سوال:کیا بارش ہونے سے وَبائی اَمراض دور ہوتے ہیں؟(SMS کے ذَریعے سُوال)
جواب:بارش ہونے سے وَبائی اَمراض دور ہوتے ہوں ایسا کہیں پڑھا نہیں ہے۔ فی الحال بارشیں ہو رہی ہیں اور کورونا وائرس بھی موجود ہے، کئی جگہ سیلاب بھی آیا ہے لیکن اِس کے باوجود کہیں سے بھی اِس طرح کی خبر سننے کو نہیں ملی کہ فلاں جگہ پر بارش ہونے کی وجہ سے کورونا وائرس چلا گیا یا لاک ڈاؤن ختم ہو چکا ہے۔اللہ پاک جب چاہے گا اِس موذی مَرض سے نجات عطا فرمائے گا۔ وَبائی اَمراض میں بندوں کے لیے عبرت ہوتی ہے کہ بندہ خود سوچے کہ وہ کتنا بے بس ہے، جتنا بھی زور لگا لے وَبائی اَمراض سے بچ نہیں سکتا۔دُنیا دیکھ رہی ہے کہ مکمل دُنیا میں کورونا وائرس پھیلا ہوا ہے اور سائنس بھی اب تک اس کا علاج تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے اور ابھی تک اس کی ویکسین نہیں بنائی گئی ۔دُنیا سے کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری کو ختم کرنا اِنسان کے بس میں نہیں ہے۔جو لوگ وَبائی اَمراض دیکھ کر بھی عبرت حاصل نہیں کرتےان کی عقلوں پر عموماً غفلت کا پَردہ پڑ چکا ہوتا ہے، ان کی مثال اس مُرغی کی طرح ہے جو قصائی کے ہاتھوں میں ہے اور کٹنے کے لیے تیار ہے لیکن اِسی حالت میں اگر اس کے سامنے کوئی کیڑا مکوڑہ وغیرہ آجائے تو وہ اسے کھانے میں مشغول ہو جاتی ہے، اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ مجھے ابھی کاٹ دیا جائے گا۔لوگ تو میّت کو دیکھ کر بھی عبرت نہیں پکڑتے بلکہ اس کی بھی جیبیں خالی کر لیتے ہیں۔اللہ پاک تمام مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سوال:اگر کسی کے کان میں بالی کا سوراخ ہو تو وہ فرض غسل میں اس کے اندر پانی کیسے پہنچائے گا؟
جواب:کان میں بالی کے پہننے والے سوراخ میں پانی پہنچانا اتنا مشکل نہیں ہے، ذرا سا کان کو پکڑ کر ہلایا جائے گا تو ضرور پانی پہنچ جائے گا۔اس کے لیے کوئی دوربین یا خوردبین جیسی چیز کی حاجت نہیں ہے کہ بعد میں دیکھا جائے کہ پانی پہنچا ہے یا نہیں، یہ تو فقط ان لوگوں کا کام ہوتا ہے جو وَسوسوں کا شکار ہوتے ہیں۔ فتاویٰ رضویہ جلد 1 (جزء: ب) کے صفحہ 1043 پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں:دو دوست غسل کے اِرادے سے نہر پر گئے اور ایک نے دوسرے سے کہا کہ پہلے میں غسل کرتا ہوں تو مجھے بتانا کہ کون سی جگہ غسل کرنے میں خشک رہ گئی ہے اِس طرح وہ دونوں پورا دِن نہر میں غوطہ لگاتے رہ گئے اور پورے دِن کی نمازیں مَعَاذَ اللہ قضا کر دیں۔( )
سوال:کیا بیوی شوہر کی اِجازت سے اپنی Eye brow بنوا سکتی ہے؟ (سمیع اللہ، فیصل آباد)
جواب:شوہر اگر اِجازت دے بھی دے تب بھی بیوی اپنی Eye brow نہیں بنوا سکتی کہ اللہ پاک اور اس کے رَسُول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے منع فرمایا ہے۔( )
سوال:کسی شخص پر ظلم کرنا اور رِشوت دے کر اپنے حق میں فیصلہ کروا لینا کیا یہ دُرُست ہے؟
جواب:جی نہیں ! یہ دُرُست نہیں ہے۔ اگر کسی نے جھوٹا کیس بنا کر کسی مظلوم کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا ہے تو اسے آزاد کروا دینا چاہیے۔مظلوموں کی آہیں لینا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔آج کے دور میں بعض لوگ رِشوت دے کر اپنے حق میں فیصلہ کروا لیتے ہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اصل فیصلہ مَرنے کے بعد ہو گا۔ عام لوگوں سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو پولیس والے بھی غنڈہ گردی کر رہے ہوتے ہیں ،سب نہیں کرتے لیکن جو کرتے ہیں انہیں اللہ پاک سے ڈرنا چاہیے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ جس جس کا پیسا لوٹا ہے، ظلم کیا ہے یا دھمکیاں دی ہیں ان سب سے مُعافی تلافی کر لے، وگرنہ قبر میں اللہ پاک کے عذاب سے کون بچائے گا؟آج یہ ٹڈی دَل کا عذاب ہی بہت بڑا لگ رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ تو کچھ بھی نہیں ہے ،قبر میں سانپوں اور بچھوؤں سے بھی پالا پڑے گا تب سمجھ آئے گی کہ میں دُنیا میں غلط کام کیا کرتا تھا۔اِنسان کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میں بعد میں توبہ کر لوں گا بلکہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے فوراً توبہ کر کے اپنے رَب کو راضی کر لینا چاہیے۔اگر رَب راضی ہو گا تو ٹڈی دَل کا عذاب بھی رَحمت بن جائے گا اور کھیتی پھر سے ایسی سرسبز و شاداب ہو جائے گی کہ لوگ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔
سوال:کیا چیزوں میں ملاوٹ کرنا ، دھوکا دہی سے کام لینا اور سود کا لین دین کرنا گناہ کے کام ہیں؟
جواب:جی ہاں! یہ سب گناہ کے کام ہیں۔مسلمان کو چاہیے کہ چیزوں میں ملاوٹ کر کے لوگوں کو فروخت کرنا ، رِشوت اور سود کا آپس میں لین دین کرنا سب چھوڑ دیں پھر دیکھیں کہ اللہ پاک کی رَحمت کیسے چھما چھم برستی ہے۔ آج کل جس شخص کو بھی دیکھو بیماری لیے پھر رہا ہے۔ اگر کوئی اَرب پتی ہے تو وہ بھی اِس فکر میں مبتلا ہے کہ اس کے مَرنے کے بعد ساری جائیداد کا وارث کون ہو گا؟ آج ہر شخص کسی نہ کسی آفت و پریشانی میں مبتلا ہے ۔سب کو اللہ پاک کی طرف رُجوع کرنا چاہیے اِسی میں عافیت ہے۔
سوال:بسااوقات دکاندار نئے گلاس کو اِستعمال کر کے واپس اسی جگہ پر رکھ دیتے ہیں اور وہی گلاس اپنے گاہک کو نئی چیز کی قیمت پر فروخت کرتے ہیں کیا ایسا کرنا شرعاً دُرُست ہے؟
جواب:بہتر یہ ہے کہ دکاندار گاہک کو بتا دے کہ اس گلاس میں پانی یا شربت اِستعمال کیا جا چکا ہے پھر ہم نے صاف کر کے اسے ڈبے میں ڈالا ہے،اِس طرح کہنے سے مال فروخت کرنے میں دھوکا نہیں کہلائے گا۔اب گاہک کی مَرضی ہے کہ وہ اس گلاس کو لے یا نہ لے۔ چیزیں فروخت کرنے میں دھوکا نہیں دینا چاہیئے۔ بہت سے دکاندار اچھے ہوتے ہیں وہ اپنے برتنے کی چیزیں الگ رکھتے ہیں اور گاہک کو کَھرا مال فروخت کرتے ہیں۔پُرانی چیز کو نیا کہہ کر فروخت کرنا اور قیمت بھی نئی چیز کی لینا یہ دھوکا ہے۔
سوال:کیا حطیم کعبہ میں داخل ہے؟
جواب:جی ہاں! حطیمِ کعبہ بھی کعبہ میں داخل ہے۔( ) لوگ طواف کرتے ہوئے اس میں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ دَراصل حطیمِ کعبہ میں جانے سے وہاں کی پولیس روک رہی ہوتی ہے تو لوگ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ شاید یہ کوئی اور مقدس مقام ہے جس کی وجہ سے یہ روک رہے ہیں۔
قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ****
کتاب کا نام مصنف/مؤلف/متوفیٰ مطبوعات
تفسیر خازن علامہ علاء الدین علی بن محمدبغدادی، متوفی۷۴۱ھ المطبعۃ المیمنیہ مصر۱۳۱۷ھ
تفسير در منثور امام ابو الفضل جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابو بکر سیوطی، متوفی۹۱۱ھ دار الفکر بیروت۱۴۰۳ھ
تفسیرنعیمی حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور
بخاری امام ابو عبدُ اللہ محمد بن اسماعیل بخاری،متوفی۲۵۶ھ دار الکتب العلميۃ بیروت ۱۴۱۹ھ
مسلم امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری، متوفی۲۶۱ھ دارالکتاب العربی بیروت۱۴۲۷ھ
ترمذی امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی، متوفی۲۷۹ھ دار الفکر بیروت۱۴۱۴ھ
ابو داود امام ابو داود سلیمان بن اشعث سجستانی، متوفی۲۷۵ھ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ھ
المسند امام احمد بن محمد بن حنبل، متوفی۲۴۱ھ دار الفکربیروت۱۴۱۴ھ
معجم کبیر امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی، متوفی۳۶۰ھ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۲ھ
شعب الایمان امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بیہقی، متوفی۴۵۸ھ دار الکتب العلميۃ بیروت ۱۴۲۱ھ
کنز العمال علامہ علی متقی بن حسام الدین ہندی برہان پوری،متوفی۹۷۵ھ دار الکتب العلميۃ بیروت ۱۴۱۹ھ
حلية الاولیاء حافظ ابو نعیم احمد بن عبدُ اللہ اصفہانی شافعی، متوفی۴۳۰ھ دار الکتب العلميۃ بیروت ۱۴۱۹ھ
البدور السافرة جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابو بکر سیوطی، متوفی۹۱۱ھ موسسۃ الکتب الثقافیۃ
حیاة الحیوان الکبریٰ کمال الدین محمد بن موسیٰ دمیری ،متوفی۸۰۸ھ دارالکتب العلمیہ بیروت
مراٰة المناجیح حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور
رد المحتار سید محمد امین ابن عابدین شامی،متوفی۱۲۵۲ھ دارالمعرفۃ بیروت۱۴۲۰ھ
الفتاوی الفقھیة الكبری امام احمد بن حجر مکی ہیتمی شافعی،متوفی ۹۷۳ھ دار الکتب العلمیہ بیروت
فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ رضا فاؤنڈیشن لاہور۱۴۲۷ھ
رفیق الحرمین امیر اہل سنت علامہ مولانا محمدالیاس عطارقادری رضوی مکتبۃ المدینہ کراچی