دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Saboot e Hilal kay Tariqay | ثبوت ہلال کے طریقے

book_icon
ثبوت ہلال کے طریقے

الأحکام ۱ھ ملتقطاً۔([1] )

گواہی نہ ماننے کی وجہ یہ فرمائی تھی کہ تنہا اس کا دیکھنا غلطی میں   ظاہر ہے اور اس پچھلی صورت یعنی جبکہ وہ جنگل میں   یا بلند مکان پر تھا وہ رد کی وجہ نہ پائی گئی اس لئے ’’محیط‘‘ میں   فرمایا کہ اس حالت میں   تنہا اس کا دیکھنا خلاف ظاہر نہ ہوگااور باقی نو مہینوں   میں   مقبول نہ ہوگی مگر گواہی دو مردوں   یا ایک مرد دوعورتوں   عادل آزاد کی جن پر حدّ ِقذف([2] ) نہ لگ چکی ہو جیسے باقی تمام معاملات میں  ، اسی طرح ’’بحر الرائق‘‘ میں   امام اسبیجابی کی ’’شرح مختصر طحاوی‘‘ سے ہے ، اور ظاہر یہ ہے کہ ان نو چاندوں   میں   صفاو عدم صفائی مطلع کا کچھ فرق نہیں  ہر حال میں   دو کی گواہی قبول ہوگی کہ وہ وَجہ جو وہاں   شرط جماعت عظیم کی باعث تھی کہ سب

 ہلال کو تلاش کرتے ہیں   یہاں   موجود نہیں   کہ ان نو مہینوں   کا چاند عام لوگ تلاش نہیں   کرتے ہیں   اور اس کی تائید کرتا ہے امام اسبیجابی کا وہ فرمانا کہ ان میں   وہ درکار ہے جو باقی تمام معاملات میں  ، اھ ملتقطاً۔

       ’’حدیقہ ندیہ‘‘ میں   ہے :

إذا خلا الزمان من سلطان ذي کفایۃ فالأمور موکلۃ إلی العلماء، ویلزم الأمۃ الرجوعإلیھم ویصیرون ولاۃ فإذا عسر جمعھم علی واحد استقلّ کل قطر باتباع علمائہ فإن کثروا فالمتبع أعلمھم فإن استووا أقرع بینھم۔([3] )

’’جب زمانہ ایسے سلطان سے خالی ہو جو معاملاتِ شرعیہ میں   کفایت کرسکے تو شرعی سب کام علماء کو سپرد ہوں   گے اور مسلمانوں   پر لازم ہوگا کہ اپنے ہر معاملۂ شرعیہ میں   ان کی طرف رجوع کریں   وہ علماء ہی قاضی و حاکم سمجھے جائیں   گے پھر اگر سب مسلمانوں   کا ایک عالم پر اتفاق مشکل ہو تو ہر ضلع کے لوگ اپنے  علماء کا اتباع کریں   اگر ضلع میں   عالم کثیر ہوں   تو جو سب میں   زیادہ احکامِ شریعت کا علم رکھتا ہے اس کی پیروی ہوگی اور اگر علم میں   برابر ہوں   تو ان میں   قرعہ ڈال لیں   ‘‘

طریق دوم

شَھَادَۃ عَلَی الشَّھَادَۃ[4]

یعنی گواہوں   نے چاند خود نہ دیکھا بلکہ دیکھنے والوں   نے ان کے سامنے گواہی دی اور اپنی گواہی پر انہیں   گواہ کیا انہوں   نے اس گواہی کی گواہی دی۔

یہ وہاں   ہے کہ گواہانِ اصل حاضری سے معذور ہوں  ، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ گواہِ اصل، گواہ سے کہے میری اس گواہی پر گواہ ہوجا کہ میں   گواہی دیتا ہوں   میں   نے ماہ فلاں   سنہ فلاں  کا ہلال، فلاں   دن کی شام کو دیکھا، گواہانِ فرع یہاں   آکر یوں   شہادت دیں   کہ میں   گواہی دیتا ہوں   کہ فلاں   بن فلاں   نے مجھے اپنی اس گواہی پر گواہ کیا کہ فلاں   بن فلاں   مذکور نے ماہِ فلاں   سنہ فلاں   کا ہلال، فلاں   دن کی شام کو دیکھا اور فلاں   بن فلاں   مذکور نے مجھ سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ ہوجا۔

            پھر اصل شہادتِ رؤیت میں   اختلافِ احوال کے ساتھ جو اَحکام گزرے ان کا لحاظ ضرور ہے مثلاً ماہ ِرمضان میں   مطلع صاف تھا تو صرف ایک کی گواہی مَسْمُوع([5] ) نہ ہونی چاہئے جب تک جنگل میں   یا بلند مکان پر دیکھنا نہ بیان کرے ورنہ ایک کی شہادت اور اس کی شہادت پر بھی صرف ایک ہی شاہد اگرچہ کنیز مستورۃ الحال ہو بس ہے ، اور باقی مہینوں   میں   یہ تو ہمیشہ ضرور ہے کہ ہر گواہ کی گواہی پر دو مرد یا ایک مرد دو عورت عادل گواہ ہوں   اگرچہ یہی دو مرد اِن دو اصل میں   ہر ایک کے شاہد ہوں  ، مثلاً جہاں   عیدین میں   صرف دو عادلوں   کی گواہی مقبول ہے زید و عمرو دو عادلوں   نے چاند دیکھا اور ہر ایک نے اپنی شہادت پر بکر و خالد دو مرد عادل کو گواہ کردیا کہ یہاں   آکر بکر اور خالد ہر ایک نے زید و عمر و دونوں   کی گواہی پر گواہی دی کافی ہے ، یہ ضرور نہیں   کہ ہر گواہ کے جدا جدا دو گواہ ہوں  ، اور یہ بھی جائز ہے کہ اصل خود آکر گواہی دے اور دوسرا گواہ اپنی گواہی پر دو گواہ جداگانہ کر بھیجے ، ہاں   یہ جائز نہیں   کہ ایک گواہِ اصل کے دو گواہ ہوں   اور اِنھیں   دونوں   میں   سے ایک خود اپنی شہادت ذاتی بھی دے ۔

’’درّمختار‘‘ میں   ہے :   

الشھادۃ علی الشھادۃ مقبولۃ وإن کثرت استحساناً في کلّ حق علی الصحیح إلاّ في حدّ وقود بشرط تعذر حضور الأصل بمرض أوسفر، واکتفی الثانی بغیبتہ بحیث یتعذر أن یبیت بأھلہ، واستحسنہ غیر واحد۔ وفي ’’القھستاني‘‘ و’’السراجیۃ‘‘ :  وعلیہ الفتوی، وأقرّہ المصنف، أو کون المرأۃ

’’گواہی پر گواہی مقبول ہے اگرچہ یکے بعد دیگرے کتنے ہی درجے تک پہنچے مثلاً گواہانِ اصل نے زید و عمر و کو گواہ بنایا انہوں   نے اپنی اس شہادۃ علی الشہادۃپر بکرو خالد کو گواہ کردیا خالد نے اپنی اس   شہادۃ علی الشہادۃ پر سعید وحمید کو شاہد بنالیا  وَعَلَی ہَذَا الْقَیَاس([6] )اور مذہب صحیح پر یہ اَمر حدود وقِصاص([7] )کے سوا ہر حق میں   جائز ہے اس شرط سے کہ جس وقت

 مخدّرۃ لا تخالط الرجال وإن خرجت لحاجۃ وحمام، ’’قنیۃ‘‘ عند الشھادۃ عند القاضي قید للکلّ وبشرط شھادۃ عدد نصابولو رجلا وامرأتین عن کلّ أصل ولو امرأۃ لا تغایر فرعي ھذا وذاک۔ وکیفیتھا أن یقول الأصل مخاطباً للفرع -ولو ابنہ، ’’بحر‘‘- :  أشھد علی شھادتي أنّي أشھد بکذا ویقول الفرع :  أشھد أنّ فلاناً أشھدني علی شھادتہ بکذا وقال لی :  



[1]     ’’ردّ المحتار‘‘،  کتاب الصوم، ج۳، ص۴۱۰-۴۱۵۔

[2]    یعنی زنا کی تہمت کی حد۔

[3]     ’’الحدیقۃ الندیۃ‘‘، النوع الثالث من أنواع العلوم الثلاثۃ، ج۱، ص۳۵۱۔

[4]       یعنی گواہی پر گواہ کرنا۔

[5]     یعنی قابلِ سماعت۔

[6]       اور اسی پر قیاس کرتے جاؤ۔

[7]     یعنی شریعت کی طرف سے مقرر کردہ سزائیں اور بدلے ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن