دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Saboot e Hilal kay Tariqay | ثبوت ہلال کے طریقے

book_icon
ثبوت ہلال کے طریقے

            ثم أقول :  ھذا کلّہ کلام معہ علی تسلیم أنّ النوط بالرؤیۃ إنّما ورد في الصّوم والفطر ولیس کذلک بل قد ثبت کذلک في الأضحیّۃ، فقد أخرج أبو داود والدار قطني عن أمیر مکۃ الحارث بن حاطب رضي اﷲ تعالی عنہ، قال :  ((عَہِدَ إِلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْسُکَ لِلرُّؤْیَۃِ فَإِنْ لَمْ نَرَہُ وَشَہِدَ شَاہِدَا عَدْلٍ نَسَکْنَا بِشَہَادَتِہِمَا))، قال الدار قطني :  ھذا إسناد متصل صحیح([1] ) فانقطع مبنی البحث من رأسہ واستبان الحق وﷲ الحمد([2] ) ۔

            أمّا ما تمسک بہ من مسئلۃ الحج فأقول :  لا حجۃ فیھا فإنّھا فیما أری لدفع الحرج العظیم، ونظیرہ ما في ’’التنویر‘‘ و’’الدرّ‘‘([3] ) تبیّن أنّ الإمام صلی بغیر طھارۃ تعاد الصلاۃ دون الأضحیّۃ، لأنّ من العلماء من قال :  لا یعید الصلاۃ إلاّ الإمام وحدہ، فکان للإجتھاد فیہ مساغ، ’’زیلعي‘‘ کما لوشھدوا أنّہ یوم العید، فصلّوا ثم ضحّوا، ثم بان أنّہ یوم عرفۃ أجزأتھم الصلاۃ والتضحیۃ؛ لأنّہ لا یمکن التحرّز عن مثل ھذا الخطأ، فیحکم بالجواز صیانۃ لجمع المسلمین، ’’زیلعي‘‘ ۱ھ ملخصّاً مصحّحاً۔

            ثم رأیت بحمد اﷲ التصریح بہ في ’’اللباب‘‘([4] ) و’’شرحہ‘‘([5] )   بل في نفس الشرح المتعلّق بہ ’’ردّ المحتار‘‘ حیث قال([6] ) :  شھدوا بعد الوقوف بوقوفھم بعد وقتہ لا تقبل شھادتھم والوقوف صحیح استحساناً حتی الشھود للحرج الشدید۔۔۔ إلخ۔ فقد ظہر الحق، والحمد ﷲ ربّ العالمین۔([7] )

            غرض ثبوتِ ہلال کے شرعی طریقے یہ ہیں  ، ان کے سوا جس قدر طرق لوگوں   نے ایجاد کئے محض باطل ومخذول وناقابلِ قبول ہیں  ، خیالاتِ عوام کا حصر کیا ہو مگر آج کل جہال میں   غلط طریقے جو زیادہ رائج ہیں   وہ بھی سات ہیں   :

             یکم حکایت رؤیت  : یعنی کچھ لوگ کہیں   سے آئے اور خبر دی کہ وہاں   فلاں   دن چاند دیکھا گیا، وہاں   کے حساب سے آج تاریخ یہ ہے ، ظاہر ہے کہ یہ نہ شہادتِ رؤیت ہے کہ انہوں   نے خود نہ دیکھا، نہ شہادۃ علی الشہادۃ کہ دیکھنے والے ان کے سامنے گواہی دیتے اور اُنھیں   اپنی گواہیوں   کا حامل بناتے ، اور یہ حسب قواعدِشرعیہ یہاں   شہادت دیتے ، بلکہ مجرد حکایت جس کا شرع میں   اصلاً اعتبار نہیں   اگرچہ یہ لوگ بھی ثقہ معتمد ہوں   اور جن کا دیکھنا بیان کریں   وہ بھی ثقہ مستند ہوں   نہ کہ جُہّال، جہال میں   تو یہ رائج ہے کہ کوئی آئے کیساہی آئے کسی کے دیکھنے کی خبر لائے اگرچہ خود اس کا نام بھی نہ بتائے بلکہ سرے سے اس سے واقف ہی نہ ہو ایسی مہمل خبروں   پر اعتماد کرلیتے ہیں  ۔

            ’’فتح القدیر‘‘ و’’بحر الرائق‘‘ و’’عالمگیریہ ‘‘وغیرہا میں   ہے :

            لو شھد جماعۃ أنّ أھل بلدۃ کذا رأوا ھلال رمضان قبلکم بیوم فصاموا وھذا الیوم ثلاثون بحسابھم ولم یر ھؤلاء الھلال لا یباح فطر غد، ولا ترک التراویح في ھذہ اللیلۃ؛ لأنّھم لم یشھدوا بالرؤیۃ ولا علی شھادۃ غیرھم وإنّما حکوا رؤیۃ غیرھم۔([8] )

            دوم افواہ  :  شہر میں   خبر اڑ جاتی ہے کہ فلاں   جگہ چاند ہوا ، جاہل اسے تواتر واستفاضہ سمجھ لیتے ہیں   حالانکہ جس سے پوچھئے سنی ہوئی کہتا ہے ، ٹھیک پتہ کوئی نہیں   دیتا، یا منتہائے سند



[1]          ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب الصوم ، الحدیث :  ۲۲۳۸، ج۲، ص ۴۳۹۔ 

و’’الدارقطني‘‘، کتاب الصیام، باب الشہادۃ علی رویۃ الہلال، الحدیث :  ۲۱۷۱، ج۲، ص۲۱۰۔

[2]        پھر میں کہتا ہوں :  یہ تمام کلام اس صورت میں ہے جب یہ تسلیم ہوکہ رؤیت پر مدار صرف صوم اور فطر کے بارے میں واردہوا ہے حالانکہ ایسی بات نہیں بلکہ اس طرح کا ثبوت توقربانی میں بھی ہے ، پس امام ابو داؤد اور دار قطنی نے امیر مکہ حضرت حارث بن حاطب رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہتے ہیں کہ : ’’ ہم سے رسول اﷲصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس بارے میں یہ عہد لیا تھا کہ ہم چاند دیکھنے کی بناء پر قربانی کریں پس اگر ہم چاند نہ دیکھ سکیں اور دو عادل آدمی گواہی دے دیں تو ان کی شہادت کی بناء پر قربانی کریں‘‘۔ دار قطنی نے فرمایا :  اسکی سند متصل صحیح ہے ، تو بحث کی بنیاد ہی ختم ہوگئی اور حق واضح ہوگیا، اور تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ۔

[3]          ’’انظر  الدرّ‘‘، کتاب الأضحیۃ، ج۹، ص۵۲۹-۵۳۰۔

[4]            ’’اللباب‘‘،  کتاب الحج، باب الوقوف، ص۲۱۱۔

[5]          ’’المسلک المتقسط‘‘، کتاب الحج، باب الوقوف، ص۲۱۱۔

[6]          ’’انظر  ’’الدرّ‘‘، کتاب الحج، باب الہدی، ج۴، ص۵۰۔

[7]          رہا معاملہ مسئلہ حج سے استدلال کا تو میں کہتا ہوں کہ اس میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ میرے خیال کے مطابق حج کا مسئلہ دفع حرجِ عظیم پر مبنی ہے اور اس کی نظیر تنویر اور در میں ہے کہ اگر ظاہر ہوا امام نے بغیر طہارت کے نماز پڑھائی تو نماز لوٹائی جائے گی نہ کہ قربانی؛ کیونکہ بعض علماء نے یہ فرمایا کہ نماز کا اعادہ صرف امام ہی کرے گا، تو اب یہ مسئلہ اجتہادی قرار پایا، ’’ زیلعی‘‘ ۔

 جیساکہ گواہوں نے گواہی دی کہ یہ عید کا دن ہے ، پس لوگوں نے نماز پڑھی پھر قربانی دی پھرظاہر ہوا کہ یہ عرفہ کا دن تھاتونمازاور قربانی دونوں انہیں کفایت کرے گی؛کیونکہ ایسی غلطی سے بچنا ممکن نہیں ، پس مسلمانوں کے اجتماع کے تحفظ کے پیش نظر جواز کا حکم لگایا جائے گا۔’’ زیلعی‘‘ اھ ملخصاً مصححاً۔

پھر میں نے بحمد اللہ  ’’اللباب‘‘  اور اس کی شرح ، بلکہ نفسِ شرح جس کے ساتھ’’ رد المحتار‘‘   متعلق ہے اس میں تصریح دیکھی جب انہوں نے کہا کہ :  اگر گواہوں نے وقوفِ عرفہ کے بعد گواہی دی کہ یہ وقوف وقت کے بعد ہوا ہے تو ان کی گواہی قبول نہ کی جائے گی، اور حاجیوں کاوقوف استحساناً صحیح ہوگا یہاں تک کہ گواہوں کا وقوف بھی صحیح ہوگاحرج عظیم کی وجہ سے ، الخ، تواب حق ظاہر ہوگیا، اور تمام تعریفیں اللہ  رب العالمین کے لیے ہیں۔

[8]           یعنی اگر کسی جماعت نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے لوگوں نے تم سے ایک دن پہلے رمضان کا چاند دیکھ لیا پس انہوں نے روزہ رکھ لیادرحالانکہ یہ دن اُن کے حساب سے تیسواں بنتا تھا اور ان لوگوں نے چاند نہیں دیکھا تھا تو ان کے لیے آئندہ دن افطار کی اجازت نہیں اور نہ ہی اس رات تراویح چھوڑسکتے ہیں اس لیے کہ گواہوں نے نہ تو رؤیت پر گواہی دی اور نہ ہی اپنے غیر کی گواہی پر گواہی دی بلکہ انہوں نے تو اپنے غیر کی رؤیت کو بیان کیا ہے ۔  ’’الہندیۃ‘‘، کتاب الصوم،  باب الثانی، ج۱، ص۱۹۹۔ و’’البحر الرائق‘‘، کتاب الصوم،  باب في رؤیۃ الہلال، ج۲، ص۴۷۱-۴۷۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن