دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Saboot e Hilal kay Tariqay | ثبوت ہلال کے طریقے

book_icon
ثبوت ہلال کے طریقے

قیاس کا کیا کام، حکم مقیس علیہ میں   باطل ہے تو مقیس آپ ہی عاری وعاطل ہے ۔

            مولوی صاحب لکھنوی نے اپنے فتاویٰ میں   خط و تار کو بے اعتبار ہی ٹھہرایا اور اس حکم میں   حق کی موافقت کی مگر یہ کہنا ہر گز صحیح نہیں   کہ خبر تار یا خط بدرجۂ کثرت پہنچ جائے تو اس پر عمل ہوسکتا ہے ، اسے استفاضہ میں   داخل سمجھنا صریح غلط، استفاضے کے معنی جو علماء نے بیان فرمائے وہ تھے کہ طریقِ پنجم میں   مذکور ہوئے ، متعدد جماعتوں   کا آنا اور یک زبان بیان کرنا چاہیے ، یہاں   اگر متعدد جگہ سے خط یا تار آئے بھی تو اوّلاً وہ ان وجوہ نا جوازی سے جنہیں   ہم نے اس فتویٰ میں   مفصلاً ذکر کیا ہرگز بیان مقبول کے سلسلے میں   نہیں   آسکتے ، ڈاک کے منشی تار کے بابو چِٹّھی رساں   اکثر کفار یا عموماً مجاہیل یا فساق فجار ہوتے ہیں  ، اور بفرض باطل آئیں   بھی تو یہ تعدد مخبرعنہ میں   ہوا نہ(کہ) مخبرین میں  ، کہ یہاں   تار لینے والے بابو اگر مسلمان ثقہ ہوں   بھی تو ہرگز اتنی جماعاتِ متعددہ نہ ہوں   گی جن کی اخبار پریقینِ شرعی حاصل ہو، بلکہ عامۂ بلاد میں   صرف دو ایک ہی تار گھر ہوتے اور صدر ڈاک خانہ تو ایک ہی ہوتا ہے اگرچہ بڑے شہر میں   تقسیم کے لئے دو چار برانچ اور بھی ہوں  ، بہر حال یہ خط یا تارہم کو تو معدو دہی شخصوں   کے ذریعہ سے ملیں   گے پھر استفاضے سے کیا علاقہ ہوا ، کیا اگر زید آکر کہہ دے کہ فلاں   جگہ لاکھ آدمیوں   نے چاند دیکھا تو یہ خبر مستفیض کہلائے گی ؟  ولا حول ولا قوۃ إلاّ باﷲ العلي العظیم۔([1] )

            پنجم جنتریوں   کا بیان کہ فلاں   دن پہلی ہے ، اوّل بعض علماء ِشافعیہ وبعض معتزلہ وغیرہم کا خیال اس طرف گیا تھا کہ مسلمان عادل مُنَجِّمُوں   کا قول اس بارے میں   معتبر ہوسکتا ہے اور بعض نے قید لگائی تھی کہ جب ان کی ایک جماعت کثیریک زبان بیان کرے کہ فلاں   مہینے کی یکم فلاں   روز ہے تو مقبول ہونے کے قابل ہے ، اگرچہ واجِبُ الْعَمَل کسی کے نزدیک نہیں   مگر ہمارے ائمۂ کرام اور جمہور محققینِ اَعلام اسے اصلاً تسلیم نہیں   فرماتے اور اس پر عمل جائز ہی نہیں   رکھتے اور یہی حق ہے کہ حضور پر نور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صحیح حدیث میں   یہاں   قولِ مُنَجِّمِین سے قطعِ نظر وعدم ِلحاظ کی تصریح فرماچکے پھر اب اس پر عمل کا کیا محل۔

            ’’درّمختار ‘‘میں   ہے :

            لا عبرۃ بقول المؤقتین ولو عدولاً علی المذھب۔([2] )

            ’’ردّ المحتار‘‘ میں   ہے  :

            بل في ’’المعراج‘‘ :  لا یعتبر قولھم بالإجماع، ولا یجوز لِلْمُنَجِّم أن یعمل بحساب نفسہ۔([3] )

            جب منجمین مسلمین ثقات عدول کے بیان کا یہ حال تو آج کل کی جنتریاں   جو عموماً ہنود وغیرہم کفار شائع کرتے ہیں   یا بعض نیچری نام کے مسلمان یا بعض مسلمان بھی، تو وہ بھی انہیں   ہندوانی جنتریوں   کی پیروی سے ، کیا قابلِ التفات ہوسکتی ہیں  ؟۔

فقیر نے بیس برس سے بڑی بڑی نامی جنتریاں   دیکھیں  ، اول مصرانی ہَیئت ہی ناقص و مختل ہے ، پھر ان جنتری سازوں   کو اس کی بھی پوری تمیز نہیں   تقویماتِ کو اکب میں   وہ وہ سخت فاحش غلطیاں   دیکھنے میں   آئیں   جن میں   کوئی سمجھ وال(سمجھدار) بچہ بھی نہ پڑتا، پھر یہ کیا اور ان کی جنتری کیا، اور ان کی دُوج اور پروا(پَ رِ وَا) ([4] )  کی کسے پروا!؟۔

ششم قیاسات و قرائن  :  مثلاً چاند بڑا تھا، روشن تھا، دیر تک رہا توضرور کل کا تھا آج بیٹھ کر نکلا تو ضرور پندرہویں   ہے ، اٹھائیسویں   کو نظر آیا تھا مہینہ تیس کا ہوگا، اٹھائیسویں   کو بہت دیکھا نظر نہ آیا مہینہ انتیس کا ہوگا، یہ قیاسات تو حسابات کی وقعت بھی نہیں   رکھتے پھر ان پر عمل محض جہل و زلل ، حدیث میں   ہے حضور پر نورسید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں   :

((مِن اقْتِرَابِ السَّاعَۃِ انْتِفَاخُ الْأَہِلَّۃِ)). رواہ الطبراني في ’’الکبیر‘‘ عن عبد اﷲ بن مسعود رضي اﷲ تعالی عنہ۔([5] )

’’قربِ قیامت کی علامات سے ہے کہ ہلال پھولے ہوئے نکلیں   گے یعنی دیکھنے میں   بڑے معلوم ہوں   گے ۔‘‘

دوسری حدیث میں   ہے رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں   :

((مِن اقْتِرَابِ السَّاعَۃِ أَنْ یُرَی الْہِلاَلُ قَبَلاً  وَیُقَالُ :  ہُوَ لِلَیْلَتَیْنِ))۔ رواہ في ’’الأوسط‘‘ عن أنس رضي اﷲ تعالی عنہ۔([6] )

’’علامات ِقیامت سے ہے کہ چاند بے تکلف نظر آئے گا کہا جائے گا کہ دورات کا ہے ۔‘‘

’’صحیح مسلم شریف ‘‘میں   ابوالبختری سعید بن فیروز سے ہے :   

 



[1]     اور نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی قوت نہیں ہے مگر بلند اور عظمت والے رب عزوجل کی توفیق سے ۔

[2]      مذہب یہی ہے کہ اہلِ توقیت کا قول معتبر نہیں اگر چہ وہ عادل ہوں۔’’ الدرّ‘‘، کتاب الصوم، ج۸، ص۴۰۸۔

[3]     بلکہ ’’معراج ‘‘میں ہے کہ اہلِ توقیت کا قول بالاجماع معتبر نہیں، اور منجمین کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے حساب پر عمل پیرا ہوں۔’’ ردّ المحتار‘‘، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۸، تحت قول ’’الدرّ‘‘ :   ولا عبرۃ بقول المؤقتین۔

[4]     دُوج  :  قمری ماہ کی دوسری اور سترہویں تاریخ۔    (’’اردو لغت‘‘، ج۹، ص۶۵۱)۔

  پَرِوا :  چاند کے بڑھنے یا گھٹنے  کے حساب سے ہر آدھے مہینے کاپہلا دن۔ (’’اردو لغت‘‘، ج۳، ص۹۰۷)

[5]      اسے طبرانی نے ’’معجم کبیر‘‘ میں حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ۔

’’المعجم الکبیر‘‘ للطبرانی،  الحدیث : ۱۰۴۵۱، ج۱۰، ص۱۹۸۔

[6]     اسے طبرانی نے ’’معجم اوسط‘‘ میں حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ۔

’’المعجم الأوسط‘‘،  ج۶، ص۴۵۴، الحدیث :  ۹۳۷۶۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن