30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے کنارے کھڑے ہوکر اُسے یوں پکارنا :اے فلاں کی روح! تو اس کی روح تجھ سے کلام کرے گی۔
وہ بزرگ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے یمن کا سفر اِختیار کیا اور آدھی رات کے وقت ”بَرہُوت“ نامی کنوئیں کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہاں میں نے دیکھا کہ دو شخصوں کو لاکر اس کنوئیں میں اُتارا گیا، دونوں رو رہے تھے، ایک نے دوسرے سے پوچھا: تُو کون ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا: میں اس ظالم شخص کی روح ہوں جو دنیا میں بادشاہ کا پَہْرے دار تھا اور حرام کھاتا تھا، مَلَکُ الموت علیہ السّلام نے مجھے اس کنوئیں میں پھینک دیا اور اب مجھے عذاب دیا جاتا رہے گا۔ دوسرے نے کہا:میں عبدالملک بن مَروان کی روح ہوں جو نافرمان اور ظالم شخص تھا اور اب مجھے اس کنوئیں میں عذاب دینے کے لیے لایا گیا ہے۔ جب میں نے ان دونوں کی چیخ وپکار سُنی تو گھبراہٹ کی شدّت سے میرے بدن کے رَونگٹے کھڑے ہو گئے پھر میں نے اس کنوئیں میں جھانک کر بلند آواز سے پکارا: اے فلاں!تو اس شخص کی آواز آئی : ” لَبَّیْکَ “ (یعنی میں حاضرہوں ) اور وہ اس حالت میں تھاکہ اسے عذاب دیتے ہوئے ماراپیٹا جا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: اے میرے بھائی! وہ امانت کہاں ہے جو میں نے تیرے پاس رکھوائی تھی؟ اس نے جواب دیا: وہ امانت فلاں جگہ فلاں زِینے کے نیچے مدفون ہے ۔ پھر میں نے پوچھا: اے میرے بھائی!کس گناہ کے سبب تجھے بدبختوں کے مقام پر لایا گیا؟ اس نے جواب دیا: میری بہن کے سبب ،اس لئے کہ میری ایک غریب بہن مجھ سے کہیں دور سرزمینِ عَجَم پر رہتی تھی، میں اس کی پرواہ کئے بغیر اللہ پاک کی عبادت میں مشغول ہو گیا تھا اور مکۂ مکرمہ میں رہنے لگا تھا اور اس مُدَّت میں نہ مجھے اس کی کوئی فکر ہوئی اور نہ میں نے اس کے بارے میں (کسی آنے والے سے) کچھ پوچھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع