30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرکت کرنے والے اسلامی بھائی اگرگھر میں ادب والا اَنداز اَپنائیں گے تو ان کی ” والدہ “ دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے متأ ثّر ہوں گی اور دوسروں سے کہیں گی :میرا بیٹا اچھی جگہ جاتا ہے کیونکہ پہلے وہ مجھ سے ” تُو “ کہہ کر بات چیت کرتا تھا اور اب ” آپ “کہہ کر بات چیت کرتا ہے ، پہلے جب میں اُسے کسی کام کے لیے بلاتی تھی تو کہتا تھا ”ہاں آتا ہوں “اور اب ”جی اَمی ابھی حاضر ہوتا ہوں “جیسے ادب والے الفاظ سے جواب دیتا ہے۔ دیکھیے! جب والدہ سنّتوں بھرے اجتماعات میں شریک ہونے والے بیٹے کا حُسنِ اخلاق اور بات چیت کرنے کا بہترین اَنداز دیکھے گی تو وہ اپنے دوسرے بیٹے سے کہے گی :بیٹا! جب سے تمہارا بھائی دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں شریک ہونے لگا ہے ما شاءَ اللہ اچھے سلیقے سے بات چیت کرتا ہے لہٰذا اَب تم بھی شریک ہوا کر و۔ بہرحال اگر گَھر میں حُسنِ اخلاق اپنا یا جائے تو اِن شاءَ اللہ گھر کا ماحول اچھا ہوگا اور بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔
اَولاد کو دینی ماحول سے دُور رکھنے کی ایک وجہ
بعض جذباتی اسلامی بھائی جب کچھ سُنَّتیں سِیکھ لیتے ہیں تو زبردستی اپنے ماں باپ کو اُن پر عمل کروانے کی کوشش کرتے ہیں ،بعض اوقات اس وجہ سے بھی ماں باپ اپنی اولاد کو دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے دُور رکھتے ہیں۔ایسے اسلامی بھائیوں سے عرض ہے کہ دیکھیے! کسی بات پر عمل کرنے کا ذہن آہستہ آہستہ بنتا ہے،آپ اتنے عرصے تک اجتماعات میں آتے رہے اور مُبلِّغین آیتیں اور حدیثیں سُنا سُنا کر آپ کو سمجھاتے رہے پھر کہیں جا کر رَفتہ رَفتہ آپ کا سُنّتوں پر عمل کرنے کا ذہن بنا،اب اگر آپ ایک دم ماں باپ سے سُنّتوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کریں گے تو وہ نہیں کر پائیں گے۔
اگر آپ ماں باپ کو کچھ سمجھانا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ انہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع