30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صدائے مدینہ لگانا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بڑی ہی پیاری سنّت بھی ہے۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن طِخْفَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ ایک بار انہیں چند صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ہمراہ مَـحْبُوبِ خُدا،سَیِّدُالاَنْبِیَاء صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مہمان(Guest)بننے کا شَرَف حاصِل ہوا تو کھانے وغیرہ سے فارِغ ہو کر وہ سب مَسْجِد شریف میں آ کر آرام کرنے لگے،فرماتے ہیں کہ جب حُضُور،سراپا نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَسْجِد میں تشریف لائے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سوئے ہوئے لوگوں کو بُلَند آواز سے نَماز پڑھنے کے لیے جگایا۔([1])اسی طرح ایک رِوایَت میں حضرت سَیِّدُنا ابو بَکْرَہ(یعنی حضرت سَیِّدُنا نَقِیع بن حارِث ثَقَفی) رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نَمازِ فَجْر کے لیے نکلا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سوئے ہوئے جس شخص پر بھی گزرتے،اُسے نَماز کے لیے آواز دیتے یا پاؤں مُبارَک سے ہلاتے۔([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جو خوش نصیب اسلامی بھائی صدائے مدینہ لگاتے ہیں، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اَدائے سنّت کا ثواب پاتے ہیں۔ یاد رہے! پاؤں سے ہِلانے کی سب کو اِجازَت نہیں۔ صِرف وہ بزرگ پاؤں سے ہِلا سکتے ہیں کہ جس سے سونے والے کی دل آزاری نہ ہوتی ہو۔ ہاں اگر کوئی مانِعِ شَرْعی نہ ہو تو اپنے ہاتھوں سے پاؤں دَبا کر جگانے میں حَرَج نہیں۔یقیناً ہمارے میٹھے میٹھے آقا،مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اگر اپنے کسی غلام کو مُبارَک پاؤں سے ہِلا دیں تو اُس کے سوئے نصیب جگا دیں اور کسی خوش بَخْت کے سر، آنکھوں یا سینے پر اپنا مُبارَک قَدَم رکھ دیں تو خدا عَزَّ وَجَلَّکی قَسَم!کونین کا چَین بَخْش دیں۔
ایک ٹھوکر میں اُحُد کا زلزلہ جاتا رہا رکھتی ہیں کتنا وقار اللہ اکبر اَیڑیاں([3])
یہ دِل یہ جِگَر ہے یہ آنکھیں یہ سَر ہے جدھر چاہو رکھو قَدَم جانِ عالَم([4])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صُبْح کے وَقْت بارگاہِ خُداوندی میں حاضِری)یعنی نمازِ فَجْر) کے لیے سوئے ہوئے لوگوں کو جگانا،صِرف ہمارے آقا، دوعالَم کےداتا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہی سنّت نہیں بلکہ ایک رِوایَت میں آتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی حضرت سَیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام بھی رات کو ایک مَخْصُوص وَقْت پر اپنے بیوی بچوں کو جگاتے اور فرماتے: اے آلِ داؤد! اٹھو اور نَماز پڑھو! کیونکہ یہ ایسی گھڑی ہے جس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سوائے جادوگر اور ٹیکس وُصُول کرنے والوں کے سب کی دُعا قُبول فرماتا ہے۔([5])
صحابہ کرام کا انبیائے کرام کی سنّت پر عمل
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صدائے مدینہ لگانا انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی اس قَدْر پیاری سنّت ہے کہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بھی اسے خُوب اپنایا اور وہ بھی حضرت سَیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی طرح اپنے گھر والوں کو جگایا کرتے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن عُمَر رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں کہ میرے والِدِ مُحْتَرَم اَمِیرُ الْمُوْمِنِین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوقِ اَعْظَم رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رات میں جس قَدْر ربّ تعالیٰ چاہتا،نَماز پڑھتے رہتے،یہاں تک کہ جب رات کا آخری وَقْت ہوتا تو اپنے گھر والوں کو بھی نَماز کے لیے جگا دیتے اور ان سے فرماتے: اَلصَّلٰوة یعنی نماز۔ پھر یہ آیت مُبارَکہ تِلاوَت فرماتے:
وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى(۱۳۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع