دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Saboot e Hilal kay Tariqay | ثبوت ہلال کے طریقے

book_icon
ثبوت ہلال کے طریقے

قبل بلا دعوی وبلا لفظ ’’أشھد‘‘ وحکمٍ و مجلس

’’اَبرو غبار کی حالت میں   ہلالِ رمضان کے لئے ایک عادل یا

قضائٍ  للصوم مع علّۃ کغیم وغبار خبر عدل أو مستور لا فاسقٍ اتفاقاً ولو قنّاً أو أنثی بیّن کیفیۃ الرؤیۃ أو لا علی المذھب، وشرط للفطر مع العلّۃ والعدالۃ نصاب الشھادۃ و لفظ أشھد، ولو کانوا ببلدۃ لا حاکمَ فیھا صاموا بقول ثقۃ وأفطروا  بإخبار عدلین مع العلّۃ للضرورۃ، وقبل بلا علّۃ جمع عظیم یقع غلبۃ الظن بخبرھم، وعن الإمام یکتفی بشاھدین، واختارہ في ’’البحر‘‘، وصحّح في الأقضیۃ الاکتفاء بواحد إن جاء من خارج البلد أو کان علی مکان مرتفع، واختارہ ظھیر الدین، وھلال الأضحی وبقیۃ 

 مستورالحال کی خبر کافی ہے اگرچہ غلام یا عورت ہورؤیت کی کیفیت بیان کرے خواہ نہ کرے ، دعویٰ یا لفظ ’’أَشْھَدُ‘‘ یا حکم یا مجلسِ قاضی کسی کی شرط نہیں  ، مگر فاسق کا بیان بالاتفاق مردود ہے ، اور عید کے لئے بحال ناصافئ مطلع عدالت کے ساتھ دو مرد یا ایک مرددو عورت کی گواہی بلفظ  ’’أَشْھَدُ‘‘  ضرور ہے اور اگر ایسے شہر میں   ہوں   جہاں   کوئی حاکمِ اسلام نہیں   تو بوجہ ضرورت بحال اَبرو غبار ایک ثقہ شخص کے بیان پر روزہ رکھیں   اور دو عادلوں   کی خبر پر عید کرلیں  ، اور جب اَبرو غبارنہ ہو تو ایسی بڑی جماعت کی خبر مقبول ہوگی جس سے ظنِ غالب حاصل ہوجائے ، اور امام ([1])سے الأشہر التسعۃ کالفطر علی المذھب۔ ۱ھ مختصراً۔([2] )

مروِی ہوا کہ دو گواہ کافی ہیں   اور اسی کو ’’بحر الرائق‘‘ میں   اختیار کیا، اور کتاب الاقضیہ میں   فرمایا :  صحیح یہ ہے کہ ایک بھی کافی ہے اگر جنگل سے آئے یا بلند مکان پر تھا، اور اسی کو امام ظہیر الدین نے اختیار فرمایا، اور ذی الحجہ اور باقی نو مہینوں   کے چاند کا وہی حکم ہے جو ہلال عید الفطر کا، اھ مختصراً۔‘‘

’’ردّ المحتار‘‘ میں   ہے :

شرط القبول عند عدم علۃ في السماء لہلال الصوم أو الفطر إخبار جمع عظیم؛ لأنّ التفرّد من بین الجمّ الغفیر بالرؤیۃ مع توجھھم طالبین لِما توجہ ھو إلیہ مع فرض عدم المانع ظاھر في غلطہ، ’’بحر‘‘۔

ولا یشترط فیھم العدالۃ،

جب آسمان صاف ہو تو ہلالِ روزہ و عید کے قبول کو جماعت عظیم کی خبر ضرور ہے اس لئے کہ بڑی جماعت کہ وہ بھی چاند دیکھنے میں   مصروف تھی اس میں   صرف دو ایک شخص کو نظر آنا حالانکہ مطلع صاف ہے ان دو ایک کی خطا میں   ظاہر ہے ایسا ہی’’إمداد‘‘ ولا الحریۃ، ’’قھستاني‘‘۔([3] )

’’بحرالرائق‘‘ میں   ہے ، اور جماعت عظیم میں   عدالت شرط نہیں   ایسا ہی ’’امداد الفتاح ‘‘میں   ہے ، نہ آزادی شرط ہے ایسا ہی ’’قہستانی‘‘ میں   ہے ۔

قولہ :  ’’واختارہ في ’’البحر‘‘ حیث قال :  ینبغي العمل علی ھذہ الروایۃ في زماننا؛ لأنّ الناس تکاسلت عن ترائي الأھلّۃ، فانتفی قولھم مع توجھھم طالبین، وظاھر ’’الولوالجیۃ‘‘ و’’الظھیریۃ‘‘ یدل علی أنّ ظاھر الروایۃ ھو اشتراط العدد، والعدد یصدق باثنین ۱ھ، وفي زماننا نشاھد تکاسل الناس  فلیس في شھادۃ الاثنین تفرد من بین الجم

اور ’’بحر الرائق‘‘ میں   فرمایا کہ جب لوگ چاند دیکھنے میں   کاہلی([4] )  کریں   تو اس روایت پر عمل چاہئے کہ دوگواہ کافی ہیں   کہ اب وہ وجہ نہ رہی کہ سب چاند دیکھنے میں   مصروف تھے اور مطلع صاف تھا تو فقط اِنھیں   دو کو نظر آنا بعید اَزقیاس ہے ، اور’’والوالجیہ‘‘ و’’ظہیر یہ ‘‘سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظاہر الروایۃ میں   صرف تعدّدِ گواہان کی شرط ہے اور تعدد دو سے بھی ہوگیا انتہی، اور ہمارے زمانے میں   لوگوں   کا کَسَل([5] )  آنکھوں   دیکھا ہے تو دو کی

 الغفیر حتی یظھر غلط الشاھد، فانتفت علۃ ظاھر الروایۃ فتعیّن الإفتاء بالروایۃ الأخری، وفي ’’کافي الحاکم‘‘ الذي ھو جمع کلام محمد في کتبہ ظاھر الروایۃ :  تقبل شھادۃ المسلم والمسلمۃ عدلاً کان أو غیر عدل بعد أن یشھد أنّہ رأی خارج المصر أو أنّہ رآہ في المصر مع علۃ تمنع العامۃ من التساوی في رؤیتہ ۱ھ، ولا منافاۃ بینھما؛ لأنّ اشتراط الجمع العظیم إذا کان الشاھد من المصر في غیر مکان مرتفع، فالثانیۃ مقیدۃ لإطلاق الأولی بدلیل أنّ الأولی علل فیھا رد الشھادۃ بأنّ التفرّد ظاھر في الغلط، وعلی ما في الثانیۃ 

 گواہی کو یہ نہ کہیں   گے کہ جمہور کے خلاف اُنھیں   کو کیسے نظر آگیا جس سے گواہ کی غلطی ظاہر ہو، تو ظاہر الروایۃ کی وجہ نہ رہی، تو اس دوسری روایت پر فتویٰ دینا لازم ہوا، اور ’’کافی حاکم‘‘میں   جس میں   امام محمد کا تمام کلام کتب ظاہر الروایۃ کا جمع فرمادیا ہے یوں   ہے کہ رمضان میں   ایک مسلمان مرد یا عورت، عادل یا مستور الحال کی گواہی مقبول ہے جبکہ یہ گواہی دے کہ اس نے جنگل میں   دیکھا یا شہر میں   دیکھا اور کوئی سبب ایسا تھا جس کے باعث اوروں   کو نظرنہ آیا انتہی، اور ان دونوں   روایتوں   میں   منافات  نہیں   اس لئے کہ جماعت ِعظیم کی شرط وہاں   ہے کہ گواہ شہر میں   غیر مکان بلند پر ہو تو یہ پچھلی روایت اس پہلی کے اطلاق کی قید بتاتی ہے اور اس پر دلیل یہ کہ پہلی میں   ایک کی لم توجد علۃ الرد ولھذا  قال في ’’المحیط‘‘ :   فلا یکون تفردہ بالرؤیۃ خلاف الظاھر۔

قولہ :  وبقیۃ الأشھر التسعۃ لایقبل فیھا إلاّ شھادۃ رجلین أو رجل وامرأتین عدول أحرار غیر محدودین کما في سائر الأحکام، ’’بحر‘‘ عن ’’شرح مختصر الطحاوي‘‘ للإ مام الإسبیجابي۔والظّاھر أنّہ في الأھلۃ التسعۃ لا فرق بین الغیم والصحو في قبول الرجلین لفقد العلۃ الموجبۃ لاشتراط الجمع الکثیر وھي توجہ الکلّ طالبین ویؤیّدہ قولہ :  کما في سائر



[1]    یعنی امام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

[2]     ’ ’الدرّ‘‘، کتاب الصوم ، ج۳، ص۴۰۶-۴۱۶۔

[3]       ’’ردّ المحتار‘‘،  کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۹، تحت قول ’’الدرّ‘‘ :  وقیل بلا علّۃ۔

[4]      یعنی سستی۔

[5]     یعنی سست پن۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن