30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جبکہ اگر اسے ’’طریق اثبات الہلال‘‘لکھا جائے تو یہ اپنے سنِ تحریر کا عکاس ہے اور تلمیذِ اعلیٰ حضرت ملک العلماء مولانا ظفر الدین بہاری علیہ رحمۃ اللّٰہ الوالی نے بھی اپنی تصنیف ’’حیاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ میں اس رسالہ کا نام ’’طریق اثبات الہلال‘‘لکھا ہے ۔ (’’حیاتِ اعلی حضرت‘‘، ج۲، ص۶۷، مطبوعہ مکتبہ نبویہ گنج بخش، لاہور)۔
اس رسالہ پر المدینۃ العلمیہ کے شعبۂ کتبِ اعلیٰ حضرت کے مدنی علمائے کرام نے تسہیل وتخریج کا کام سرانجام دیا ہے ، اللہ عزوجل دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس المدینۃ العلمیہ کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عمل کو زیورِ اخلاص سے آراستہ فرمائے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
ازبڑودہ گجرات باڑہ نواب صاحب مرسلہ نواب سید معین الدین حسن خاں بہادر ۲۵ محرم الحرام ۱۳۲۰ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رؤیتِ ہلال([1]) شریعت میں کس طرح ثابت ہوتی ہے ؟ بحوالۂ کتب مع ترجمہ اردو جواب عطا ہو۔ بَیِّنُوا تُؤْجَرُوْا([2] )
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَائً وَالْقَمَرَ نُوْراً، وَالصَّلاۃُ وَالسَّلاَمُ عَلی مَنْ صَارَ الدِّیْنُ بِطُلُوْعِ ھِلَالِہِ بَدْراً مُّنِیْراً، وَعَلَی آلِہِ وَصَحْبِہِ الْکَامِلِیْنَ نُوْراً وَالْمُکَمِّلِیْنَ تَنْوِیْراً۔([3] )
ثبوتِ رؤیتِ ہلال کے لئے شرع میں سات طریقے ہیں :
یعنی چاند دیکھنے والے کی گواہی، ہلالِ رمضان مبارک کے لئے ایک ہی مسلمان عاقل بالغ غیر فاسق کا مُجَرَّد بیان کافی ہے کہ میں نے اس رمضان شریف کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا اگرچہ کنیز ہو اگرچہ مَسْتُوْرُ الْحَال ہو([4]) جس کی عدالتِ باطنی معلوم نہیں ، ظاہر حال پابندِ شرع ہے اگرچہ اس کا یہ بیان مجلسِ قضا ([5])میں نہ ہو اگرچہ ’’گواہی دیتا ہوں ‘‘ نہ کہے ، نہ دیکھنے کی کیفیت بیان کرے کہ کہاں سے دیکھا کدھر کو تھا کتنا اونچا تھا؟ وغیر ذلک([6])، یہ اس صورت میں ہے کہ ۲۹ شعبان کو مطلع صاف نہ ہو، چاند کی جگہ اَبریا غبار ہو، اور بحالِ صفائی مطلع اگر ویسا ایک شخص جنگل سے آیا یا بلند مکان پر تھا تو بھی ایک ہی کا بیان کافی ہوجائے گا، ورنہ دیکھیں گے کہ وہاں کے مسلمان چاند دیکھنے میں کوشش رکھتے ہیں بکثرت لوگ متوجہ ہوتے ہیں یا کاہل([7])ہیں دیکھنے کی پرواہ نہیں ، بے پرواہی کی صورت میں کم سے کم دودر کارہوں گے اگرچہ مستور الحال ہوں ورنہ ایک جماعت عظیم چاہئے کہ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرے جس کے بیان سے خوب غلبۂ ظن حاصل ہوجائے کہ ضرور چاند ہوا اگرچہ غلام یاکھلے فُسَّاقہوں ، اور اگر کثرت حدِ تو اتر ([8] ) کو پہنچ جائے کہ عقل اتنے شخصوں کا غلط خبر پر اتفاق محال جانے تو ایسی خبر مسلم و کافر سب کی مقبول ہے ۔
باقی گیارہ ہلالوں کے واسطے مطلقاً ہر حال میں ضرور ہے کہ دو مرد عادل، یا ایک مرد دوعورتیں عادل، آزادجن کا ظاہری و باطنی حال تحقیق ہو کہ پابندِ شرع ہیں قاضیِ شرع کے حضور بلفظ ’’أَشْھَدُ‘‘ گواہی دیں یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اس مہینے کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا اور جہاں قاضی شرع نہ ہو تو مفتیٔ اسلام اس کا قائم مقام ہے جبکہ تمام اہلِ شہر سے علم فقہ میں زائد ہواس کے حضور گواہی دیں ، اور اگر کہیں قاضی و مفتی کوئی نہ ہو تو مجبوری کو اور مسلمانوں کے سامنے ایسے عادل دو مرد یا ایک مرد دو عورتوں کا بیان بے لفظ ’’أَشْھَدُ‘‘ بھی کافی سمجھا جائے گا۔
ان گیارہ ہلالوں میں ہمیشہ یہی حکم ہے مگر عیدَین میں اگر مطلع صاف ہو اور مسلمان رؤیتِ ہلال میں کاہلی نہ کرتے ہوں اور وہ دو گواہ جنگل یا بلندی سے نہ آئے ہوں تو اس صورت میں وہی جماعتِ عظیم درکار ہے ، اسی طرح جہاں اور کسی چاند مثلاً ہلالِ محرم کا عام مسلمان پورا اہتمام کرتے ہوں تو بحالتِ صفائی مطلع جب کہ شاہدَین([9]) جنگل یا بلندی سے نہ آئیں ظاہراً جماعت عظیم ہی چاہئے کہ جس وجہ سے اس کا ایجاب ([10]) رمضان و عیدَین میں کیا گیا تھا یہاں بھی حاصل ہے ۔
’’در مختار‘‘ میں ہے :
[1] چاند کا دیکھنا۔
[2] بیان فرمایئے اجر پایئے ۔
[3] سب تعریفیں اللہ کے لئے جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور بنایا اور درود وسلام اس ذات پر جس کے ہلال کے طلوع سے دین چودھویں کا چمکادینے والا چاند ہوگیا اور انکی آل اور اصحاب جو نور میں کامل ہیں اور روشنی کو مکمل کرنے والے ہیں ۔
[4] جس کا حال چھپاہوا ہو۔
[5] یعنی قاضی کے روبرو ۔
[6] اوراسکے علادہ دیگر کیفیات ۔
[7] بے پروہ۔
[8] یعنی اتنی بڑی تعداد۔
[9] دو گواہ۔
[10] قبول کرنا۔