہئیں ؟

جواب : جب کوئی مشہور شخصیت حج پرجاتی ہے تو لوگ جوق دَر جوق ان سے ملنے آتے ہیں ، جس کی وجہ سے ان کے کمرے یا خیمے  میں بہت بھیڑ ہوجاتی ہے ۔  نتیجتاً اس کمرے یا خیمے میں موجود دِیگر حجاجِ کِرام  سخت آزمائِش میں آ جاتے ہیں اب نہ تو  وہ اپنی  اِنفرادی عبادت کر پاتے ہیں اور  نہ ہی ان کے لیے آرام کرنا ممکن ہوتا ہے ۔ لہٰذا وہاں موجود حجاجِ کِرام کو چاہیے کہ وہ حتَّی الامکان کسی دوسرے حاجی کے کمروں یا خیموں میں نہ جائیں اور شخصیات بھی کوئی ایسی راہ نکالیں کہ ان کے پاس کم سے کم لوگ آئیں تاکہ ان کے ساتھ موجود دِیگر حجاجِ کِرام آزمائِش کا شِکار نہ ہوں ۔ عموماً ایک دو مہمانوں کا آکر مُلاقات کرنا  باعثِ تکلیف نہیں ہوتا مگر آنے والوں کی بھیڑ لگی رہنا مُناسب نہیں اور بعض اوقات بھیڑ کی وجہ سے حقوقُ العباد تلف (یعنی بندوں کے حقوق ضائع) ہونے کا بھی اَندیشہ ہوتا ہے ۔  خُصُوصاً مِنٰی اور عَرفات میں کیونکہ وہاں خیموں میں رُکنے والوں کو پانی بھی مخصوص مِقدار میں دیا جاتا ہے اور ان کے بیتُ الخلا بھی مخصوص ہوتے ہیں ۔  اگر ان شخصیات سے ملنے والے کثیر تعداد میں ان کے خیمے میں جمع ہو گئے تو دِیگر حجاجِ کِرام پریشان ہو جائیں گے  اور انہیں اِستنجا و وُضو میں بہت دُشواری پیش آئے گی ۔  

سفر ِحج میں اَمیر اہلسنَّت کی اِحتیاطیں

جب مجھے حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً کی سعادت نصیب ہوتی ہے تو میں اسلامی بھائیوں سے یہی کہتا ہوں کہ خُدارا میری رِہائش  جس خیمے یا  ہوٹل میں ہو اس کا پتا کسی کو بھی نہ دیا جائے ۔ اگرچہ بہت سے اہلِ محبت مُلاقات کے خواہش مند ہوتے ہوں گے لیکن مجھے حقوقُ العباد تلف ہونے کا شدید خوف رہتا ہے ۔  اگر میرے مُحِبِّیْن (یعنی محبت کرنے والوں) کو میرے خیمے یا ہوٹل کا عِلم ہوا تو  وہاں بہت زیادہ بھیڑ ہو جائے گی اور کئی حجاجِ کِرام   تکلیف میں آجائیں گے ۔  ہو سکتا ہے وہ زبان سے تو  اپنی تکلیف کا اِظہار نہ کریں مگر دِل ہی دِل میں بُرا مانیں کہ نہ جانے کیسا آدمی ہے ہمیں تکلیف  میں ڈال کر خود  بڑے سکون سے لوگوں  کے ہجوم میں بیٹھا ہے ۔ نیز اگر وہ دعوتِ اسلامی سے واقِف ہوئے تو اس کے بارے میں بھی دُرُست رائے قائم نہیں کریں گے ۔  مِنٰی اور عَرفات میں تو بہت زیادہ آزمائِش کا سامنا کرنا پڑ جائے گا کیونکہ وہاں خیموں میں مَردوں کے ساتھ ساتھ خواتین  بھی ہوتی ہیں اور ہم ان کے پَردے کا اِہتمام کرتے ہوئے دَرمیان میں چادریں لٹکا دیتے ہیں ۔  اگر کثیر اسلامی بھائی  مجھ سے مُلاقات کے لیے آ گئے  تو پَرد ے میں موجود اسلامی بہنیں پریشان ہو جائیں گی اور انہیں پَردے  کے مُعاملات میں سخت دُشواری پیش آئے گی ۔  ہوٹل یا خیموں کے عِلاوہ کسی اور مقام پر بھی میں مُلاقات کے لیے نہیں بیٹھ سکتا کیونکہ وہاں بھی سخت بھیڑ لگ جانے کا اَندیشہ رہے گا جس سے آنے جانے کا راستہ متأثر ہو سکتا ہے  لہٰذا یہ بھی مُنا سِب نہیں ۔   ہجوم کی وجہ سے وہاں پر موجود پولیس والے کسی کو ایک جگہ پر مستقل بیٹھنے بھی  نہیں دیتے بلکہ حج کے موقع پر  کیونکہ  بہت ہجوم ہو جاتا ہے اِسی وجہ سے وہاں کے مقامی لوگوں کے لیے حج کرنے کے سخت  قَوانین بنادیئے گئے ہیں ۔  ورنہ پہلے گِرد

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن