30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یا ”آپ نے فلاں جگہ ہمیں جھاڑ دیا تھا “وغیرہ وغیرہ۔ یاد رکھیے! اگر صُلح کرتے وقت اس طرح کے شِکوے لے کر بیٹھیں گے تو ہر گز صُلح نہیں ہو پائے گی ۔
اے عاشقانِ رسول ! رشتے داری کاٹنے کی دو مزید وعیدیں ملاحظہ کیجئے : چنانچہ
قاطع ِرحم ہماری محفل سے اُٹھ جائے
ایک بار حضرتِ ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اَحادیث سُنا رہے تھے تو اِرشاد فرمایا:ہر قاطعِ رِحْم ہماری محفل سے اُٹھ جائے۔ایک جوان اُٹھ کر اپنی پھوپھی کے ہاں گیا جس سے اُس کا دوسال پرانا جھگڑا تھا،جب دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوگئے تو اس جوان سے پھوپھی نے کہا: تم جاکر اس کا سبب پوچھو، آخر ایسا کیوں ہوا؟(یعنی سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ کے اعلان کی کیا حکمت ہے؟)حضرتِ ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سُنا ہے،آپ نے فرمایا: جس قوم میں قاطِعِ رِحْم ہو، اس پر اللہ پاک کی رحمت کا نزول نہیں ہوتا۔
( الادب المفرد، ص26،حدیث:61-63ملتقطاً )
رِشتے توڑنے والے کی موجودگی میں رَحمت نہیں اُترتی
سیّدنا اَعْمش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صُبح حضرتِ اِبن مسعود رضی اللہ عنہ محفل میں تشریف فرما تھے تو آپ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ایسا شخص جو کسی سے رِشتے داری کاٹ کر بیٹھا ہو میں اُسے اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ وہ ہماری اس مجلس سے چلا جائے تاکہ ہم اللہ پاک سے مغفرت کی دُعا کریں کیونکہ جب تک وہ بیٹھا رہے گا اس وقت تک ہم پر اللہ پاک کی رحمت کے دروازے بند رہیں گے۔
(معجم کبیر، 9/158،حدیث:8793)
(یعنی اگر وہ یہاں موجود رہے گا تو ہماری دُعا قبول نہ ہو گی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع