30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صدائے مدینہ کی بَرَکَت سے پہلی صَف میں تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ با جَمَاعَت نَماز پڑھنے کی سَعَادَت بھی ملتی ہےاورپہلی صَف میں تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ نَماز پڑھنے والے مَدَنی انعام پر عَمَل بھی ہو جاتا ہے۔ چُنَانْچِہ پہلی صَف میں نَماز با جَمَاعَت ادا کرنے کے مُتَعَلِّق حضرت سَیِّدُنا بَراء بن عازِب رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں كہ حُضُورِ پاک، صاحِبِ لَولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے فرشتے پہلی صَف پر رَحْمَت بھیجتے ہیں۔([1]) اور اسی طرح حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَـحْبُوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان اور پہلی صَف میں کیا ہے؟ اور پھر ان دونوں سعادتوں کو پانے کے لیے اگر اُنہیں قُرْعَہ اندازی بھی کرنا پڑے تو ضَرور کر گزریں۔([2]) یعنی لوگ جب اَذان اور صَفِ اَوّل کے ثواب کو جان لیں گے تو ہر ایک یہی چاہے گا کہ اسے اَذان کا مَوْقَع (Chance)دیا جائے تو ایسی صُورَت میں نِزاع )جھگڑا) خَتْم کرنے کے لیے قُرْعَہ اندازی کا طریقہ اِخْتِیار کرنا پڑے گا، مگر اَفْسَوس!لوگ ان دونوں اَعمال کے ثواب اور ان کی فضیلت سے لاعِلْم ہیں۔نیز تکبیرِ اُولیٰ کی فضیلت کے بارے میں مَرْوِی ہے کہ جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا حاصِل کرنے کے لیے 40 دنباجَمَاعَت نَماز پڑھے اور تکبیرِ اُولیٰ پائے،اس کے ليے دو آزادیاں لکھ دی جائیں گی: ایک نار)یعنی جہنّم) سے اور دوسری نِفاق سے۔([3])
میں ساتھ جماعت کے پڑھوں ساری نمازیں
اللہ!عبادت میں مِرے دِل کو لگا دے([4])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
)6(نیکی کی دعوت کا ثواب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نَماز کے لیے کسی کو جگانا یقیناً نیکی کی دَعْوَت دینا ہے اور یوں صدائے مدینہ لگانے والے روزانہ نیکی کی دعوت دینے کا عظیم اَجرو ثواب لُوٹتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُنا کَعْبُ الْاَحْبَار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْغَفَّار فرماتے ہیں:جَنَّتُ الْفِرْدَوس خاص اُس شخص کے لیے ہے جو نیکی کی دَعْوَت دے اور بُرائی سے مَنْع کرے۔([5])
)7(دعوتِ اسلامی کا تعارف
صدائے مدینہ لگانا دَعْوَتِ اِسْلَامی کے تَعارُف کا بھی ایک بَہُت بڑا ذَرِیْعَہ ہے۔ صدائے مدینہ لگانے سے پورے ذیلی حلقے میں دَعْوَتِ اِسْلَامی کی تشہیر ہوتی ہے اور یوں دَعْوَتِ اِسْلَامی کا پیغام (Message)گھر گھر پہنچ جاتا ہے،جس سے لوگوں کے دِلوں میں دَعْوَتِ اِسْلَامی کی مَحبَّت پیدا ہوتی ہے اور اِنہیں ترغیب دِلا کر مَدَنی مَاحَول کے قریب لانا آسان ہوتا ہے۔ بِالْخُصُوص ایسے علاقے جہاں دَعْوَتِ اِسْلَامی کا مَدَنی کام نیا شروع ہو وہاں صدائے مدینہ لگانا مَدَنی کام میں بَہُت مُعَاوِن ثابِت ہوتا ہے۔
(8)صدائے مدینہ میں مسلمانوں کیلئے دعا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب کوئی صدائے مدینہ لگاتے وَقْت گھروں میں سوئے ہوؤں کو یہ دعا دیتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو بار بار حج نصیب کرے اور بار بار میٹھا مدینہ دِکھائے۔ تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ صدائے مدینہ میں دی جانے والی مدینے کی یہ دُعائیں اس کے حَق میں بھی قبول ہوں گی۔ جیسا کہ تاجدارِ رِسَالَت، شہنشاہِ نبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جب آدمی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر مَوجُودَگی میں دُعا کرتا ہے تو ایک فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لیے بھی اس کی مِثل ہو۔([6])جبکہ ایک رِوایَت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع