دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Saboot e Hilal kay Tariqay | ثبوت ہلال کے طریقے

book_icon
ثبوت ہلال کے طریقے

            قلت :  وھو کلام حسن ویشیر إلیہ قول ’’الذخیرۃ‘‘ :  إذا استفاض وتحقق فإنّ التحقق لا یوجد بمجرد الشیوع۔([1] )

            ’’تنبیہ الغافل والوسنان علی أحکام ھلال رمضان‘‘ میں   ہے :

            لما کانت الاستفاضۃ بمنزلۃ الخبر المتواتر وقد ثبت بہا أنّ أھل تلک البلدۃ صاموا یوم کذا لزم العمل بہا؛ لأنّ المراد بہا بلدۃ فیہا حاکم شرعيّ۔۔۔ إلخ۔([2] )

            دربارئہ استفاضہ یہ تحقیق علامہ شامی کی ہے اور اس تقدیر پر وہ شرائط ضرور ہیں   کہ صوم وعید بر بنائے حکم ِحاکمِ شرع عالم متبعِ احکام ہوا کرتا ہو، اور ایک صورت یہ بھی متصور کہ دوسرے شہر سے جماعاتِ کثیرہ آئیں   اور سب بالاتفاق بیان کریں   کہ وہاں   ہمارے سامنے عام لوگ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرتے تھے جن کا بیان مورثِ یقینِ شرعی تھا، ظاہراً اس تقدیر پر وہاں   کسی ایسے حاکم شرع کا ہونا ضرور نہیں   کہ رؤیت  فِي نَفْسِہَا حجتِ شرعیہ ہے ؛

لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم :  ((صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَافْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہِ))۔ ([3] )

            جب جماعت تواتر، جماعت تواتر سے ان کی رؤیت کی ناقل ہے تو رؤیت بالیقین ثابت ہوگئی اور شہادت کی حاجت نہ رہی کہ اِثباتِ احکام میں   تواتر بھی قائم مقام شہادت بلکہ اس سے اقویٰ ہے کہ شہادت برخلاف تواتر آئے تو رَد کردی جائے اور نفی پر تواتر مقبول ہے اور شہادت نامسموع۔([4] )

            ’’عالمگیریہ‘‘ میں  ’’ محیط‘‘ سے ہے :

            إن وجد کلّھم غیر ثقات یعتمد علی ذالک بتواتر الأخبار۔([5] )

            ’’درّمختار ‘‘میں   ہے :

            شھادۃ النفي المتواتر مقبولۃ ([6] )

            ’’ردّ المحتار‘‘ میں   ہے :

            في ’’النوادر‘‘ عن الثاني :  شھدا علیہ بقول أو فعل یلزم علیہ بذلک إجارۃ أو بیع أو کتابۃ أو طلاق أو عتاق أو قتل أو قصاص في مکان أو زمان أو صفات فبرھن المشھود علیہ أنّہ لم یکن ثمّہ یومئذ لا تقبل، لکن قال ’’المحیط‘‘ في الحادي والخمسین :  إن تواتر عند الناس وعلم الکل عدم کونہ في ذلک المکان والزمان لا تسمع الدعوی ویقضی بفراغ الذمۃ لأنّہ یلزم تکذیب الثابت بالضرورۃ۔([7] )

            ’’عقود الدریہ‘‘ میں  ’’ فتاویٰ صغریٰ‘‘ سے ہے  :

            البیّنۃ إذا قامت علی خلاف المشھور المتواتر لا تقبل وھو أن یشتھر ویسمع من قوم کثیر لا یتصوَّر اجتماعھم علی الکذب۔([8] )

            کلامِ علماء مثلاً قولِ مذکور ’’درّمختار‘‘ کے :   لواستفاض الخبر في البلدۃ

الأخری([9] )اور قولِ ’’ذخیرہ‘‘ :  ’’قال شمس الأئمۃ الحلواني :  الصحیح من مذھب أصحابنا أنّ الخبر إذا استفاض وتحقق فیما بین أھل البلدۃ الأخری یلزمھم حکم ھذہ البلدۃ‘‘، ([10] )وغیر ذلک



[1]       امام رحمتی نے فرمایا :  استفاضہ کامعنی یہ ہے کہ اُس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور وہ تمام یہ اطلاع دیں کہ اُس شہر والوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے محض ایسی افواہ سے نہیں جس کے پھیلانے والا معلوم نہ ہو جیسا کہ اکثر  ہوتا رہتا ہے کہ بہت سی خبریں شہر میں پھیل جاتی ہیں اور ان کے پھیلانے والا معلوم نہیں ہوتا جیسا کہ وارد ہے کہ’’ آخری زمانے میں شیطان لوگوں کے درمیان آکر بیٹھے گا اور بات کرے گا ، لوگ اسے بیان کریں گے اور کہیں گے ہم نہیں جانتے یہ بات کس نے کہی‘‘، تو اس طرح کی باتیں سُننا ہی مناسب نہیں چہ جائیکہ ان سے حکم ثابت کیاجائے اھ ، میں کہتا ہوں :  یہ کلام بہت اچھا ہے اور اسی کی طرف ذخیرہ کے قول میں اشارہ ہے کہ’’ جب خبر مشہور اور ثابت ہو‘‘،  پس ثبوت محض افواہ کی بنا پر نہیں ہوتا۔

’’ردّ المحتار‘‘، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۱۳، تحت قول ’’الدرّ‘‘ :  نعم    إلخ۔

[2]       جب چاند نظر آنے کی خبر، خبر متواتر کی طرح مشہور ہو، اور اس سے ثابت ہوجائے کہ فلاں شہر کے لوگوں نے چاندنظر آنے پر روزہ رکھا ہے تو ایسی خبر پر عمل لازم ہوگا کیونکہ اس سے وہ شہر مراد ہوگا جس میں حاکم شرعی ہو، الخ ۔  ’’مجموعۃ رسائل ابن عابدین‘‘، الرسالۃ :  تنبیہ الغافل والوسنان، الجزء الأول، ص۲۵۲۔

[3]       یعنی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ’’چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر افطار کرو یعنی عید کرو۔

’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الصوم، باب قول النبي صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :  إذا رأیتم الہلال فصوموا، الحدیث : ۱۹۰۹، ج۱،  ص۶۳۰۔

[4]       یعنی ناقابلِ سماعت۔

[5]       یعنی اگر وہ تمام غیر ثقہ ہوں تب بھی تواترِ خبر کی بنا پر اعتماد کیا جائے گا۔

(’’الہندیۃ‘‘، الباب الثانی عشر في الجرح والتعدیل، ج۳، ص۵۲۹)۔

[6]       یعنی  نفی متواتر کی گواہی مقبول ہے ۔

’’الدرّ‘‘، کتاب الشہادۃ، باب القبول وعدمہ، ج۲، ص۹۸۔

[7]       یعنی ’’نوادر‘‘ میں امام ابویوسف سے ہے کہ دوگواہوں نے کسی کے خلاف اس کے قول یا فعل پر گواہی دی تو اس گواہی سے مدعا علیہ پر اجارہ یا بیع یا کتابت یا طلاق یا آزاد یا قتل یا قصاص زمان یا مکان یا صفات میں لازم ہوجائے گا، اور اگر مشہود علیہ گواہ قائم کردے کہ وہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھا تو اس کی بات قبول نہ کی جائے گی، لیکن’’ محیط‘‘ میں ۵۱ نمبر میں فرمایا :  ’’اگر لوگوں کے نزدیک متواتر سے ثابت ہو اور ہر ایک جانتا ہو کہ یہ شخص اس وقت اس مکان وزمان میں موجود نہ تھا تو اب دعویٰ نہ سنا جائے گا اور اسے بریٔ الذمہ قرار دیا جائے گا اس لیے کے ثابت بالضرورت کی تکذیب لازم ہو گی۔

’’ردّ المحتار‘‘، کتاب القضاء، ج۸، ص۲۴۴، تحت قول ’’الدرّ‘‘ :  شہادۃ النفي المتواترۃ مقبولۃ۔

[8]       یعنی جب مشہور متواتر کے خلاف گواہ قائم ہوں تو انکی گواہی قبول نہیں، اور وہ ( مشہور متواتر)وہ خبر ہے کہ ایسی کثیر قوم سے مشہور ہو جائے اور سنی جائے جن کا جھوٹ پر جمع ہونا متصور نہ ہو۔

’’العقود الدریۃ‘‘، کتاب الشہادۃ ومطالبہ، ص۳۶۱۔

[9]       یعنی اگر دوسرے شہر میں خبر مشہور ہوجائے ۔

’’الدرّ‘‘،  کتاب الصوم، ج۳، ص۴۱۲-۴۱۳۔

[10]       یعنی شمس الائمہ حلوائی نے کہا کہ ہمارے احناف کا صحیح مسلک یہ ہے کہ بے شک خبر جب مشہوراور متحقق ہو جائے دوسرے شہر والوں کے درمیان تو اس شہر والوں پر بھی وہ حکم لازم ہوجاتا ہے ۔

انظر ’’ردّ المحتار‘‘، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۱۳، تحت قول ’’الدرّ‘‘ :  نعم    إلخ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن