دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Saboot e Hilal kay Tariqay | ثبوت ہلال کے طریقے

book_icon
ثبوت ہلال کے طریقے

أشھد علی شھادتي بذالک ۱ھ مختصراً۔([1] )

 قاضی کے حضور ادائے شہادت ہوئی  اس وقت وہاں   اصل گواہ کا آنا مرض یا سفریازَن پردہ نشین ہونے کے باعث  مُتَعَذَّر ہو([2] )، اور امام ابویوسف کے نزدیک تین منزل دور ہونا ضرور نہیں   بلکہ اتنی دوری کافی ہے کہ گواہی دے کر رات کو اپنے گھر نہ پہنچ سکے ، بکثرت مشائخ نے اسی قول کو پسند کیا اور’’ قہستانی‘‘ و’’سراجیہ‘‘ میں   ہے کہ اسی پر فتویٰ ہے مصنف نے اسے مُسلَّم رکھا، اور عورت کی پردہ نشینی یہ کہ مردوں   کی مَجْمَع سے بچتی ہو اگرچہ اپنی کسی ضرورت کے لئے باہر نکلے یا حمام جائے ایسا ہی ’’قنیہ‘‘ میں   ہے ، اور یہ بھی   شرط ہے کہ ہر اصل گواہ  اگرچہ عورت کی گواہی پر پورا نصاب شہادت  یعنی دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں  گواہی دیں  ہاں  یہ ضرور نہیں  کہ ہر گواہِ اصل کے دو دو جداگانہ گواہ ہوں  ، اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ گواہِ اصل گواہِ فرع سے اگرچہ وہ اس کا بیٹا ہو خطاب کرکے کہے : ’’ تو میری اس گواہی پر گواہ ہوجا کہ میں   یہ گواہی دیتا ہوں  ‘‘ اور گواہِ فرع یوں   ادائے شہادت کرے کہ ’’میں   گواہی دیتا ہوں   کہ فلاں   نے مجھے اپنی اس گواہی پر گواہ کیا اور مجھ سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ ہوجا۔‘‘ اھ مختصراً

اسی کے بیانِ ہلالِ رمضان میں   ہے :

وتقبل شھادۃ واحد علی آخرکعبد وأنثی ولو علی مثلہما۔([3] )

’’ ایک کی گواہی دوسرے پر مثلاً غلام یا عورت کی شہادت اگرچہ اپنے ہی جیسے پر ہلالِ رمضان میں   مقبول ہے جبکہ ایک کی گواہی وہاں   مسموعہونے ([4] ) کے قابل ہو جیسے بحالت ناصافیٔ مطلع۔‘‘

’’ردّ المحتار‘‘ میں   ہے :

لو شھدا علی شھادۃ رجل وأحدھما یشھد بنفسہ أیضاً لم یجز، کذا في ’’محیط السرخسي‘‘، ’’فتاوی الھندیۃ‘‘، ولو شھد واحد علی شھادۃ نفسہ وآخران علی شھادۃ

 ’’اگر دو گواہوں   نے ایک مرد کی شہادت پر شہادت کی اور ان میں   ایک خود  بِذَاتِہ گواہ ہے تو یہ جائز نہیں   ایسا ہی ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ میں  ’’ محیط امام سرخسی‘‘سے ہے ، اور اگر ایک

 غیرہ یصحّ، صرّح بہ في ’’البزازیۃ‘‘ ۱ھ مختصراً۔([5] )

نے خود گواہی دی اور دوسرے دونے اور شخص کی شہادت پر شہادت ادا کی تو یہ درست ہے ’’بزازیہ‘‘ میں   اس کی تصریح ہے ۔‘‘

’’فتاویٰ عالمگیریہ ‘‘میں  ’’ ذخیرہ‘‘ سے ہے :

ینبغي أن یذکر الفرع اسم الشاھدِ الأصل واسم أبیہ وجدّہ حتی لو ترک ذالک فالقاضي لا یقبل شھادتھما۔([6] )

’’ گواہِ فرع کو چاہیے کہ گواہِ اصل اور اس کے باپ اور دادا سب کا نام ذکر کرے یہاں   تک کہ اگر اسے چھوڑ دے گا تو حاکم اس کی گواہی قبول نہ کرے گا۔‘‘

شہادۃ علی الشہادۃ میں   یہ بھی ضرور ہے کہ اس کے مطابق حکم ہونے تک گواہانِ اصل بھی اہلیتِ شہادت پر باقی رہیں   اور شہادت کی تکذیب([7] )نہ کریں   مثلاً گواہانِ فرع نے ابھی گواہی نہ دی یادی اور اس پر ہَنُوز حکم نہ ہوا تھا کہ گواہانِ اصل سے کوئی گواہ اندھا  یا گونگا  یا مجنون یا معاذ اﷲ مرتد ہوگیا یا کہا کہ میں   نے تو ان گواہوں   کو اپنی شہادت کا گواہ نہ کیا تھا یا غلطی سے گواہ کردیا تھا تویہ شہادت باطل ہوجائے گی۔

’’درِّمختار‘‘ میں   ہے :

            تبطل شھادۃ الفرع بخروج أصلہ عن أھلیتھا کخرس وعمی وبإنکار أصلہ الشھادۃ کقولھم :  ما لنا شھادۃ أو لم نشھدھم أو أشھدناھم وغلطنا ۱ھ مختصراً۔([8] )

طریق سوم

شَھَادَۃ عَلَی الْقَضَاء[9]

            یعنی دوسرے کسی اسلامی شہر میں   حاکمِ اسلام قاضی شرع کے حضور رؤیتِ ہلال پر شہادتیں   گزریں   اور اس نے ثبوتِ ہلال کا حکم دیا دو شاہدانِ عادل اس گواہی و حکم کے وقت حاضر دارالقضاء تھے اُنھوں   نے یہاں   حاکم اسلام قاضی شرع یا وہ نہ ہو تو مفتی کے حضور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں   ہمارے سامنے فلاں   شہر کے فلاں   حاکم کے حضور فلاں   ہلال کی نسبت فلاں   دن کی شام کو ہونے کی گواہیاں   گزریں   اور حاکم موصوف نے ان گواہیوں   پر ثبوتِ ہلالِ مذکورشام فلاں   روز کا حکم دیا۔

 



[1]      ’’الدرّ‘‘، کتاب الشہادات، باب الشہادۃ علی الشہادۃ، ج۸، ص۲۵۶-۲۵۸۔

[2]      یعنی  مشکل ہو۔

[3]      ’’الدرّ‘‘، کتاب الصوم، ج۶، ص۲۳۲۔

[4]        یعنی سنی جانے ۔

[5]       ’’ردّ المحتار‘‘،  کتاب الشہادات، باب الشہادۃ علی الشہادۃ، ج۸، ص۲۵۷-۲۵۸۔

[6]      ’’الہندیۃ‘‘، الباب الحادي عشر في الشہادۃ علی الشہادۃ، ج۳، ص۵۲۴۔

[7]      یعنی گواہی کے اہل رہیں اور گواہی کی تردید نہ کریں۔

[8]        یعنی گواہ ِاصل کی اہلیتِ شہادت ختم ہونے سے گواہِ فرع کی شہادت باطل ہوجائے گی جیسا کہ اصل شاہد گونگا یا نابینا ہوگیا یا گواہِ اصل شہادت کا انکار کردیں مثلاً کہیں کہ ہم نے کوئی گواہی نہیں دی، یا یوں کہیں کہ ہم نے ان کو گواہ نہیں بنایا، یا ہم نے ان کو غلطی سے گواہ بنایا۔(’’الدرّ‘‘، کتاب الشہادات، باب الشہادۃ علی الشہادۃ، ج۸، ص۲۶۰-۲۶۱)۔

[9]       یعنی قاضی کے فیصلے پر گواہی دینا۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن