30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!پتا چلا جو رشتہ دار ہم سے نفرت کرتا ہے اُسے کچھ عطا کرنا سب سے بہترین صدقہ ہےلیکن جو ہماری تعریف، خوشامد اور وَاہ وا ہ کرے ہم اُسے تو نوازتے رہتے ہیں اور جو ہماری توہین کرتا اور مذاق اُڑاتا ہے اس سے مُنہ موڑ لیتے ہیں۔
قِیامت کے روز حساب میں آسانی
پیارے آقا، مَکّی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا: جس میں تین صفات پائی جائیں گی قِیامت کے روز اس کا حساب اِنتہائی آسان ہو گا اور اس کا ٹھکانہ جنّت ہو گا ۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ م نے عرض کی: یَا رَسُولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! وہ تین صفتیں کون سی ہیں؟ اِرشاد فرمایا: جو تجھے محروم رکھے تُو اسے دیئے جا، جو تجھ سے تعلق توڑے تُو اس سے جوڑے جا اور جو تجھ پرظلم کرے تُو اُسے معاف کرتا رہے۔
(مستدرک، 3/362، حدیث: 3968ملتقطاً )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! رشتے داری کاٹنا حرام ہے۔اگر کوئی رشتے دار ہم سے تعلق توڑے تب بھی ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم اس سے تعلق جوڑیں۔اگر ہم کوشش کے باوجود اپنی زندگی میں کسی ٹوٹے ہوئے رشتے کو جوڑنے میں ناکام رہ جائیں تو ہماری محنت ضائع نہیں ہوگی کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہمسے راضی ہوجائیں گے اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے۔ یاد رکھیے! اگرچہ سارا زمانہ ہم سے روٹھ جائے لیکن رَبِّ کریم راضی ہوجائے تو خیر ہی خیر ہے۔ اگر کسی رشتے دار سے تعلّق رکھنا ہو تو محض اللہ پاک کی رِضا کے لئے رکھیں اور اگر کسی رشتے دار میں کوئی خرابی ہو تو اس کی صُحبت سے بچیں، اس کے بُرےفِعْل سے نفرت کریں اور اس میں جو بُرائی پائی جاتی ہے صرف اُسے بُرا سمجھیں مگر اس کی ذات سے بِگاڑ پیدا نہ کریں مثلاً کوئی دَاڑھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع