30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر راضی نہیں کہ جس نے تجھ سے تعلّق جوڑا میں اس سے تعلّق جوڑوں گا اور جس نے تجھ سے تعلّق ختم کیا میں بھی اس کے تعلّق کو کاٹ دوں گا۔ رشتے داری نےعرض کی:اے اللہ ! میں اس پر راضی ہوں۔ یہ بیان فرمانے کےبعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت فرمائی:
فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲) (پ26، محمد:22)
ترجمۂ کنزُالایمان : ”تو کیا تمہارے یہ لچھن (انداز)نظر آتے ہیں کہ اگر
تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فسا دپھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو ۔“
(بخاری،4/97، حدیث:5987 مفہوماً)
اے اپنے ماں باپ سے روٹھنےوالو!اے اپنے بھائیوں سے لڑنے والو!اے اپنی بہنوں سے رشتہ توڑنے والو!اے اپنی خالاؤں،ماموؤں اور چچاؤں سے رشتہ ختم کرنے والو! اللہ پاک کے سچے کلام پر اچھی طرح غور کرو کہ اللہ پاک رشتہ کاٹنے والوں پر کس قدر غَضَب ناک ہے!یاد رکھو! رشتہ داریاں کاٹنا بہت سخت گناہ ہے لہٰذا اگر کسی کی ماں باپ اور بہن بھائیوں سے رشتہ داری کَٹی ہوئی ہو تو اسے چاہئے کہ فوری طور پر اس سلسلے کو ختم کرے اور اُن سے صُلْح کر لے۔
دنیا اور آخرت میں عذاب
تاجدارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: بغاوت اور قطعِ رِحمی (یعنی رشتے داری کاٹنا) دو ایسے گناہ ہیں جن پر دنیا اور آخرت میں عذاب دیا جاتا ہے۔
( ترمذی ،4/229،حدیث:2519 )
جنّت سے محرومی
ایک روایت میں ہے : رشتے داری کاٹنے والا جنّت میں نہیں جائے گا۔
(مسلم، ص1062،حدیث: 6520)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع