دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Saboot e Hilal kay Tariqay | ثبوت ہلال کے طریقے

book_icon
ثبوت ہلال کے طریقے

            ’’فتح القدیر شرح ہدایہ‘‘ میں   ہے :  

            لو شھدوا أنّ قاضي بلد کذا شھد عندہ إثنان برؤیۃ الہلال في لیلۃ کذا وقضی بشھادتھما جاز لھذا القاضي أن یحکم بشھادتھما؛ لأنّ قضاء القاضي حجۃ وقد شھدوا بہ۔([1] )

 اسی طرح ’’فتاویٰ قاضی خاں  ‘‘([2] )و’’فتاویٰ خلاصہ‘‘([3] ) وغیرہما میں   ہے ۔

            قلت :  وقیّدہ في ’’التنویر‘‘([4] )تبعاً لـ’’الذخیرۃ‘‘ عن ’’مجموع النوازل‘‘ باستجماع شرائط الدعوی، ووجّھہ العلامۃ الشامي([5] ) بتوجیھین، لنا في کلّ منھما کلام حقّقناہ فیما علیہ علّقناہ فراجعہ ثمّہ([6] ) فإنّہ من الفوائد المھمۃ۔([7] )

طریق چہارم

کِتَابُ الْقَاضِيْ إِلَی الْقَاضِي

            یعنی قاضیِ شرع جسے سلطانِ اسلام نے فصل مقدمات([8] ) کے لئے مقرر کیا ہو اس کے سامنے شرعی گواہی گزری، اس نے دوسرے شہر کے قاضیِ شرع کے نام خط لکھا کہ میرے سامنے اس مضمون پر شہادت ِشرعیہ قائم ہوئی، اور اس خط میں   اپنا اور مکتوب الیہ کا نام و نشان پورا لکھا جس سے امتیاز کافی واقع ہو، اور وہ خط دو گواہانِ عادل کے سپرد کیا کہ یہ میرا خط قاضی فلاں   شہر کے نام ہے وہ باحتیاط اس قاضی کے پاس لائے اور شہادت ادا کی کہ آپ کے نام یہ خط فلاں   قاضی فلاں   شہر نے ہم کو دیا اور ہمیں   گواہ کیا کہ یہ خط اس کا ہے اب یہ قاضی اگر اس شہادت کو اپنے مذہب کے مطابق ثبوت کے لئے کافی سمجھے تو اس پر عمل کرسکتا ہے ۔(اور بہتریہ ہے کہ قاضی کاتب خط لکھ کر ان گواہوں   کو سنادے یا اس کا مضمون بتادے اور خط بند کرکے ان کے سامنے سربمہر کردے ، اور اولیٰ یہ کہ اس کا مضمون ایک کھلے ہوئے پرچے پر الگ لکھ کر بھی ان شہود ([9] )    کو دے دے کہ وہ اسے یاد کرتے رہیں   یہ آکر مضمون پر بھی گواہی دیں   کہ خط میں   یہ لکھا ہے اور سربمہر خط اس قاضی کے حوالہ کریں   یہ زیادہ احتیاط کے لئے ہے ، ورنہ خیر اسی قدر کافی ہے کہ دو مردوں   یا ایک مرد دو عورتیں   عادل کو خط سپرد کرکے گواہ کرلے اور وہ باحتیاط یہاں   لا کر شہادت دیں  ) بغیر اس کے اگر خط ڈاک میں   ڈال دیا یا اپنے آدمی کے ہاتھ بھیج دیا تو ہرگز مقبول نہیں   اگرچہ وہ خط اسی قاضی کا معلوم ہوتا ہو اور اس پر اس کی اور اس کے محکمہ قضا کی مہر بھی لگی ہو اور یہ بھی ضرور ہے کہ جب تک یہ خط قاضی  مکتوب الیہ کو پہنچے اور وہ اسے پڑھ لے اس وقت تک کاتب زندہ رہے اور معزول نہ ہو ورنہ اگر خط پڑھے جانے سے پہلے مرگیا یا برخاست ہوگیا تو اس پر عمل نہ ہوگا اور بحالت ِزندگی یہ بھی ضرور ہے کہ جب تک مکتوب الیہ اس خط کے مطابق حکم نہ کرلے اس وقت تک کاتب عہدۂ قضا کا اہل رہے ورنہ اگر حکم سے پہلے کاتب مثلاً مجنوں   یا مرتد یا اندھا ہوگیا تو بھی خط بیکار ہوجائے گا۔

            ’’درِّمختار‘‘ میں   ہے :

            القاضي یکتب إلی القاضي بحکمہ، وإن لم یکن الخصم حاضراً لم یحکم، کتب الشھادۃ لیحکم المکتوب إلیہ بھا علی رأیہ، وقرأ الکتاب علیھم أو أعلمھم بما فیہ وختم عندھم وسلم إلیھم بعد کتابۃ عنوانہ وھو أن یکتب فیہ اسمہ واسم المکتوب إلیہ وشھرتھما، واکتفی الثاني بأن یشھدھم أنّہ کتابہ، وعلیہ الفتوی، ویبطل الکتاب بموت الکاتب وعزلہ قبل القراء ۃ وبجنون الکاتب ورِدّتہ وحدّہ لقذف وعمائہ لخروجہ عن الأھلیۃ، وکذا بموت المکتوب إلیہ وخروجہ عن الأھلیۃ إلاّ إذا عمّم۔ ولا یقبل کتاب القاضي من محکّم بل من قاض مولًی من قِبَل الإمام۔([10] )

 



[1]       یعنیاگرگواہوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے فلاں قاضی کے پاس فلاں رات میں چاند دیکھنے پر دو آدمیوں نے گواہی دی تو قاضی نے ان کی شہادت پر فیصلہ دے دیا ہے تو اس قاضی کے لیے ان دونوں کی شہادت کی وجہ سے فیصلہ دینا جائز ہے کیونکہ قضائے قاضی حجت ہے اور انہوں نے اس پر گواہی دی ہے ۔ ’’فتح القدیر‘‘، کتاب الصوم، فصل في رؤیۃ الہلال، ج۲، ص۲۴۳۔

[2]     ’’الخانیۃ‘‘، کتاب الصوم، ج۱، ص۹۵۔

[3]      ’’خلاصۃ الفتاوی‘‘، کتاب الصوم، ج۱، ص۲۴۹۔

[4]        ’’التنویر‘‘،  کتاب الصوم، ج۳، ۴۱۲۔

[5]      ’’ردّ المحتار‘‘، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۱۲، تحت قول ’’الدرّ‘‘

[6]      انظر’’جدّ الممتار‘‘، کتاب الصوم، ج۳، ص۲۱۹، من المقولۃ : ۱۹۹۱ إلی ۱۹۹۴۔

[7]      میں کہتا ہوں کہ’’ تنویر‘‘ میں’’ذخیرہ‘‘کی اتباع کرتے ہوئے ’’مجموع النوازل‘‘ کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے یہ قید لگائی گئی ہے کہ دعویٰ کی تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ، اور علامہ شامی نے اس کی دو توجیھات بیان کی ہیں ان میں سے ہر ایک میں ہمیں کلام ہے ، اس کی پوری تفصیل ہم نے حاشیہ ’’ردّالمحتار‘‘ (یعنی ’’جد الممتار‘‘) میں بیان کی ہے ، وہاں سے ملاحظہ کریں کیونکہ وہ اہم فوائد پر مشتمل ہے ۔

[8]      مقدمات کے فیصلوں۔

[9]      یعنی گواہوں۔

[10]     یعنی ایک قاضی دوسرے قاضی کی طرف حکم نامہ لکھے ، اگر خصم حاضر نہ ہو تو قاضی فیصلہ نہ کرے اور گواہی لکھ لے تاکہ وہ قاضی جس کی طرف خط لکھا جارہا ہے گواہی کے ذریعے اپنی رائے کے مطابق فیصلہ صادر کردے ، اور قاضی کاتب خطِ مذکور کو شہود پر پڑھے یا انہیں اس کے مضمون سے آگاہ کر دے اور اس خط پران کے سامنے اپنی مہر لگائے ، پھر خط پر پتا لکھ کر خط ان کے حوالے کردے ، پتا یوں تحریر کرے کہ خط میں اپنا اور مکتوب الیہ کانام اور دونوں کی شہرت یعنی وہ لفظ یا لقب جس سے وہ مشہور ہوں ضرور لکھے ، اور امام ابویوسف نے اس پر اکتفاء کیا ہے کہ قاضی کاتب شاہدوں کو صرف اس پر گواہ کرلے کہ وہ اس کاخط ہے فتویٰ اسی قول پر ہے ، ـ اور خط پڑھے جانے سے پہلے اگر قاضی کاتب کی موت واقع ہوجائے یا اس کی معزولی ہوجائے تو خط باطل ہوجاتاہے ، اسی طرح قاضی کاتب کے مجنون، مرتد، محدود فی القذف اور نابینا ہوجانے پر بھی خط باطل ہوجاتا ہے اس لیے کہ وہ اہلیت قضا سے نکل گیا، یونہی جس قاضی کی طرف خط لکھا گیا ہے اس کی موت سے ، اور اس کے اہلیت قضاء سے نکلنے کی وجہ سے بھی خط باطل ہوجائے گا مگر اس صورت میں مکتوب الیہ قاضی کی موت سے خط باطل نہیں ہوتا جب کاتب قاضی تعمیم کردے مثلاًیوں کہہ دے کہ جو وہاں کا قاضی ہو یہ خط اس کی طرف ہے ، اور خط حَکم کی طرف سے مقبول نہیں بلکہ اس قاضی کی طرف سے مقبول ہے جو سلطان کی طرف سے معین ہو ۔

’’الدرّ‘‘، کتاب القضاء، ج۸، ص۱۴۸-۱۵۹، ملتقطاً۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن