دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Saboot e Hilal kay Tariqay | ثبوت ہلال کے طریقے

book_icon
ثبوت ہلال کے طریقے

’’دررو غرر‘‘ میں   ہے :   لا یقبلہ أیضاً إلاّ بشھادۃ رجلین أو رجل وامرأتین؛ لأنّ الکتاب قد یزور إذ الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم، فلا یثبت إلاّ بحجۃ تامۃ۔ ([1] )

طریق پنجم

اِسْتِفَاضَہ

            یعنی جس اسلامی شہر میں   حاکمِ شرع قاضیِ اسلام ہو کہ احکامِ ہلال اسی کے یہاں   سے صادر ہوتے ہیں   اور خود عالم اور اِن اَحکام میں   علم پر عامل و قائم یا کسی عالم دین محقق معتمد پر اعتماد کا ملتزم وملازم ہے یا جہاں   قاضی شرع نہیں   تو مفتی اسلام مَرْجَعِ عوام وَ مُتَّبَعُ الاَحْکام ہو ([2] )  کہ احکامِ روزہ و عیدین اسی کے فتویٰ سے نفاذپاتے ہیں ([3] ) ، عوام کَالْاَنْعَام ([4] ) بطور ِخود عید رمضان نہیں   ٹھہرا لیتے ، وہاں   سے متعدَّد جماعتیں   آئیں   اور سب یک زبان اپنے علم سے خبر دیں   کہ وہاں   فلاں   دن بربنائے رؤیت ([5] )روزہ ہوا یا عید کی گئی، مُجرَّد بازاری افواہ کہ خبر اڑ گئی اور قائل کا پتہ نہیں  ، پوچھے تو یہی جواب ملتا ہے کہ سنا ہے یا لوگ کہتے ہیں  ، یا بہت پتہ چلا تو کسی مجہول کا انتہا درجہ منتہائے سند دو ایک شخصوں   کے محض حکایت کہ انہوں   نے بیان کیا اور شدہ شدہ شائع ہوگئی ایسی خبر ہرگز استفاضہ نہیں  ، بلکہ خود وہاں   کی آئی ہوئی متعدد جماعتیں   درکار ہیں   جو بالاتفاق وہ خبر دیں  ، یہ خبر اگرچہ نہ خود اپنی رؤیت کی شہادت ہے نہ کسی شہادت پر شہادت، نہ بالتصریح قضائے قاضی پر شہادت، نہ کتابِ قاضی پر شہادت مگر اس مستفیض خبر سے بالیقین  یا بہ غلبۂ ظن مُلْتَحَق بِالْیَقِیْن ([6] ) وہاں   رؤیت وصوم و عید کا ہونا ثابت ہوگا، اور جب کہ وہ شہر اسلامی اور احکام و حُکّام کی وہاں   پابندی دوامی ہے تو ضرور مظنون ہوگا کہ امر بحکم واقع ہوا تو اس طریق سے قضائے قاضی کہ حجتِ شرعیہ ہے ثابت ہوجائے گی۔

            اور یہیں   سے واضح ہوا کہ تاریخ شہر جہاں   نہ کوئی قاضی شرع نہ مفتی اسلام یا مفتی ہے مگر نا اہل جسے خود احکام ِشرع کی تمیز نہیں   جیسے آج کل کے بہت مدعیان خام کار خصوصاً وہابیہ([7] ) خصوصاً نامقلدین (غیر مقلدین)وغیرہم فجّار یابعض سلیم الطبع سنی، ناقص العلم ناتجربہ کار یا مفتی محقق معتمد عالم مستند ہے مگر عوام خود سر، اس کیمُنْتَظَر اَحکام نہیں   پیش خویش([8] )  اپنے قیاساتِ فاسدہ پر جب چاہیں   عید و رمضان قرار دے لیتے ہیں   ایسے شہروں   کی شہرت بلکہ تواتر بھی اصلاً قابل قبول نہیں   کہ اس سے کسی حجت شرعیہ کا ثبوت نہ ہوا۔

            ’’درّمختار‘‘ میں   ہے :

            شہدوا أنّہ شھد عند قاضي مصر کذا شاھدان برؤیۃ الہلال وقضی بہ، قضی القاضي بشھادتھما؛ لأنّ قضاء القاضي حجۃ، وشھدوا بہ، لا لو شھدوا برؤیۃ غیرھم؛ لأنّہ حکایۃ، نعم لو استفاض الخبر في البلدۃ الأخری لزمھم علی الصحیح من المذہب، ’’مجتبی‘‘ وغیرہ۔([9] )

’’ردّ المحتار‘‘ میں   ہے :

            ھذہ الاستفاضۃ لیس فیھا شھادۃ علی قضاء قاض ولا علی شھادۃ، لکن لما کانت بمنزلۃ الخبر المتواتر، وقد ثبت بہا أنّ أھل تلک البلدۃ صاموا یوم کذا لزم العمل بہا؛ لأنّ البلدۃ لا تخلو عن حاکم شرعي عادۃً، فلا بد من أن یکون صومھم مبنیّاً علی حکمِ حاکمھم الشرعي فکانت تلک الاستفاضہ بمعنی نقل الحکم المذکور۔۔۔ إلخ۔([10] )

اسی میں   ہے  :

            قال الرحمتي :  معنی الاستفاضۃ أن تأتي من تلک البلدۃ جماعات متعدّدون، کل منھم یخبر عن أھل تلک البلدۃ أنّہم صاموا عن رؤیۃ لا مجرّد الشیوع من غیر علم بمن أشاعہ، کما قد تشیع أخبار یتحدث بہا سائر أھل البلدۃ، ولا یعلم من أشاعھا کما ورد :  (أَنَّ فِيْ آخِرِ الزَّمَانِ یَجْلِسُ الشَّیْطَانُ بَیْنَ الْجَمَاعَۃِ فَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ فَیَتَحَدَّثُوْنَ بِہَا وَیَقُولُوْنَ لَا نَدْرِيْ مَنْ قَالَہَا)، فمثل ھذا لا ینبغي أن یسمع فضلاً من أن یثبت بہ حکم ۱ھ۔

 



[1]        قاضی اول کی تحریر بھی قبول نہ ہوگی مگر دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوںکی گواہی سے ، اس لیے کہ تحریر میں جعلسازی ہوجاتی ہے کیونکہ تحریر دوسری تحریر کے مشابہ ہوسکتی ہے اسی طرح مُہر دوسری مُہر کے مشابہ ہوسکتی ہے پس حجت کاملہ کے بغیر تحریر کا ثبوت نہ ہوگا۔’’درر الحکام شرح غرر الأحکام‘‘، کتاب القضاء، باب کتاب القاضی،  الجزء الثانی، ص۴۱۴۔

[2]      یعنی عوام کے رجوع کا مرکز ہواوروہ جو احکام بتائے اس کی پیروی کی جاتی ہو۔

[3]      یعنی جاری ہوتے ہیں۔

[4]      یعنی بے شعور لوگ۔

[5]      یعنی چانددیکھنے کی وجہ سے ۔

[6]       یعنی یقینی طور پر یا غلبۂ ظن کے یقین کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے ۔

[7]        نظریات میں ابن عبد الوہاب کے تابعدار۔

[8]       یعنی ان کے پیش نظر شرعی احکام نہیں وہ خود ہی۔

[9]        یعنی گواہوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے قاضی کے پاس چاند دیکھنے کی فلاں دوگواہوں نے گواہی دی ہے اور قاضی نے اس پر فیصلہ صادر فرمادیا ہے تو ان کی گواہی کی بناپر یہ قاضی بھی فیصلہ دے سکتا ہے کیونکہ قاضی کا فیصلہ حجت ہے اور اس پر گواہ موجود ہیں، البتہ اس صورت میں قاضی فیصلہ نہیں دے سکتا جب گواہی دینے والے اپنے غیر کے دیکھنے کی گواہی دیں (یعنی اِنہوں نے تو نہیں دیکھا بلکہ دوسرو ں کے دیکھنے کی گواہی دے رہے ہیں) اس لیے کہ یہ محض حکایت ہے ، ہاں اگر خبرمستفیض ہو گئی (یعنی گروہ در گروہ نے آکر بیان کیا کہ فلاں شہر میں چاند ثابت ہوگیا ہے ) تو اِن دوسرے شہر والوں پر بھی لازم ہو جائے گا کہ اس کو تسلیم کریں، مذہب ِحنفیہ میں یہی صحیح قول ہے ۔ ’’مجتبیٰ‘‘وغیرہ’’الدرّ‘‘، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۱۲-۴۱۳، ملتقطاً۔

[10]        یعنی یہ خبر استفاضہ (یعنی خبر کا عام ہوجانا)جس میں قاضی کے فیصلہ پر گواہی نہیں اور نہ کسی اور گواہی پر گواہی، لیکن جب یہ خبرِ متواتر کے قائم مقام ہے  اور تحقیق اس سے (یعنی خبر استفاضہ سے ) ثابت ہوا کہ فلاں شہر والوں نے فلاں دن روزہ رکھا تو اس خبر کے پہنچنے پر دوسرے شہر والوں پر بھی عمل لازم ہوگیا اس لئے کہ عادۃ ً(اسلامی) شہر حاکم شرع سے خالی نہیں ہوتا تو ضروری ہوا کہ اِس شہر والوں کا روزہ اُس حاکم شرعی کے حکم سے ہو، پس یہ خبرِ استفاضہ حکمِ مذکور (یعنی قاضی کے حکم) کے نقل کے معنی میں ہوگئی۔

’’ردّ المحتار‘‘، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۱۳، تحت قول ’’الدرّ‘‘ :  نعم    إلخ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن