30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رشتہ داروں سے قطعِ رِحمی سے پیش آتا ہو تو اس کا انجام بہت خوفناک ہوسکتا ہے۔ آج کل کسی کی اپنی ماں سے نہیں بنتی تو کسی کی باپ سے، کوئی اپنی بہن سے بگاڑ کر بیٹھا ہے تو کوئی بھائی سے، کوئی خالہ اور ماموں سے لڑ جھگڑ کر بیٹھا ہے تو کوئی چچا سے، اَلغرض بہت سے لوگ قطع رحمی کا شکار ہیں۔ ہاں!اگر کسی جائز وجہ سے آپس میں ناراضی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں مثلاً ماں باپ اس لیے بیٹے سے ناراض ہیں کہ داڑھی کیوں رکھی ہے؟ تو ایسی صورت میں چاہے ماں باپ ناراض ہوں ان کی ناجائز ڈیمانڈ پوری نہیں کی جائے گی۔
یاد رکھیے! جہاں اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا حکم موجود ہو وہاں اس کے مقابلے میں والدین کا حکم نہیں مانا جائے گا۔ اللہ پاک نے ہمیں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اِطاعت کا حکم دیا ہے اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا ہے: مونچھیں خُوب پَسْت کرو اور داڑھیوں کو معافی دو، یہودیوں کی سی صورت نہ بناؤ۔ ( مسلم، ص125،حدیث:602-603ملتقطاً) دیکھیے! جب داڑھی رکھنے کے حوالے سے اللہ پاک کے پیارے رَسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا واضح حکم موجود ہے تو اب ماں باپ سے پوچھنے کی حاجت نہیں۔ ہاں!جہاں شریعت نے ماں باپ سے پوچھنے کی اِجازت دی ہےوہاں اُن سے پوچھ لیا جائے مثلاً نفلی حج یا عمرہ کرنے کے لئے جانا ہو تو والدین سے پوچھ لیا جائے اگر وہ منع کریں تو رُک جائیں۔ یہ مسئلہ بھی ذہن نشین کر لیجئے کہ اگر کسی پر حج فرض ہو جائے تو اگرچہ ماں باپ اجازت نہ دیں تب بھی حج کرنا ہوگا۔ (فتاوی رضویہ،10/658) اور اگر والدین کے منع کرنے کی وجہ سے کوئی فرض حج کی ادائیگی سے رُک گیا تو وہ گناہ گار ہوگا۔ بہرحال شریعت کے حکم کے مقابلے میں والدین اور رشتے داروں کا حکم نہیں مانا جائے گا البتّہ اگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع