30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قرآنِ پاک کی تلاوت کیا کرتا تھا۔عرصۂ دراز تک اس کا یہی معمول رہا۔ ایک بار میں نے اسے کچھ سونا بطورِ اَمانت دیا اور خود یمن چلا گیا۔جب واپس لوٹا تو اتفاق سے اس نیک شخص کا انتقال ہو چکا تھالہٰذا میں اس کی اولاد کے پاس پہنچا اور سارا ماجرہ سُنا کر اپنی امانت کی واپسی کا مطالبہ کیا، انہوں نے جواب دیا:خدا کی قسم!تم جو کہتے ہو ہمیں اس کی کچھ خبر نہیں اور نہ ہمیں تمہاری امانت کا علم ہے۔ اس طرح کی گفتگو سُن کر میں بڑا پریشان ہوا کہ افسوس! میرا اِتنا سارا مال ضائع ہو گیا۔ اسی پریشانی کے عالَم میں میری ملاقات سیّدنا مالک بن دِینار رحمۃُ اللہ علیہ سے ہو ئی تو انہوں نے مجھ پر غم کے آثار دیکھ کر پوچھا :اے میرے بھائی! اتنے غمگین اور پریشان کیوں ہو؟ میں نے اُنہیں اپنا سارا ماجرہ کہہ سنایا تو انہوں نے فرمایا: جمعہ کو آدھی رات کے وقت مَطَاف (یعنی طواف کی جگہ)میں کوئی نہ ہو تو تم رُکن و مَقام (یعنی رکنِ یمانی اور مَقامِ ابراہیم) کے درمیان کھڑے ہو کر باآوازِ بلند پکارنا،اے فلاں!تو اگر واقعی وہ اللہ پاک کا مقبول وصالح بندہ ہوا تو اس کی روح تجھ سے کلام کرے گی ۔
وہ بزرگ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے حسبِ اِرشاد شبِ جمعہ کو آدھی رات کے وقت جب مَطَاف خالی ہوگیا مقامِ ابراہیم اور رُکنِ یمانی کے درمیان کھڑے ہوکر بلند آواز سے اُسے پکارا لیکن کوئی جواب نہ ملا اور میں مایوس ہوکر واپس لوٹ آیا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے سیّدنا مالک بن دِینار رحمۃُ اللہ علیہ کو بتایا کہ میں نے اُسے پُکارا لیکن مجھے کوئی جواب نہ ملا۔ یہ سُن کر سیدنا مالک بن دینار رحمۃُ اللہ علیہ نے ” اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْن “ پڑھا اور مجھ سے اِرشاد فرمایا: اَفسوس! وہ شخص نیک لوگوں میں سے نہیں تھا لیکن اب تم ایسا کرو کہ یمن چلے جاؤ، وہاں فلاں مقام پر ”بَرہُوت“ نامی ایک کُنواں ہے جس میں عذاب دیئے جانے وا لو ں کی روحیں جمع ہوتی ہیں اور وہ کنواں جہنّم کے مُنہ پر ہے،تم آدھی رات کے وقت اُس کنوئیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع