30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صرف دو ایک شخص ہوتے ہیں ، اسے استفاضہ سمجھ لینا محض جہالت ہے ، اس کی صورتیں وہ ہیں جو ہم نے طریق ِپنجم میں ذکر کیں ۔
’’منحۃ الخالق‘‘ حاشیہ ’’بحر الرائق‘‘ میں ہے :
إعلم أنّ المراد بالاستفاضۃ تواتر الخبر من الواردین من بلدۃ الثبوت إلی البلدۃ التي لم یثبت بہا لا مجرد الاستفاضۃ؛ لأنّھا قد تکون مبنیّۃ علی إخبار رجل واحد مثلاً فیشیع الخبر عنہ، ولا شک أنّ ھذا لا یکفي بدلیل قولھم : إذا استفاض الخبر وتحقق فإنّ التحقق لا یکون إلاّ بما ذکرنا۔([1] )
فقیر کو بارہا تجربہ ہوا کہ ایسی شہر تیں محض بے سروپا نکلتی ہیں اسی ذی الحجہ میں خبر شائع ہوئی کہ’’ آنولے ‘‘میں چاند ہوا ہے وہاں عام لوگوں نے دیکھا اور فقیر کے ایک دوست کا خاص نام بھی لیا گیا وہ آئے اور خود اپنی رؤیت اور وہاں سب کا دیکھنا بیان کرتے تھے فقیر نے ان کے پاس ایک معتمد کو بھیجا، وہاں سے جواب ملا کہ یہاں ابر غلیظ تھا نہ میں نے دیکھا نہ کسی اور نے دیکھا۔
پھر خبر اڑی کہ’’ شاہجہا نپور‘‘ میں تو ایک ایک شخص نے دیکھا فقیر نے وہاں بھی ایک معتمد ثقہ کو اپنے ایک دوست عالم کے پاس بھیجا انہوں نے فرمایا : اس کا حال میں آپ کو مشاہدہ کرائے دیتا ہوں ان کا ہاتھ پکڑ کر شہر میں گشت کیا دروازہ دروازہ دریافت کرتے پھرے عید کب ہے ؟ کہا : جمعہ کی، کہا : کیا چاند دیکھا ؟ کہا : دیکھا تو نہیں ، کہا : پھر کیوں ؟ اس کا جواب کچھ نہ تھا، شہر بھر سے یہی جواب ملا صرف ایک شخص نے کہا : میں نے منگل کو چاند دیکھا تھا اور میرے ساتھ فلاں فلاں صاحب نے بھی، اب یہ عالم مع ان معتمد کے دوسرے صاحب کے پاس گئے ان سے دریافت کیا ، کہا : وہ غلط کہتا تھا اور خود ان دونوں صاحبوں کے ساتھ ان گواہ صاحب کے پاس آئے اب یہ بھی پلٹ گئے کہ ہاں کچھ یاد نہیں ۔پھر خبر گرم ہوئی کہ رامپور میں چاند دیکھا گیا اور جمعہ کی عید قرار پائی، فقیر نے دوثقہ شخصوں کو وہاں کے دو علمائِ کرام اپنے احباب کے پاس بھیجا، معلوم ہوا وہاں بھی ابر تھا کسی نے بھی نہ دیکھا، بارے ([2] )اتنا معلوم ہوا کہ وہاں دو شخص دہلی سے دیکھ کر آئے ہیں ان علماء نے ان دوشاہدوں کو بلا کر ان دو ثقات کے سامنے شہادت دلوائی اور جو الفاظ فقیر نے انہیں لکھوا دیئے تھے وہ ان سے کہلوا کر ان کو تحمیلِ شہادت کرائی اور دونوں عالم صاحبوں نے خود ان دونوں شہودِ اصل کا تزکیہ کیا، اب ان دونوں فرع نے یہاں آکر شہادۃ علی الشہادۃ حسبِ قاعدہ شرعیہ دی، اس وقت فقیر نے عید ِجمعہ کا فتویٰ دیا۔
دیکھئے افواہِ اَخبار کی یہ حالت ہوتی ہے ، وَلاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاﷲِ الْعَلِيِّ الْعَظِیْم۔([3] )
سوم خطوط واخبار : بڑی دوڑ یہ ہوتی ہے کہ فلاں جگہ سے خط آیا، فلاں اخبار میں یہ لکھاپایا، حالانکہ ہم طریقِ چہارم میں بیان کرچکے کہ حاکمِ شرع کا خاص مہری دستخطی خط جس پر خود اس کی اور محکمہ دارالقضا کی مہر لگی اور اس کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہو، اور یہاں بھی حاکم شرع کے نام آئے ، ہرگز بغیر دو شاہدانِ عادل کے جنہیں لکھ کر اپنی کتاب کا گواہ بنا کر خط سپرد کیا اور یہاں انہوں نے حاکمِ شرع کو دے کر شہادت ادا کی ہو مقبول نہیں ، پھر یہ ڈاک کے پرچے کیا قابلِ التفات ہوسکتے ہیں ، اور اخباری گپیں تو اصلاً نام لینے کے بھی قابل نہیں ۔
’’درّمختار ‘‘میں ہے : لا یعمل بالخط۔([4] )
’’ہدایہ ‘‘میں ہے : الخط یشبہ الخط فلا یعتبر۔([5] )
چہارم تار : یہ خط سے بھی زیادہ بے اعتبار، خط میں کاتب کے ہاتھ کی علامت تو ہوتی ہے ، یہاں اس قدر بھی نہیں ، تو اس پر عمل کو کون کہے گا مگر اَجہل سا اجہل جسے علم کے نام سے بھی مس نہیں ۔
فقیر نے اس کے رَد میں ایک مفصل فتویٰ لکھا([6] )اور بحمداﷲ تعالیٰ اس پر ہندوستان کے بکثرت علماء نے مہریں کیں ، ’’کلکتے ‘‘میں چھپ کر شائع ہوا تھا۔
گنگوہی مُلاّنے اپنے ایک فتویٰ میں تار کی خبر اس باب میں معتبر ٹھہرائی اور اسے تحریرِ خط پر قیاس کیا تھا کہ تار کی خبر مثل تحریرِ خط کی خبر کے ہے کیونکہ تحریر میں حروف اصطلاحی ہیں جس سے مطلب معلوم ہوجاتا ہے خواہ بحرکت ِقلم پیدا ہوویں خواہ کسی لاٹھی یا بانس طویل کی حرکت سے (إلی قولہ)، ’’بہر حال خبر تار کی مثلِ خط ہے اور معتبر ہے ‘‘۔یعنی خط میں قلم سے لکھتے ہیں ، تار دینا ایسا ہے کہ کسی بڑے بانس سے جو ہزاروں کوس تک لمبا ہے لکھ دیا، تو جیسے وہ معتبر ہے ویسے ہی یہ، بلکہ یہ تو زیادہ معتبر ہونا چاہئے کہ وہاں چھوٹا سا قلم ہے اور یہاں اتنا بڑا بانس تو اعتبار بھی اسی نسبت پر بڑھنا چاہئے ، شملہ بہ مقدار قلم ، قیاس تو اچھا دوڑا تھا مگر افسوس کہ شرعاً محض مردودو نا کام رہا۔
اولاً خط و تار میں جو فرق ہیں ہم نے اپنے فتویٰ مفصَّلہ میں ذکر کیے جو اس قیاس کو اَزبیخ برکندہ کرتے ہیں ([7] )اور ان سے قطع نظر بھی کیجئے تو بحکمِ شرع خط ہی پر عمل حرام، پھر اس بانس کے
[1] جان لو !شہرت سے مراد یہ ہے کہ چاند کا ثبوت ہونے والے شہر سے چاند کا ثبوت نہ ہونے والے شہر تک خبر تواتر کے ساتھ ہو محض شہرت کافی نہیں؛اس لئے کہ بعض اوقات کسی ایک آدمی کی خبر کی بناء پر خبر مشہور ہوجاتی ہے اور بلاشبہ یہ ان کے اس فرمان کی دلیل کی وجہ سے کافی نہیں کہ : جب خبر مشہور اور متحقق ہوکیونکہ تحقق مذکورہ بات کے علاوہ ہو ہی نہیں سکتا۔
’’منحہ الخالق‘‘، کتاب الصوم، ج۲، ص۴۷۲۔
[2] آخر کار۔
[3] اور نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی قوت نہیں ہے مگر بلند اور عظمت والے رب عزوجل کی توفیق سے ۔
[4] یعنی خط پر عمل نہیں کیاجائے گا۔
’’ الدرّ‘‘، کتاب القضاء، باب کتاب القاضي إلی القاضي، ج۸، ص۱۵۲۔
[5] یعنی خط خط کے مشابہ ہوتا ہے لہٰذا معتبر نہیں۔
’’الہدایۃ‘‘، کتاب الزکاۃ، باب فیمن یمرّ علی العاشر، ج۱، ص۱۰۴۔
[6] امام اہلسنت کا رسالہ ’’أزکی الإہلال بإبطال ما أحدث الناس في أمر الہلال‘‘ فتاویٰ رضویہ کی جلد ۱۰، صفحہ ۳۵۹ تا ۷۶۷پر ملاحظہ فرمائیں۔
[7] یعنی جڑ سے اکھاڑدیتے ہیں۔