30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!دُعائیں قبول نہ ہونے کے بہت سے اَسباب میں سے ایک سبب رِشتے داریاں کاٹنا بھی ہے،آج بہت سے لوگ رشتے داری ختم کیے ہوئے ہیں اور انہیں اس کا کوئی احساس نہیں بلکہ سِتَم بالا ئے ستم یہ کہ معاشرے میں اس کو گُناہ ہی نہیں سمجھا جاتا حالانکہ رشتے داری کاٹ دینا سخت گناہ ہے۔بعض لوگ نماز یں پڑھتے،نفلی روزے رکھتے، تہجد پڑھتے،قرآن ِ پاک کی تلاوت کرتے، چہرے پر داڑھی اور سر پر عِمامہ شریف سجاتے اور زُلفیں رکھتے ہیں مگر اُنہوں نے خاندان میں خوب لڑائی مچائی ہوتی ہے۔اسی طرح بعض لوگ ماں باپ کے سامنے” تُو تُو، میں میں“ کرتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتے،ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہوئے اُنہیں شرم محسوس نہیں ہوتی ، باپ کو جھاڑتے ہوئے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ غلَط کر رہے ہیں،اگر باپ کسی محفل میں آئے تو اُس سے دُور بھاگتے ہیں اور دوست آئے تو اُسے خوش آمدید کہتے اور اُس سے ہنس ہنس کر میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں، ایسوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ماں باپ کا دل دُکھانا سخت کبیرہ گناہ ہے۔عاشقانِ رسول کی دینی تنظیم دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں شریک ہونے والے بَعض اَفراد جب والدین کے ساتھ اِس طرح کا انداز اَپناتے ہیں تو وہ گُناہ گار ہونے کے ساتھ ساتھ دعوتِ اسلامی والوں کو بُرا بَھلا کہلوائے جانے کا سبب بھی بنتے ہیں۔
اگر آپ کل تک ماں سے ” تُو“ کہہ کر بات چیت کرتے تھے تو اب ” آپ “کہہ کر بات چیت کیا کریں۔دیکھیے!” تُو“ کی جگہ ”آپ “کہنے سے نہ تو زبان پر چھالے ہوتے ہیں اور نہ ہی دیر لگتی ہے۔جہاں دوست کو مُتأثِّر کرنے کے لیے ”آپ،جناب“ کہہ کر جعلی اخلاق کا مُظاہَرہ کیا جاتا ہے وہیں اگر ماں سے ”آپ “ کہہ کر بات چیت کی جائے تو اس کا دل خوش ہوجائے گا۔عاشقانِ رسول کی دینی تنظیم دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع