30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے گھر والوں کو نَماز کا حکم دےاور خود اس پر ثابت رہ کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتےہم تجھے روزی دیں گے اور اَنْجَام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے۔([1]) (پ۱۶،طٰهٰ:۱۳۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہی نہیں بلکہ خُلَفائے راشِدِین میں سے حضرت سیِّدُنا عُمَر فَارُوق اور حضرت سیِّدُنا عَلِیُّ الْمُرْتَضٰی رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے تو اپنے آقا، دو عالَم کے داتا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ سنّت اَدا کرتے ہوئے جامِ شَہادَت نوش فرمایا۔ چُنَانْچِہ،
دَعْوَتِ اِسْلَامی کے اِشَاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مَطْبُوعَہ 864 صَفحات پر مُشْتَمِل کتاب فیضانِ فاروقِ اَعْظَم (جِلْد اوّل)صَفْحَہ 757پر ہے:بعض رِوایات میں ہے کہ(اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت )سَیِّدُنا عُمَر فَارُوق اَعْظَم رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے گھر سے جب )بھی)نَمازِ فَجْر کے لیے نکلتے تو صدائے مدینہ لگاتے ہوئے نکلتے یعنی راستے میں لوگوں کو نَماز کیلئے جگاتے ہوئے آتے، اَبُو لُؤْلُؤ راستے میں ہی چھپا ہوا تھا اور اس نے مَوْقَع دیکھ کر آپ پر خنجر کے تین۳ قاتِلانہ وار کر دئیے جو مُہْلِک ثابِت ہوئے۔([2])
”صدائے مدینہ“ دُوں روزانہ صَدْقہ
ابوبکر و فاروق کا یا اِلٰہی([3])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اسی طرح اَمِیرُ الْمُوْمِنِین حضرت سَیِّدُنا عَلِیُّ الْمُرْتَضٰی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی شَہادَت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اِمام جَلالُ الدِّین سُیُّوطِی شَافِعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ جب مُؤَذِّن نے آکر اَمِیرُ الْمُوْمِنِین حضرت سَیِّدُنا عَلِیُّ الْمُرْتَضٰی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو وَقْتِ نَماز کی اِطِّلَاع دی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نَماز پڑھانے کے لیے گھر سے چلے اور راستے بھر لوگوں کو نَماز کے لیے آواز لگا کر جگاتے جا رہے تھے کہ اِبنِ مُلْجَم خبیث نے آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر اچانک تَلْوَار کا بھر پور وار کیا،جس سے آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شدید زخمی ہو گئے اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شَہادَت نوش فرما گئے۔([4])اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحْمَت ہو اور ان کے صَدْقے ہماری بے حِساب مَغْفِرَت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
سب کو نمازوں کے لیے بیدارمیں کروں
مولیٰ علی کا واسطہ یا ربِّ مُصطفٰے
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں اپنی عِبَادَت کے لیے پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ پارہ 27 سورةُ الذّٰرِیٰت کی آیت نمبر 56میں اِرشَاد ہوتا ہے: وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) (پ۲۷، الذّٰریٰت:۵۶) ترجمۂ کنز الایمان:اور میں نے جِنّ اور آدمی اتنے ہی(اسی لیے) بنائے کہ میری بَنْدَگی کریں۔
اَفْسَوس! صَد اَفْسَوس! ہم تو اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سے غافِل ہو کر مَحْض دُنْیَاوِی لذّتوں اور نفسانی خواہشات کے حُصُول میں مگن ہیں، مگر ہمارے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمَت ہے کہ ہماری بَـخْشِشْ کے بہانے ڈھونڈتی ہے۔ جیسا کہ کسی نے کیا خوب فرمایا ہے:
رَحْمَتِ حَقْ ”بَہَا“ نَہ مے جَوْیَدْ رَحْمَتِ حَقْ ”بَہَانَہ“ مے جَوْیَد
یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمَت قیمت طَلَب نہیں کرتی بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمَت تو بہانہ ڈھونڈتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع